اداریہ:مولانا سمیع الحق کو کیسے یاد کیا جائے؟

 

آسیہ بی بی کیس پہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جب پورے ملک کو مٹھی بھر مذہبی انتہا پسندوں نے لاک ڈاؤن کررکھا تھا تو اس دوران کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ مولانا سمیع الحق اپنے ہی گھر میں کسی کی انتہائی طیش میں چلائی گئی چھریوں کا نشانہ بن کر اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے۔ لیکن بہرحال وہ قتل ہوہی گئے۔

ان کے قتل پہ پاکستان کی ریاست کے تین بڑے عہدوں پہ فائز افراد نے ان کی موت کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ وزیراعظم اور صدر تو ایسی پارٹی سے ہیں جو مولانا سمیع الحق کی اتحادی اور ان کے ادارے کو بھاری امداد دلوانے والی تھی۔ جبکہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ کی جانب سے مولانا سمیع الحق کے قتل پہ تعزیت اور یہ کہنا کہ ان کی عظیم خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا،اس بات کا اعادہ تھا کہ پاکستانی مسلح افواج میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں بنائے گئے سٹرٹیجک پارٹنر کی اہمیت و افادیت اب بھی برقرار ہے یا وہ شراکت دار اب اتنے مضبوط ہیں کہ ان سے تضاد میں آنے کے باوجود بھی ان کے بارے میں کوئی حرف تنقید زباں سے ادا کرنا خلاف حکمت و مصلحت نظر آتا ہے۔

پاکستان کی وہ تمام سیاسی جماعتیں جو اپنے آپ کو افغان جہاد اور سی آئی اے کے فنڈڈ پروجیکٹ کا خود کو حصّہ نہیں گردانتیں ان کی مرکزی قیادت نے بھی مولانا سمیع الحق کی شان بیان کرنے میں پیچھے رہنا مناسب خیال نہ کیا۔

پاکستان کے مین سٹریم میڈیا اور اس سے وابستہ بڑے بڑے ناموں نے مولانا سمیع الحق کی عظمت بیان کی اور ان کو ‘شہید’ لکھا۔

لیکن سوشل میڈیا پہ بہرحال اتنی جگہ موجود تھی اور ہے کہ کئی ایک لوگوں نے مولانا سمیع الحق کے بطور سیاست دان اور بطور ایک مذہبی معلم کے کردار کو معروضی مگر سنگین حقائق کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی۔

مولانا سمیع الحق دیوبندی فرقے کے ان عالموں میں شمار کیے جاسکتے ہیں جنھوں نے اپنے مدرسے، اپنے شاگردوں اور اپنے سے عقیدت رکھنے والوں کو انیس سو اسّی میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے افغانستان میں قائم سوشلسٹ حکومت کو گرانے کے لیے شروع ہونے والی پراکسی جنگ کا مکمل طور پہ حصّہ بنایا۔ اور وہ ان دیوبندی عالموں میں بھی شمار کیے جانے بنتےہیں جنھوں نے پاکستان کی 6 قبائلی ایجنسیوں میں قائم 584 مدارس میں سے 569 دیوبندی مدارس کو مکمل طور پہ ریڈیکلائز کیا اور حقانی نیٹ ورک کے مولوی جلال حقانی کو پاک-افغان سرحد کے ساتھ اور جنوبی و شمالی وزیرستان میں ریڈکل مدارس کے قیام میں پوری پوری مدد فراہم کی۔

مولانا سمیع الحق 80ء کی دہائی سے لیکر تادم تحریر طالبانائزیشن کے حامی تھے۔ وہ پاکستان کے اندر سعودی وہابی طرز کے جہاد ازم کے بڑے مبلغین میں شامل تھے۔ اور پاکستان میں بدلی ہوئی شکل کی ریڈیکل دیوبندی ازم کی تشکیل میں ان کا کردار بہت اہمیت کا حامل تھا۔

مولانا سمیع الحق کا مدرسہ نائن الیون کے بعد بھی ایسے لوگوں کی آمجگاہ بنا رہا جنھوں نے افغانستان،پاکستان،بھارت،سنٹرل ایشیا، شام اور عراق میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا اور یہاں تک کہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے ذمہ داران نے بھی اس قتل کی منصوبہ بندی اکوڑہ خٹک میں ہی کی تھی۔

مولانا سمیع الحق پاکستان میں مذہبی دایاں بازو کی اقلیت دشمن سوچ کی ہمیشہ سرپرستی کرتے رہے۔ ان کی آخری تقریر بھی اسی سوچ کی عکاس تھی۔

ایک ایسا مذہبی رہنماء جس نے کبھی افغانستان میں جہاد اور مذہب کے نام پہ امریکی بلاک کا آلہ کار بننے اور سعودی عرب کی جہادی وہابیت سے دیوبندی فرقے کے لوگوں کے ذہنوں کو ژولیدہ کرنے پہ کبھی ملال اور افسوس نہ کیا ہو اس کو ایک روادار اور صلح کلیت کا حامل فرد کیسے اپنا آدرشی فرد قرار دے سکتا ہے۔

مولانا سمیع الحق ان دیوبندی علماء میں شمار کیے جائیں گے جنھوں نے دیوبند مدرسہ کی اعتدال پسند روایت کو ترک کرکے اس مدرسہ کے اندر ہمیشہ اقلیت میں رہنے والے مائل بہ وہابیت گروہ کی ریڈیکلائزیشن کو اپنایا اور اس کی سب سے بڑی وجہ مالی و سماجی قوت کا حصول تھا۔ پاکستانی سماج میں آج جتنی شدت پسندی ہے اس میں مولانا سمیع الحق بھی حصّہ دار تھے۔ اور ایسے حصّہ دار کے ان کے کردار سے نجانے کب تک پاکستانی سماج شدت پسندوں سے نبردآزما رہے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here