اداریہ:سیف الملوک آسیہ بی بی کے وکیل مہا سورما بننے کی کوشش میں راکھشش بن گئے

 

زندگی میں کم از کم ایک بار تو ہر شخص مہا سورما /سپر ہیرو بننے کا خواب دیکھتا ہے اور اس خواب کی تعبیر پانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ کچھ لوگ یہ کوشش جائز طریقے سے کرتے ہیں اور کچھ ناجائز طریقوں کو بھی استعمال میں لے آتے ہیں اور اس کے برے نتائج کا خمیازہ بھی بھگت لیتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ آسیہ بی بی کیس کے وکیل سیف الملوک کا بھی ہے۔آسیہ بی بی کی سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل کی منظوری اور رہائی کے حکم کے بعد سیف الملوک انسانی حقوق کے رضاکاروں میں ایک ہیرو بن گئے تھے۔ لیکن وہ تو سپر ہیرو بننے کا خواب دیکھ رہے تھے۔

ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں اپنے خاندان کے ساتھ پناہ گزین ہوجانے کے بعد انہوں نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ دعوی کیا کہ وہ تو پاکستان چھوڑ کر آنے کو تیار نہ تھے مگر اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے ان کو ان کی مرضی کے خلاف جہاز میں سوار کرایا اور ہالینڈ بھیج دیا۔

یہ پریس کانفرنس سوموار 5 نومبر،2018ء کو کی گئی تو اگلے روز منگل کو اقوام متحدہ کی ترجمان نے جوابی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ نے آسیہ بی بی کے وکیل کو زبردستی ملک چھوڑنے پہ مجبور نہیں کیا اور نہ ہی خود سے دست تعاون بڑھایا۔ بلکہ آسیہ بی بی کے وکیل نے اقوام متحدہ سے خود رابطہ کیا تھا اور ان سے یورپ میں پناہ گزین ہونے کی درخواست کی تھی۔ اس پہ اقوام متحدہ نے ان سے تعاون کیا۔ اقوام متحدہ کسی کو اس کی مرضی کے خلاف وطن چھوڑنے پہ مجبور نہیں کرسکتی۔

سیف الملوک نے ملک چھوڑتے وقت اے ایف پی کو بتایا تھا کہ وہ ملک میں اپنے آپ کو محفوظ خیال نہیں کررہے تھے اس لیے ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔ لیکن شاید ہاگ میں وہ اپنے اے ایف پی کو دیے گئے بیان کو بھول گئے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here