فاروق سومرو حیدرآباد سے شائع ہونے والے دوسرے بڑے سندھی اخبار ‘ سندھ ایکسپریس’ کے ایڈیٹر ہیں۔وہ 11 مارچ 1969ء کو ضلع دادو کی تحصیل جوھی کے ایک گوٹھ بخشل علی رند میں مولوی والی ڈینو کے ہاں پیدا ہوئے۔میٹرک تک تعلیم جوھی میں حاصل کی۔ دادو کے ایک سرکاری ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ سے انھوں نے سول انجیئرنگ میں ڈپلومہ حاصل کیا اور پھر سندھ یونیورسٹی سے پرائیویٹ طور پہ گریجویشن کی۔

وہ اسکول کے زمانے میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی بچوں کی تنظیم ‘ ساتھی واڑا سنگت’ سے وابستہ ہوئے۔ کالج کے زمانے میں وہ کمیونسٹ پارٹی کے طلباء فرنٹ ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن۔ڈی ایس ایف کا حصہ بن گئے۔ پھر وہ سی سی پی کے ضلعی سیل دادو کے رکن رہے۔اس زمانے میں ڈی ایس ایف کے صدر امداد چانڈیو تھے اور پھر جب ڈی ایس ایف ماسکو نواز اور چین نواز دھڑوں میں تقسیم ہوگئی تو وہ ماسکو نواز دھڑے میں رہے اور اس وقت ان کے صدر کامریڈ حسن علی چانڈیو تھے۔

فاروق سومرو کمیونسٹ پارٹی کی سیاست سے 1991ء تک وابستہ رہے جب کامریڈ جام ساقی نے کمیونسٹ پارٹی کی جنرل سیکرٹری شپ سے استعفا دے دیا اور کمیونسٹ پارٹی غیرمتحرک ہوگئی تو یہ کراچی چلے آئے اور شعبہ صحافت سے وابستہ ہوگئے۔یہ 1992ء کا زمانہ تھا۔تب سے ابتک یہ شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔

ایسٹرن ٹائمز نے ان سے صحافت کے حوالے سے عمومی اور سندھی صحافت کے حوالے سے خصوصی ایک نشست رکھی۔ اس نشست میں ان سے جو گفتگو ہوئی اس کی تفصیل پڑھنے والوں کی نذر کی جارہی ہے۔(ایڈیٹر)

ای ٹی: صحافت کی طرف کیسے آئے؟

فاروق سومرو: ڈپلومہ کرنے کے بعد فارغ بیٹھا ہوا تھا۔آگے نہیں پڑھ سکتا تھا۔ ان دنوں کامریڈ جام ساقی نے کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی جنرل سیکرٹری شپ سے استعفا دے دیا تھا اور بدامنی کے خلاف انھوں نے کمّو شہید سے کراچی تک لانگ مارچ کیا تھا اور میں بھی اس لانگ مارچ میں شریک ہوا اور کراچی پہنچ گیا۔وہاں پہ جو کامریڈ تھے انھوں نے مجھے کہا کہ اگر میں آگے تعلیم حاصل نہیں کرپارہا تو مجھے روزگار تلاش کرنا چاہئیے۔ ان دنوں کراچی سے سندھی روزنامہ ‘جاگو ‘ شروع ہورہا تھا اور اس میں کچھ سامیاں خالی تھیں۔ میں نے بھی وہاں سب ایڈیٹر کے لیے اپلائی کیا۔ اخبار کے ایڈیٹر فقیر محمد لاشاری تھے۔ انھوں نے مجھے انٹرویو کے بعد نوکری دے دی۔ یوں میں صحافت میں آگیا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ عملی صحافت میں،میرا داخلہ 1992ء میں ہوا  

ای ٹی: جب آپ نے صحافت میں قدم رکھا اس وقت سندھی صحافت کہاں کھڑی تھی اور آج یہ کس جگہ پہ ہے؟

فاروق سومرو:جب میں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا تو اس وقت سندھی صحافت ایک نئی کروٹ لے رہی تھی۔ اس سے پہلے کی سندھی صحافت روایتی اور خوشامدانہ انداز کی صحافت رہی تھی۔ کسی افسر، کسی وڈیرے، کسی تعلقہ دار یا کسی مذہبی ناخدا کی شان میں قصیدوں پہ مشتمل ہوا کرتی تھی۔ سندھی صحافت میں اس سے پہلے اپوزیشن کرنے، ہاریوں اور محنت کشوں کے مسائل پہ بات کرنے اور مرکز اور صوبے کی باہمی کشاکش پہ مزاحتمی کردار کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ مزاحتمی صحافت اگر تھی وہ بائیں بازو کے جریدوں اور رسائل تک اور اخبارات تک محدود تھی۔ اس زمانے میں سوویت یونین کے ٹوٹنے سے کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے غیر فعال ہونے کے سبب بہت سے کامریڈ جو سیاست میں پوری طرح سے سرگرم تھے ان میں سے کچھ مایوس ہوگئے اور کئی ایک کو سیاست کرنے میں کوئی چارم نظر نہ آیا اور بہت سے لوگوں نے یہ خیال کیا کہ جتنا ہوسکے شعور کو میڈیا کے زریعے سے آگے پھیلایا جائے۔ ایسے میں کئی ایک کامریڈز نے سندھی صحافت میں آنے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ اس زمانے میں تین چار نئے سندھی اخبارات کا اجراء ہوا تھا۔میرے خیال میں انہی ترقی پسند سندھی صحافیوں نے عوامی سیاست کو آگے بڑھایا۔ میں نے جب صحافت شروع کی تو یہ سارے دوست وہاں جاچکے تھے اور سندھی صحافت ایک نئے رخ پہ چل پڑی تھی۔ آپ آج جہاں کہہیں جاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ سندھی جرنلزم ایک متحرک اور عوامی صحافت کا آئینہ دار ہے۔ اور میں تو کہتا ہوں کہ صحافت ہوتی ہی لبرل،پروگریسو ہے۔اور سندھی صحافت کا غالب عنصر بھی یہی ہے۔

ای ٹی: کیا سندھ میں بھی سیکورٹی کے نام پہ لوگوں سے پیسے لیکر اعزازی نمائندے رکھے جاتے ہیں؟

فاروق سومرو: میرے خیال میں آج سندھی اخبارات میں سیکورٹی/زر ضمانت کے نام پہ پیسے لیکر یا جیسے پرانے زمانے کی سندھی صحافت میں دیسی مکھن/گھی/شہد کے ایک ڈبے کے کو دیکر رپورٹر رکھے جاتے تھے وہ کلچر اب ختم ہوگیا ہے۔ اب سندھی اخبارات اور ٹی وی چینل میں معیار اور اہلیت جگہ پانے لگے ہیں۔ اگرچہ ضلعی سطح پہ نمائندوں کو معمولی سا اعزازیہ دیا جاتا جبکہ قصبوں اور گوٹھوں کے نمائندگان کو تو وہ بھی نہیں ملتا لیکن پھر بھی معیار اور اہلیت مانگی جاتی ہے۔ تو معیار اور اہلیت بنا تنخواہ و اعزازیہ کے یہ ہے تبدیلی آج کی سندھی صحافت میں مقامی نمائندے رکھے جانے کی۔

ای ٹی: آپ نے بتایا کہ چھے سال سے آپ ایڈیٹر ہیں اور اس سے پہلے آپ سب ایڈیٹر رہے۔ تو ایڈیٹر شپ اور سب ایڈیٹر شپ کے اس سارے عرصے میں آپ کو کسی ریاستی ادارے نے براہ راست کوئی پریس ایڈوائس دی یا کسی چیز کو سنسر کرنے یا کوئی فیک نیوز پھیلانے کو کہا؟

فاروق سومرو: نہیں مجھے ان چھے سالوں میں براہ راست کسی ریاستی ادارے سے کوئی پریس ایڈوائس نہیں آئی۔ کسی چیز کو سنسر کرنے کے لیے کسی حکومتی اہلکار کی جانب سے نہیں کہا گیا۔ لیکن آپ بھی جانتے ہیں کہ ‘انھوں’ نے اسے اوپر کی سطح پہ مینیج کرلیا ہے۔ اب وہ ڈائریکٹ ایڈیٹر سے بات نہیں کرتے بلکہ مالکان سے بات کرتے ہیں۔ مالکان کو شکایت لگاتے ہیں۔باقی مالکان چند موٹی موٹی ہدایات پالیسی میٹرز کے طور پہ دیتے ہیں اور یہ ہر ایک ادارے میں ہوتا ہے۔ اور اصل میں مالکان اپنی سائیڈ محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔ اور کچھ چیزیں اب صحافت میں قریب قریب ممنوعہ علاقہ قرار پاگئی ہیں۔

ای ٹی: آپ کا اخبار جس میڈیا گروپ سے تعلق رکھتا ہے اس کے انگریزی اخبار میں کام کرنے والی ایک نیوز ایڈیٹر نے انکشاف کیا تھا کہ جب پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کا اسلام آباد میں نواز حکومت کے خلاف دھرنا شروع ہوا تو ان کو اخبار کے ایڈیٹر نے بتایا کہ مالکان کی طرف سے لائن یہ ہے کہ عمران خان کے بیانات کو نمایاں کرکے شایع کریں لیکن تھوڑا وقت گزرا تو کہا گیا کہ طاہر القادری کے بیانات کو زیادہ نمایاں کریں۔ اس نیوز ایڈیٹر کا کہنا تھا کہ اصل میں مالکان کو یہ پالیسی ‘کہیں اور’ سے فیڈ کی جارہی تھی تو کیا آپ کو بھی اس زمانے میں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا؟

فاروق سومرو: نہیں ایسا نہیں ہوا۔ اس کی شاید ایک وجہ یہ تھی کہ عمران خان اور طاہر القادری کا جو گراؤنڈ فیلڈ تھا اس سے ہمارے سندھی اخبار کے قاری کا براہ راست کوئی لینا دینا نہیں تھا اور اس کی کوئی خاص افادیت بھی نہ بنتی تو اس زمانے میں مجھے یا ہمارے کسی اور ساتھی کو ایسی کوئی ہدائیت نہیں ملی۔اور میں ایک اور بات بھی واضح کرتا چلوں کہ ہم اپنے اخبار کی سپر لیڈ سے لیکر ذیلی سرخی تک کا فیصلہ خود کرتے ہیں۔ یہ لازم نہیں ہے کہ ہمارے میڈیا گروپ کے اردو اور انگریزی اخبار کی جو سپر لیڈ ہوگی وہی ہمارے سندھی اخبار کی ہوگی۔ آج بھی سندھ ایکسپریس کی سپر لیڈ آصف علی زرداری کے بیان پہ ہے اور انگریزی و اردو کی سپر لیڈ جو ہے وہ چیف جسٹس سپریم کورٹ ہیں۔

ای ٹی: کیا آج صحافت کا گلہ گھونٹا جارہا ہے تو کیا یہ حکومت ایجنڈا آج ہی شروع ہوا ہے؟

فاروق سومرو: یہ بحران آج سے شروع نہیں ہوا۔ یہ پرانا ایجنڈا ہے۔ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ میڈیا مالکان بھی آزاد میڈیا نہیں چاہتے۔ یہ تسلسل سے کام کیا جارہا ہے۔ اس کو آپ دو تین چیزوں کو دیکھیں۔ مالکان کو آزاد صحافی وارے نہیں کھاتے، تو حکومت اگر صحافیوں پہ ہاتھ ڈال رہی ہے تو اس سے یہ سمجھنا کہ میڈیا مالکان کو کوئی نقصان ہوگا یہ خام خیالی ہے بلکہ اس سے تو میڈیا مالکان کو فائدہ ہوگا۔ اسٹبلشمنٹ اور میڈیا مالکان آزاد صحافیوں کو قابو کرنے کے ایجنڈے پہ متفق ہیں۔پہلے ایک سازش کے زریعے اور انتہائی منصوبہ بندی کے تحت اخبارات سے ایڈیٹر کا عہدہ نمائشی اور پھر بالکل ختم کردیا گیا ہے۔ طاقتور ایڈیٹر نہ مالکان کو چاہئیے تھے اور نہ ہی اسٹبلشمنٹ کو۔ ہم سندھی اخبارات میں ایڈیٹر کے عہدے کے عملی طور پہ ختم ہوجانے کا ماتم کیا کرتے تھے اور اب ہم انگریزی اور اردو دونوں اخبارات میں یہ عہدہ ختم ہوجانے کا ماتم کررہے ہیں۔ اور انہوں نے صحافتی ٹریڈ یونین کو ختم کردیا۔ مالکان کو مکمل کنٹرول کیا اور پھر انھوں نے ایڈیٹر سے بھی اوپر ایک کنٹرول کا نظام  قائم کرلیا۔

ای ٹی: مین سٹریم میڈیا میں آج ایک بڑی تقسیم لبرل جمہوریت پسند اینٹی اسٹیبلشمنٹ صحافتی بریگیڈ اور محب الوطن اینٹی کرپشن بریگیڈ کی ہے۔آپ اس تقسیم کو کیسے دیکھتے ہیں؟ اور خود کو کہاں کھڑا پاتے ہیں؟

فاروق سومرو: یہ دونوں چیزیں نمائشی ہیں۔ ہمارے سندھی میں ایک کہاوت ہے کہ جو ماں سے زیادہ پیار کرنے کا ناٹک کرے وہ ‘ڈائن’ ہوا کرتی ہے۔ تو انھوں واقعی ایسا ہی کیا ہے۔ آج کے جمہوریت پسند یا محب وطن دونوں صحافتی کیمپ مجھے تو ڈائنوں کے کیمپ لگتے ہیں۔ یہ دونوں ڈائن ہیں جو جمہوریت پسند اور حب الوطنی دونوں کو کھارہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں لاہور گیا تو وہاں میرے کچھ پرانے ساتھیوں نے جو کمیونسٹ یا لبرل تھے وہ ‘نواز شریف’ کو ترقی پسند ،جمہوریت پسند اور لبرل کہہ رہے تھے اور میں حیران ہوکر ان کو دیکھ رہا تھا کہ نواز شریف نے ہمیشہ ہی جمہوریت دشمنی کی ہے۔میمو گیٹ سے لیکر اٹھارویں ترمیم کے دوران اس نے کوئي ایسی آئین سازی ہونے ہی نہیں دی جو جمہوریت مضبوط ہی نہیں ہوسکی۔

ای ٹی: پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے جتنی بڑی تعداد میں آج صحافیوں کو جبری طور پہ برطرف کیا جارہا ہے۔اس کی ماضی میں مثال ملنا ناممکن ہے۔اس پہ صحافتی تنظیمیں نیم گرم احتجاج بھی کررہی ہیں۔لیکن نثار عثمانی و منھاج برنا کے ادوار جیسی گرمی اور اثر دکھائی نہیں دیتا۔آپ کی نظر میں صحافتی ٹریڈ یونین کہاں کھڑی ہے؟

فاروق سومرو: آج صحافتی ٹریڈ یونین کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایک تو یہ تین گروپوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اور صحافتی ٹریڈ یونین اداروں کے اندر سے ختم ہوگئی ہے۔ اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ آج کی صحافتی تنظیمیں سرے سے ٹریڈ یونین کرہی نہیں رہیں اور وہ عملی اعتبار سے پکنک پارٹیاں بنکر رہ گئی ہیں۔ صحافتی ٹریڈ یونین کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اداروں میں جہاں صحافی کام کرتے ہیں ان کی آٹھ گھنٹے کام کرنے کی ڈیوٹی، کم از کم تنخواہوں کا تعین، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی،جبری برطرفیوں کے خلاف طاقتور مزاحتمی میکنزم کی تشکیل،مراعات اور سہولتوں میں فرق کو کم سے کم کرنا۔ لیکن یہاں ہوتا کیا ہے۔ جب حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس ہم نے دوبارہ فعال کی تو ہم نے اس وقت افضل بٹ کی موجودگی میں صحافی لیڈروں سے کہا تھا کہ وہ اداروں میں پاکٹ یونینوں کی بجائے حقیقی صحافی دوست ٹریڈ یونین سیاست کے اجراہ کی کوشش کریں اور یہ کسی ایک نامور صحافی پہ حملے یا اس کے ساتھ پیش آنے والے کسی واقعے پہ احتجاج تک محدود نہیں ہونی چاہئیے۔ آج صحافی کارکن بڑی تعداد میں اداروں سے نکالے جارہے ہیں تو اس کا سب سے بڑا قصور صحافتی تنظیموں کا ٹکڑے ٹکڑے ہونا اور ان کا ٹریڈ یونین سیاست سے ناواقف ہونا بھی ہے۔اور پھر عہدے، پرکشش مراعات اور ایجنٹی کے کلچر نے نثار عثمانی،منھاج برنا جیسے کردار اب ہمارے ہاں غائب کرڈالے ہیں۔

ای ٹی: ترقی پسند صحافت کا آج آدرش کیا بنتا ہے؟

فاروق سومرو: (ہنستے ہوئے) میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ آج ترقی پسند صحافت سرے سے موجود بھی ہے کہ نہیں؟ کیونکہ پہلے صحافت نظریاتی تھی۔ ایک دائیں بازو کا کیمپ تھا جس میں زیادہ تر جماعت اسلامی سے متاثرہ لوگ تھے اور دوسری طرف بائیں بازو کے لوگ تھے جو کمیونسٹ تحریک سے متاثر تھے۔ پھر دونوں اطراف سے ایسے لوگ سامنے آئے جنھوں نے’غیر جانبدارانہ پروفیشنل ‘ صحافت کا نعرہ لگایا اور ‘نظریات کے خاتمے’ کی بات کی اور اب اس سے بھی ایک اور قدم آگے بڑھایا گیا ہے اور صحافت ‘کمرشل ازم’ کا نام ہوگئی ہے۔ مطلب جس سے کاروبار ترقی کرے اور زیادہ سے زیادہ منافع سمیٹا جائے اسی رخ پہ صحافت کی جائے۔ اور یہی خرابی کی سب سے بڑی جڑ بنی ہوئی ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here