دس روزہ عزاداری کی تقریبات کا اختتام دسویں محرم کو معروف غفران امام باڑے میں ہوتا۔ شام غریباں میں سید الشہداء کو آخری پرسہ پیش کیا جاتا۔ آخری پردہ چہلم شہداء کربلا پہ گرایا جاتا۔ عبدالحلیم شرر یوم عاشور پہ طالکٹورہ کربلاء لکھنؤ میں اپنے دورے کا ذکر کرتے ہیں۔ انہوں نے وہاں تعزیہ لیجاتے ہوئے عورتوں کا ایک جلوس دیکھا۔ تمام ننگے سر اور کھلے بالوں سے تھیں۔ درمیان میں ایک عورت شمع لیے چل رہی تھی۔ اس کی روشنی میں ایک خوبصورت اور دلکش خدوخال کی مالک لڑکی کاغذ سے دیکھ کر کچھ پڑھ رہی تھی۔ اس نے دوسری خواتین کے ساتھ ملکر سوز خوانی کی۔وہ ساکت چاند کی روشنی میں ان ننگے سر حسن اور ان کی روح کو سرشار کرنے والی سوگوار سریلی آوازوں کے ساتھ چلتے چلے گئے۔ جیسے یہ گروہ ضریح امام حسین کی شبیہ کے دروازوں کے پاس سے گزرا تو اس نے یہ مرثیہ سنا

When the caravan of Medina, having lost all

Arrived in captivity in the vicinity of Sham

Foremost came the head of Husain, borne aloft on a spear

And in its wake, a band of women, with heads bared11.

جب مدینہ والوں کا قافلہ سب کچھ لٹا کر اسیری کے ساتھ شام کے علاقے میں پہنچا تو سب سے آگے نیزے پہ چڑھا سر امام حسین تھا اور اور ان کے پیچھے ننکے سر عورتوں کی ٹولی تھی-11

10 Attia Hosain, op. cit., p. 68. 11 Sharar, op. cit., pp. 149-50.

ب: محرم، حسین اور کربلا نے لکھنؤ کے سماج کے مختلف حلقوں میں مختلف چیزوں کو اہم اور ممتاز بنادیا تھا۔ کچھ نے ان رسومات کی ادائیگی کو سیاسی تحرک کے بلند آہنگ آلہ کے طور پہ دیکھا۔ ہندوستان میں تحریک خلافت کی قیادت کربلاء کے پیراڈائم کا اطلاق کرتے ہوئے شیعیت کے زیادہ تمثیل انگیز تصورات کو اپنی تحریک کو اور زیادہ گہرا کرنے کے لیے استعمال کرسکی تھی۔12 ایک اور سطح پہ امام حسین کی شہادت نے تمام زمانوں کے تمام شیعہ کو تمام مقامات پہ اپنی الگ شناخت کا تحفظ کرنے اور بہت زیادہ مستحکم اور بعض اوقات جابرانہ اکثریت کے مقابلے میں اپنی عددی کمتری کے ساتھ بہادری سے کھڑا رہنے کے لیے ہمیشہ قائم رہنے والی یاد دہانی اور وعظ کا کام کیا۔

حامد عنایت کے بقول اس کی دو سطحوں پہ منطق بنتی ہے۔ ایک عقیدہ نجات کے معنوں میں جو یسوع مسیح کے مصلوب ہونے کے معاملے سے جو سامنے آتی ہے اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے: جیسے یسوع نے صلیب پہ قربانی دے کر انسانیت کا کفارہ دیا، تو ایسے ہی حسین نے میدان کربلاء پہ خود کو مقتول ہونے کی اجازت دی تاکہ مسلم برادری کے گناہ کا کفارہ ہوسکے؛اور دوسری سطح کی منطق اس شہادت کا شیعہ کاز کی فتح کے لیے ایکٹو عامل کے طور پہ کام کرنے میں بنتی ہے۔جب اس سب کے ساتھ گریہ و بکاء کو ایک ایک ایسے کتھارسس اثر کے طور پہ بیان کیا جاتا ہے جو نہ صرف ذاتی محرومیوں اور دکھوں کے بوجھ کو ہلکا کرتا ہے بلکہ عرصہ دراز سے دکھ بھوگتی آرہی اقلیت کی تکالیف کے لیے بھی ایک ڈھارس کے طور پہ شامل کیا جاتا ہے تو پھر محرم کی تعقریبات کی مقبول عوامی کشش اور اپیل کی وجوہات صاف نظر آنے لگتی ہیں۔13

امام حسین نے ہندوستان میں متعدد گروہوں کے جذبات اور حسیات کو متحرک کیا۔ نویں محرم کو، عورتوں کا ایک گروہ، زیادہ تر ہندؤ عورتیں،گانوؤں میں ایسے دوحے پڑھا کرتیں جن کے خام بول اس ‏اپیک ٹریجڈی/المیہ کا بیان کررہے ہوتے تھے اور وہ شکایت کناہ آواز میں بین کیا کرتی تھیں۔ شہری اور دیہی علاقوں میں، اکثر ہندؤ امام حسین کو بہت عزت و احترام دیتے تھے اور انہوں نے ان سے جڑی رسوم اور ایام کو اپنی رسومات کے کلینڈر میں خاص تقدیس کے ساتھ شامل کرلیا تھا۔14وہ مقامی کربلا میں پھولوں اور مٹھائی بانٹتے،جلوسوں میں شریک ہوتے،تعزیہ سجاتے اور ان کو رکھتے اور حسین کے وسیلے کو بیماریوں سے شفا، آفات سے بچاؤ اور بانجھ و بے اولاد عورتوں کے لیے اولاد کا سبب سمجھتے اور مردوں کے حالات میں بہتری لانے کا سبب سمجھا کرتے تھے۔ امام کی آزمائش اور قربانی ان کے مظلوم روحوں کے لیے انصاف کو ممکن بنانے والے عالمی کرما کے عقیدے کو تقویت بخشنے کا سبب تھی۔

امام حسین ایودھیا کے رام کی طرح ہوگئے تھے۔وہ حسین جس نے بے سروسامانی کے عالم میں اپنی لڑائی لڑی تھی اور ان کے بھائی عباس علم دار لکشمن کا روپ نظر آتے جو بہت مخلص، توانا اور بہادر تھے۔ ان کی بہن زینب، ان کی بیوی ام کلثوم سیتا کا روپ  دھار گئیں تھیں جو بہت زیادہ خیال رکھنے والی،فرض شناس اور جذبہ قربانی سے شرسار تھیں۔ یزید اموی حکمران امام حسین کا قاتل لنکا کا راون تھا،بدعنوان،مہم جو، ظالم اور بے رحم۔

ڈبلیو ایچ سلیمان نے وسطی اور جنوبی ہندوستان کے ہندؤ شہزادوں اور یہاں تک کہ براہمن جات کے پنڈتوں کو محرم مناتے پایا؛ ہندوستان کا کوئی حصّہ ایسا نہ تھا جہاں اس قدر چراغاں اور جلوس اتنے شاندار اور بیش بہا خرچ کے ساتھ نکالے جاتے ہوں جتنے ہندؤ شہزادوں کے راجواڑوں میں پائے جاتے تھے۔ گوالیار ایک ہندؤ ریاست میں محرم عظیم الشان نمائش کے ساتھ منایا جاتا تھا۔ ایسے ہی برودا میں ، جہاں حکمران نے موتیوں سے جڑا جائے نماز مکّہ بھیجا تھا-15

12 See MUSHIRUL Hasan, Nationalism and Communal Politics in India, 1885-1930 (Delhi, 1991). 13 Hamid Enayat, Modem Islamic Political Thought (London, 1982), p. 20.

14 Cole op. cit., pp. 116-7.

15 P.D. REEVES (ed.), Sleeman in Oudh: An Abridgement of W.H. Sleeman’ s Journey Through the  Kingdom of Oude in 1849-50 (Cambridge, 1971), pp. 158-9; WALTER Roper Lawrence, The India We

سیاحوں نے ہندؤں کو ریاست اودھ میں سبز لباس میں حسین کے فقیر بنے دیکھا۔ ایک ہندی اخبار نے جولائی 1895ء میں خبر دی۔’ محرم بنارس میں مکمل طور پہ امن و امان سے گزرا۔جب ہندؤ ہی سب سے زیادہ اس کے منانے والے تھے تو پھر خوف کیسا ہونا تھا؟18محرم کا جوش لکھنؤ کے سماج کے قریب قریب ہر ایک سیکشن کو اپنی گرفت میں لے لیتا تھا اور اس میں ہزاروں ہندؤ بھی شامل تھے جو شیعہ اور سنیوں کے ساتھ نوحے پڑھتے تھے-19 شیو پرشاد نے ایک خصوصی تعزیہ بہانے کے لیے تیار کیا تھا۔  

محرم کے دسویں روز، آدمی جتنا بلند قامت روشن کاغذوں سے بنا تعزیہ نما مقبرہ اور اور اس سے لٹکی زنجیریں جلوس میں دفنانے کے لیے لائی جاتی تھیں، مسلم خادم سوز خوانی کرتے،جبکہ شیو پرشاد اور اس کے بیٹے ننگے پاؤں اور ننگے سر احترام میں ان کے پیچھے چلتے تھے۔20

بات یہیں پہ تمام نہیں ہوجاتی۔منشی فیض الدین کی یادداشتیں، مطبوعہ1886ء، میں آخری دو مغل بادشاہوں کے دربار میں محرم کی رسومات کا بیان کرتی ہیں۔21 ایسا ہی بیان سید احمد دہلوی نے رسوم دہلی میں کیا ہے جو کئی عشروں بعد لکھی گئی۔22سنّی راجا نانپارا نے اپنی صوبائی نشست پہ شیعہ علماء کو رکھا ہوا تھا تاکہ وہ رثاء حسینی اس کو پڑھ کر سنائیں۔23 الہ آباد میں، سنّی 220 میں سے 122 تعزیے اٹھایا کرتے تھے۔24

اور ایسا ہی ہندوستان کے دیگر علاقوں میں ہوا کرتا تھا۔1897ء میں کروک نے اعلان کیا کہ دیہی مسلمان محرم کی رسومات میں اتنی بڑی تعداد میں شرکت کرتے تھے اور یہ رسومات بغیر فرقے کی تمیز کے ہوا کرتی تھیں۔25 اسلام پہ تحقیق کرنے والا ایک مغربی محقق یہ حقیقت دیکھ کر حیران رہ گیا کہ شیعہ اثرات سنّی کمیونٹی میں بڑے پیمانے پہ سرایت کیے ہوئے ہیں( مغربی محقق ہندوستان میں محرم کے مشترکہ ثقافتی ورثے کو خوامخواہ شیعی اثر کے سنّی برادری میں سرایت کرنے سے تعبیر کررہا تھا یہ سوچ بذات خود کالونیل ہے۔مترجم)26۔ شمالی ہندوستان کی ایک چھوٹی سی دیسی ریاست میں، ایک برطانوی سول سرونٹ مسلمان رنگساز،راج گیر،کار پینٹر اور جولاہوں کی گلڈ کو دیکھتا ہے جن کے اپنے تعزیے اور ان کے اپنے سوانگ بھرنے والے ادکار اور عزادار تھے جو کربلا کے واقعات کی ڈرامائی تشکیل کیا کرتے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here