دیوالی پہ ایک جھلسا ہوا خط مھیش کمار کے نام

پیارے دوست مھیش کمار

لائیاں دی لجپال او یار ترے دوارے آن کھڑی
مینوں ڈگدی نوں آن سنبھالی او یار ترے دوارے آن کھڑی
لعل میری پت رکھیو بھلا جھولے لعلن
سندھڑی دا سہیون دا سخی شہباز قلندر

میں تم سے چند دن پہلے مل کر لوٹا ہوں اور میں تم سے اس ظاہری جدائی کے باوجود بھی تم سے خود کو جدا نہیں سمجھتا۔بلکہ مجھے لگتا ہے کہ فاروق-مھیش-عامر کی ایک ایسی تثلیث قائم ہوئی جو ہمارے اگلے جنموں میں بھی ختم نہیں ہوں گی۔ ہم اگر اس زمان میں اکٹھے ہیں تو اگلے زمانوں میں بھی اکٹھے ہی ہوں گے لیکن میں پراتھنا کرتا ہوں کہ اگلے جنموں میں ہمارے درمیان یہ شہروں کا فاصلہ ہے کبھی نہ ہو اور ہمارے زمان و مکان دونوں ایک ہوں اور ہم زمان مسلسل و مکان مسلسل میں اکٹھے سانس لیتے ہوں۔
میں تمہیں یہ خط 2018ء کی دیوالی کے موقعہ پہ لکھ رہا ہوں۔ دیپ والا تہوار ہے جس میں ہر طرف رنگ و نور کی بارش ہوتی ہے۔اور پھلجڑیاں صرف باہر ہی نہیں پھوٹ رہی ہوتیں بلکہ من کے اندر بھی پھلجھڑیاں پھوٹتی ہیں۔ کئی سال پہلے میں نے دیوالی کا تہوار عمرکوٹ میں منایا تھا اور وہاں میرا میزبان میرا جان جگر خوشحال پریمی تھا اور اس رات ہمارے ساتھ رام اوڈ بھی تھا اور ہم نے کافی وقت شیو کے مندر میں گزرا تھا اور خوش حال کے گھر میں گلابی رنگ سے بنے چراغوں کے نقش پہ دھرے چاندی کے چراغوں کی روشنی میں ہم بیٹھے تھے اور مجھے ایسا لگتا تھا جیسے ساری کائنات ہمارے ساتھ مل کر رقص کررہی ہے اور ہمارے اطراف میں صلح کل کا حصار ہے۔
پیارے مھیش کمار جب نسیم نگر میں اپنے فلیٹ کے ڈرائنگ روم میں تم مجھے بتارہے تھے کہ گھوٹگی کے شاہی بازار میں تم پہلے نوجوان طالب علم تھے جس نے بحالی جمہوریت کی تحریک میں جیل بھرو مہم میں سب سے پہلے گرفتاری دی تھی اور تم نے خاکی والوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا
‘میں کس چیز کی معافی مانگو اور لکھ کر دوں تمہیں معافی نامہ، تم لکھ کر دو میرے ملک پہ مارشل لاء کے اندھیروں کو مسلط کرنا بند کردوگے اور عوام کو جینے کا حق دوگے۔”
تو میں تمہاری قسمت پہ رشک کررہا تھا۔ اور اپنی خوش قسمتی پہ نازاں تھا۔ تمہیں پتا ہے کہ میں ایک شخص کو اپنا مرشد کہتا ہوں وہ بھی شاہی قلعہ کی جیل دیکھ آیا ہوا ہے اور آج تک اپنی سچ بیانی کا مزا چکھ رہا ہے۔وہ بھی صحافی ہے، ایڈیٹر ہے دی فرنٹئر پوسٹ لاہور کا مگر سرمایہ دار مالک میڈیا کا ماؤتھ آرگن نہیں ہے اور وہ بھی ‘جمہوری ڈائن’ بننے سے انکاری ہے اور وہ اینٹی کرپشن بریگیڈ میں بھی شامل نہیں ہونا چاہتا۔ اسی لیے بعض اوقات اسے سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔تم بھی اپنے کامریڈ دوستوں کا ایڈونچر ‘ڈیلی سندھ حیدرآباد’ کی گاڑی گھسیٹ گھسیٹ کر آگے لیجانے میں مصروف ہو۔
خاکی والوں کے بوٹوں اور پولیس کی لاٹھیوں سے اپنا سر لہولہان کروانے والا اور ‘قزاق کون؟’ جیسا پمفلٹ لکھنے والا محمد اعظم خان بھی میرے حلقہ احباب میں سے ہے اور مجھے اپنے سارے دوستوں پہ فخر ہے جو آج بھی آدرشی ہیں۔
ان کے آدرش علی و حسین و کبیر و نانک،بھگت سنگھ،سبھاش چندر بوس، سجاد ظہیر،حسن ناصر، پاش، نذیر عباسی، جام ساقی غلام محمد لغاری، حیدر بخش جتوئی، دادا امیر حیدر جیسے ہیں اور ان میں بھٹو کا حرف انکار، رزاق جھرنا، ادریس طوطی، اسد لالہ، ناصر بلوچ، ایاز سموں، شاہنواز بھٹو، مرتضی بھٹو جیسا عزم رواں دواں ہے اور یہ آج بھی موقعہ پرستی پہ دو حرف بھیجنے کی ہمت اور طاقت رکھتے ہیں۔
آج دیوالی کے تہوار پہ میں اپنےملک سمیت ساری دنیا میں بسنے والی ہندؤ برادری کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور مھیش تمہیں اور تمہاری ساری فیملی کو بہت بہت مبارک ہو۔
دیوالی کا تہوار ایک ایسے موقعہ پہ آیا ہے جب ہمارے ہاں داڑھی اور داڑھی کے بغیر جنونی ملائیت کا سامنا ہے تو سرحد کے اس پار آر ایس ایس کے فاشسٹوں نے اودھم مچایا ہوا ہے۔ ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے جس کا نہ تو ہندؤ مذہب سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اسلام سے اس کا کوئی لینا دینا بنتا ہے۔ یہاں ملّا مسجد اور بازار میں ڈنڈا لیکر کھڑا ہے اور لوگوں کو زبردستی خارج کرتا ہے اور وہاں فاشسٹ آر ایس ایس والے ترشول لیکر کھڑے ہیں اور اپنے سوا باقی سب کا دھرم بھرشٹ سمجھتے ہیں اور اپنے سوا سب کو ناستک جانتے ہیں۔ ہم غریب عوام ارتداد اور ناستک پن کے فتوؤں اور آمرانہ شبدوں کا شکار بن رہے ہیں۔ یہاں خاکروب، سینٹری ورکرز، کھیت مزدور مرد و عورتیں اور عقل و دانش کی باتیں کرنے والے مذہب کے لیے خطرہ بناکر پیش کیے جاتے ہیں تو وہاں کسی غریب کے فریج میں رکھے گوشت سے دھرم بھرشٹ ہونے کا راگ الاپا جاتا ہے اور اخلاق جیسے مزدور لنچنگ کا شکار ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں عارف اقبال بھٹی، جمشید نایاب، سلمان تاثیر، شہباز بھٹی، راشد الرحمان، استاد سبط جعفر، خرم ذکی، ڈاکٹر علی حیدر، مرتضی،مشعال خان بلاسفیمی کے الزام میں قتل ہوجاتے ہیں۔ کتنے جنید حفیظ اور آسیائیں ہیں جو اس الزام میں جیلوں میں سڑتی ہیں اور ان کے خاندان چھپتے پھرتے ہیں۔
پاگل،جنونی، فحش گو، فسادی آزاد ہیں اور لوگ یہاں ذکر حسین پہ قتل کردیے جاتے ہیں اور مخصوص ناموں کی بنا پہ ان سے جینے کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ اس تہوار پہ ہمیں کچھ چراغ ‘جبری گمشدگان’ کی واپسی کے لیے روشن کرنے کی ضرورت ہے۔
مھیش کمار بھائی، آپ کو پتا ہے وہاں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے چھے سو کلومیٹر کیچ سے چل کر آنے والی دو عورتیں ایک چھوٹے سے بچے کے ساتھ احتجاجی کیمپ میں بیٹھی ہوئی ہیں۔ ایک عورت نوجوان شبیر بلوچ کی بہن ہے اور ایک اس کی بیوی ہے اور شیر خوار بچہ اس کا بیٹا ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ ان کو یہ بتادیا جائے کہ ان کا پیارا زندہ ہے یا مرگیا ہے۔ اگر زندہ ہے تو بتادیا جائے کہ اسے کب عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا؟ اور اگر مر گیا تو وہ اس کی لاش دے دیں تاکہ اس کی رسوم ادا کرکے صبر شکر کرکے بیٹھ جائیں۔ یہ کوئی نئی کہانی نہیں ہے۔ جب نذیر عباسی کو بلوچستان کے ایک کیمپ میں مار ڈالا گیا تھا تو کئی ماہ تک اس کے مرنے کی اطلاع بھی نہیں دی گئی تھی اور آپ کے اور میرے ہیرو جام ساقی پہ بھی ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے تھے اور اس کی بیوی اس کے غم میں کنویں میں چھلانگ مار کر موت کو گلے لگابیٹھی تھی۔ میں نے جب اس کی بیٹی ڈاکٹر بختاور کو وہاں سندھ میوزیم میں ممتاز آڈیٹوریم میں اسے دیکھا تھا مجھے لگا کہ وہ مجسم سوال ہے اور ریاست سے آج تک پوچھتی ہے کہ اس کی ماں سکھاں کا کیا قصور تھا؟ اور اس کے بابا جام ساقی کا کیا گناہ تھا؟
پاکستان میں بیک وقت کئی کربلا اور کئی نرک کھلے ہوئے ہیں جن میں گناہ گار نہیں بلکہ نیکی کرنے والے جھلس رہے ہیں۔ ہمیں دیوالی کے اس تہوار پہ ان جیسے نیکوکاروں کے دکھوں کی نجات کے لیے چراغ روشن کرنا ہیں اور پراتھنا کرنی ہیں۔
آپ کا نیاز مند ساتھی
عامر حسینی

مھیش کمار، دیوالی، خط

1 COMMENT

  1. ھوا کچھ ایسی چلی ھے کہ میرے شہر کے لوگ
    چراغاں مقبروں سوا کریں تو حیرت ھو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here