نوٹ: سید کاشف رضا کراچی میں مقیم شاعر و ادیب ہیں۔ ان کی نظموں کی ایک کتاب چھپ چکی ہے اور ایک ناول ‘چہار درویش اور ایک کچھوا ‘ کے نام سے شایع ہوا ہے۔ ایسٹرن ٹائمز نے معاصر ادبی و سماجی صورت حال پہ ان سے خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا۔ وہ اپنے خیال و فکر کے اعتبار سے لبرل ڈیموکریٹ ادیب کہے جاسکتے ہیں۔ وہ سیاسی اعتبار سے بھی خود کو غیرجانبدار خیال نہیں کرتے اور نہ ہی زبردستی ادب کو ‘ادب برائے ادب’ بنائے رکھنے کے قائل ہیں۔

ای ٹی: آپ کو ناول لکھنے کا خیال کیسے آیا؟

سید کاشف رضا: میں پہلے شاعری کی طرف متوجہ تھا۔ اور شاعری میں چیزیں کچھ زیادہ جم کر نہیں لکھیں جاتیں مگر فکشن میں معاملہ کچھ مختلف تھا۔ تو میں کرتا شاعری تھا لیکن پڑھتا فکشن زیادہ تھا۔مجھ سے آپ نے جو سوال کیا اس کی بجائے یہ بہتر ہوتا کہ مجھ سےآپ پوچھتے کہ میں نے پہلے ناول کیوں نہیں لکھا؟ اصل میں ہماری سیاسی سماجی حالت تھی جس نے ایک مخصوص مقام پہ مجھے ناول لکھنے کی تحریک دی کیونکہ اس صورت حال کا بیان مجھے شاعری میں ناممکن سا لگ رہا تھا تو میں نے ان کے بیان کے لیے فکشن کا سہارا لے لیا۔لیکن میرا ناول لکھنے کا فیصلہ صرف ہماری سیاسی –سماجی صورت حال کے سبب نہیں تھا بلکہ اس مین میری اپنی شخصی اور ارد گرد کی صورت حال کا بھی بہت ہاتھ تھا۔ فکشن میں بیک وقت آپ کئی سطحوں پہ بات کرسکتے ہیں۔ یہ مجھے بڑا پسند ہے۔ شاعری میں بھی میں ایک صورت حال کو میں کئی حالتوں میں بیان کرتا رہا لیکن فکشن میں یہ کام جیسے کیا جاسکتا ہے وہ مجھے کافی پسند آیا۔تو بس ایسے ہی ناول لکھا گیا۔

ای ٹی: آپ نے بتایا تھا کہ آپ جنرل ضیاء الحق کے دور میں لڑکپن سے گزر رہے تھے اور ائرفورس کے بیس میں مقیم تھے۔ تو اس زمانے میں جو سرد جنگ کا آخری دور ہے اور پھر نائن الیون ہوا اور معاملہ آج جہاں پہنچا ہے اس میں آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟

سید کاشف رضا: میری نوجوانی اور جوانی کا زیادہ حصّہ تو 90ء کی دہائی میں گزرا۔تو ضیاء الحق کے زمانے میں جو گھٹن تھی اس کا مجھے زیادہ اندازہ نہیں ہے لیکن جنرل مشرف کے دور آمریت اور آج کے دور میں مجھے زیادہ فرق نظر نہیں آتا۔اور سنسر شپ آج بلکہ زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے۔میڈیا کے لیے آج کے دور میں اور زیادہ برا ہوگئی ہے۔ایک طرف صحافیوں کو نکالا جارہا ہے تو دوسری جانب اخبارات اور چینل بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ تو ایسے ماحول میں فکشن آپ کو بات کہنے کے نئے ڈھنگ سکھاتا ہے۔ جیسے دیگر ممالک اور معاشرے ہماری جیسی بلکہ ہم سے بھی کہیں زیادہ بری صورت حال کا شکار ہوئے اور براہ راست بات کہنا مشکل ہوگیا تو فکشن کے زریعے وہاں کے ادیبوں نے بات کرنے کی نئی طرز نکالی۔

ای ٹی: آپ بھی تو ایک میڈیا گروپ میں ملازم ہیں۔ بلکہ ایک ایسے میڈیا گروپ میں ملازمت کرتے ہیں،جس کے مالکان اور صحافیوں کی جانب سے یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ اس کے ٹی وی چینل اور اخبارات کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ کیا آپ کو ذاتی طور پہ کام کے دوران کوئی گمنام کال موصول ہوئی یا ‘خلائی مخلوق’ کا دباؤ برداشت کرنا پڑا؟

سید کاشف رضا: مجھے براہ راست تو کبھی کوئی کال یا حکم موصول نہیں ہوا۔ دباؤ براہ راست نہیں ڈالا گیا۔ لیکن میں جس ادارے میں کام کرتا ہوں اس میں ہمیں بار بار بتایا جاتا ہے کہ کون سے معاملات ہیں جن پہ لکھتے ہوئے ہمیں احتیاط کرنا ہے اور کیا چیز ہے جسے آن آئر نہ کیا جائے۔ ایک بات طے ہے اس دور میں مشرف دور سے کہیں زیادہ سنسر شپ اور میڈیا کنٹرولڈ ہے۔

ای ٹی: آپ کا ناول ‘چہار درویش اور ایک کچھوا’  ادبی اور صحافتی حلقوں میں کافی زیربحث آیا ہے۔ اور سوشل میڈیا پہ تو اس پہ کافی تبصرے اور تنقیدی مضامین سامنے آرہے ہیں۔ اس ناول میں ‘جنسیت’ پہ کافی بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کچھ لوگوں نے تو آپ کو ‘عصر حاضر کا وھی وہانوی’ قرار دے ڈالا ہے۔ اس طرح کے تبصروں پہ آپ کا کیا نکتہ نظر ہے؟

سید کاشف رضا: میں نے ناول زیادہ تر جو پڑھے ہیں وہ  انگریزی میں پڑھے ہیں اور ان میں روسی، لاطینی امریکن، برٹش ، امریکن وغیرہ سبھی ناول شامل ہیں۔ تو وہاں اس قسم کا بیانیہ اجنبی نہیں ہے۔ اردو میں جنس کا بیان کافی ملفوف ہوتا ہے اور مجھے لگا کہ مجھے ملفوف طرز سے ہٹ کر انگریزی میں ناولوں کے اندر بیان کے طرز کی پیروی کرنی چاہئیے اور میں نے اس مشکل کو ایسے حل کیا کہ ایک کردار کچھوا کا تخلیق کیا اور وہ جنس کے اردو میں بیان پہ تنقید کرتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ اسے انگریزی میں ایسے بیان کیا جاسکتا تھا۔ اور میں نے انگریزی کے اقتباس ديے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان انگریزی کے ٹکڑوں پہ ابتک کسی نے بات نہیں کی ہے اور نہ ہی اعتراض کیا ہے۔ بہرحال ناول کی کئی سطحیں ہوتی ہیں اور میرے خیال میں ایک آدمی کو سمجھنے کے لیے اس کی جنسیت کو سمجھنا بھی ضروری ہے اور وہ معاشرے کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔ اور یہ معاشرے کے جنسی رجحانات کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ میں تو بلکہ یہ سمجھتا ہوں کہ میں معاشرے کی جنسیت کے رجحانات کو جیسے دکھانا چاہتا تھا وہ ابھی تشنہ رہ گئے ہیں۔ وہ پنجابی میں کہتے ہیں نا کہ ‘میرا تے ہلے ہاوہ ہی ٹھنڈا نئیں ہویا’۔

ای ٹی: ایک کاشف ادیب ہے، ناول نگار ہے، شاعر ہے اور بات کو بڑے تخلیقی انداز میں کہتا اور لکھتا ہے۔ ایک کاشف سوشل میڈیا پہ جذباتی اور فرسٹریشن کے ساتھ موجود ہے اور بہت تند و تیز بلکہ طنز کے نشتروں سے اپنے مخالفوں کو زخمی کرتا نظر آتا ہے۔ کیا موجودہ سیاسی حالات نے آپ کو بہت زیادہ فرسٹریٹ کیا ہے؟ اور ایک ادیب کی یہ فرسٹریشن سوشل میڈیا پہ تخلیقی روپ میں کیوں نظر نہیں آرہی؟

سید کاشف رضا: مجھے حماقتوں پہ کافی غصہ آتا ہے۔ اور میں فرسٹریٹ ہوں یا نہیں یہ اور بات ہے لیکن میں دائیں بازو کی حماقتوں کو طنز اور مقامی مزاح اور کہاوتوں سے رد کرنے کی کوشش کررہا ہوں جیسے جنرل ضیاء الحق کی امریت کو پنجابی مزاح اور طنز سے کل کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی، محمد حنیف نے بھی جنرل مشرف کو اسی پنجابی مزاح کے زریعے سے ٹف ٹائم دیا۔

ای ٹی : دنیا بھر میں ہیش ٹیگ می ٹو کی مہم جو چل رہی ہے اب اس کا پڑاؤ پاکستان میں بھی ہورہا ہے۔ اسے کیسے دیکھتے ہیں آپ؟

سید کاشف رضا: اس تحریک سے عورتوں کی امپاورمنٹ میں اور اضافہ ہوگا اور میں اسے اچھی نظر سے دیکھتا ہوں۔ لیکن اس میں یہ جو کسی کی تصویر لگا کر یا کسی کا نام لیکر پہلے الزام لگایا جائے اور ساتھ ہی ٹوئٹر اور فیس بک پہ عدالت لگالی جائے یہ درست نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ایک ایس او پی مرد و عورت کے درمیان تعلق کا یہ ہے کہ مرد ہی پہل کرے گا اور اگر عورت انکار کرے تو پھر بھی مرد ڈٹا رہے گا اور اس کی ناں کو ہاں میں بدلوائے گا کئی صورتوں میں یہ ہو بھی جاتا ہے تو اس ایس او پی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ عورت ناں کرے تو ناں ہی سمجھا جائے اورعورتوں کو بھی مرد سے تعلق کے بارے میں زیادہ پراعتماد ہونے کی ضرورت ہے۔ اور اسے آغاز، درمیان میں یا کہیں پہ بھی انکار کرنے کا حوصلہ اور اختیار ملنا چاہئیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here