سن 1940ء میں محمد علی جناح نے لاہور کے اندر دوقومی نظریہ پیش کیا، ان کی دلیل تھی کہ برصغیر میں ہندؤ اور مسلمانوں کا ماضی الگ الگ ہے۔ جناح کا کہنا تھا،’یہ بہت واضح ہے کہ ہندؤ اور مسلمان اپنے مختلف تاریخی سرچشموں سے تحریک پاتے ہیں’۔

سن 1940ء کے بعد سے بدقسمتی اور غلط فہمی پہ مبنی یہ سوچ سارے برصغیر میں پھیل گئی اور اس نے اب کی بار کرناٹک میں سر اٹھایا،جہاں پہ 16ویں صدی میں میسور کے حکمران ٹیپو سلطان کے جنم دن منانے پہ ایک جذباتی بحث نے غصّہ اور اشتعال کو جنم دیا ہے۔

دو قومی نظریہ حقیقت کے مدمقابل

یہاں تک کہ کرنٹاک میں حکمران جماعت کانگریس جس نے دس نومبر کو ٹیپو سلطان کا جنم دن منانے سے احتراز برتا لیکن اس نے بھی اس بحث کو بڑھاوا دیا۔ مقصد مسلمانوں کے ووٹ کا حصول تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی-بی جے پی ٹیپو مخالف ریلیاں نکال رہی ہے اور اس نے اس دن کو یوم سیاہ کے طور پہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ بی جے پی کی نظر کانگریس کے برعکس ہندؤ ووٹوں ہے۔ جناح نے ایک بار لاہور میں کہا تھا کہ کسی کا ہیرو دوسرے کے لیے ولن ہوا کرتا ہے تو شاید ان کو اندازہ نہیں ہوگا کہ کرناٹک کی سیاست میں یہی بات آٹھ عشروں کے بعد پھر سامنے آئے گی۔

تاریخ کا ریکارڈ اس جدید سیاست سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جتنی آپ جدید سیاست کو سمجھتے ہو۔ مثال کے طور پہ مسلمان ٹیپو سلطان کے ایک ہندؤ مندر کے محافظ ہونے کی کہانی کو کس چوکھٹے میں نصب کیا جاسکتا ہے؟ خاص طور پہ جب مندر پہ حملہ آور مرٹھہ ہوں،جن کو اکثر آج کے ہندوستان میں ہندوتوا کے آرکی ٹائپ ہیرو خیال کیا جاتا ہے جو ایک اساطیری پروٹو ہندؤ قوم کے لیے لڑرہے تھے۔

تیسری اینگلو-میسور جنگ

سن 1700ء میں، برصغیر بڑے ہیجان سے گزر رہا تھا۔ مغل جو بس نام کے حاکم تھے مگر اپنا اقتدار کب کا کھوچکے تھے۔ مرٹھہ کے ان کی جگہ لینے کی امید پانی پت کی تیسری جنگ میں دم توڑ گئی جب افغانوں نے فیصلہ کن فتح حاصل کرلی۔ جیسے ہی برصغیر میں کارفرما قوتوں کو زوال ہوا تو برٹش کا ستارہ عروج پکڑنے لگا۔

سن 1789ء میں برٹش نے اپنے اتحادیوں مرٹھہ اور نظام حیدرآباد کے ساتھ ملکر میسور کے بادشاہ ٹیپو سلطان کو شکست دینے کی منصوبہ بندی کی جو کہ کسی بھی دوسرے حکمران سے کہیں زیادہ ایسٹ انڈیا کمپنی سے لاحق خطرے کا ادراک رکھتا تھا۔

مرٹھہ اور ٹیپو سلطان ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تھے اور ان کی باہمی لڑائیوں نے اس جنگ کو ممکن بنایا۔ حققت میں ٹیپو کا والد حیدر علی، نے پہل کرتے ہوئے مرہٹہ کے قبضے میں موجود دیوان حالی قلعہ کو مختصر سے لڑائی میں چھینا تھا۔

سن 1791ء میں، اسی لیے،مرٹھوں نے رگھوناتھ راؤ پٹوردھن کی کمان میں بیدنور کے ضلع میسور پہ حملہ کیا اور یہیں پہ انہوں نے سرینگری سمادھی کو مسمار کر ڈالا تھا۔

جنگ کے دوران مندروں پہ حملہ غیرمعمولی بات نہ تھی۔مثال کے طور پہ،مرٹھوں نے 1759ء میں تروپتی کی سمادھی پہ حملہ کیا تھا،جس کم ہی یاد رکھا گیا ہے۔ لیکن جہاں مرٹھوں نے حملہ کیا وہ پوجا پاٹ کے لحاظ سے بہت ہی اہم جگہ تھی۔ اور اس کی بنیاد ہندؤ ادویت فلسفہ کے بانی شنکر اچاریہ سے ہزاروں سال پہلے رکھی گئی تھی۔ سادھو نے برصغیر کے ہر ایک کونے میں ایک مندر تعیمر کیا، جنوب میں شرنگری، مشرق میں پوری، مغرب میں دوارکا اور شمال میں جوشماتھ۔

اس اہمیت کے سبب، سرنگری مونٹیسوری کو حکمرانوں کی بھرپور سرپرستی حاصل رہی۔ حکمران چاہے ہندؤ تھے چاہے مسلمان جب سے یہ مندر بنا تھا سب نے اس کی دیکھ بھال اور تزئین و آرائش میں حصّہ لیا۔ ٹیپو نے بھی اس روایت کو جاری رکھا اور اس مندر سے گہرا تعلق برقرار رکھا، قیمتی تحائف دیتا رہا اور اس کے لیے وقف زمینوں سے محصولات کو معاف رکھا۔ اصل میں ٹیپو مندر کے بڑے سوامی کو ‘جگدیش گرو’ اپنی مراسلت میں لکھتا رہا۔

اس شان و شوکت اور حثیت کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مندر میں بڑی دولت تھی ، جس کے سبب شاید مرہٹوں نے اسے تباہ کردیا۔ اپنی ہزاروں سال پرانی تاریخ میں شاید اس نے پہلی بار یہ بپتا دیکھی تھی۔ مرہٹوں نے مندر کی دولت کا بڑا حصّہ لوٹ لیا، بہت سارے براہمن کو قتل کیا اور اس مندر کے سب سے بڑے بت شردھا دیوی کو بھی تباہ کرڈالا۔

اس حملے کے بعد، سوامی، جو کہ اس تباہ شدہ حال مندر تک دوبارہ پہنچا، اس نے ٹیپو سے شردھا کے بت کی دوبادہ سے تعمیر میں مدد دینے کی درحواست کی۔ ٹیپو نے یہ سب سنکر سخت غم وغصے میں جواب سنسکرت میں لکھا، ‘ لوگ ٹھٹھہ لگاکر برائی کرتے ہیں لیکن اس کی سزا سخت تکلیف میں پاتے ہیں۔” سلطان نے دیوی کے بت کی ازسرنو تعمیر کے لیے مالی انتظامات کیے اور بت کے لیے ٹوکن تحائف بھی بھجوائے،

ماضی ایک اور ہی دنیا ہے

سن 1990ء میں جب ہندتوا کا ابھار کرناٹک میں ہوا تو ٹیپو کا تصور بھی ایک سیکولر فریڈیم فائٹر سے ظالم مسلمان حاکم میں بدلنے لگا۔ لیکن یہ مندر والا واقعہ اس تصور کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔ جہاں ہندؤ مرٹھے ایک مندر پہ حملہ کرتے ہیں اور مسلمان ٹیپو اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اس واقعے نے ان لوگوں کو کنفیوژ کردیا جو قرون وسطی کے کرناٹک کو آج کے ہندوستان کا عکس دیکھنا پسند کرتے ہیں،جس میں ہندؤ-مسلم کمیونل جذبات ہی سیاست کے بڑے محور ہیں۔

ظاہر ہے کہ ماضی ایک اجنبی دنیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کی دنیا کے جو معیار ہیں ان کے مطابق ٹیپو سے بھی ظلم و جنگی جرائم کا صدور ہوا ہوگا۔ ایسا کچھ تو مرٹھوں نے سرنگری میں کیا۔ ٹیپو کی وائلنس اس کے اپنے زمانے کے مطابق تھی اورآج ان واقعات کو پڑھنے والا اس کے اقدامات کا محرک غلطی سے آج کے فرقہ وارانہ محرکات سمجھ لیتے ہیں۔

ٹیپو جو کررہا تھا وہ اس خطے کی پرانی پاور پالیٹکس کے عین مطابق تھا۔ اس نے اگر ورہا مند گرایا جو کہ میسور کی پرانی بادشاہت کی علامت تھا تو اس نے اپنی سلطنت میں دوسرے کئی مندر باقی بھی رہنے دیے۔ اصل میں، سرنگری کی طرح، ٹیپو نے کئی طاقتور ہندؤ مندروں کی سرپرستی کی۔ اس نے سری رنگا ناتھ مندر کے لیے چاندی کے ظروف بھجوائے جو اس کی سلطنت کے صدرمقام میں تھا۔ اور یہاں تک کہ اس نے ننجوندیشور مندر جو نن جان گڑھ میں تھا شیو لنگ نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔

مورخ کاٹے برٹلی بینک نے نشاندہی کی ہے کہ ٹیپو نے کرسسچن اور ہندؤ برادریوں میں سے جن لوگوں کو نشانہ بنایا تو یہ کوئی مذہبی پالیسی نہیں تھی بلکہ یہ سزا تھی اور جن کو نشانہ بنایا گیا ان کو میسور ریاست کا وفادار نہ سمجھتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ حقیقت یہ ہے ٹیپو نے مسلمانوں میں سے بھی لوگوں کو نشانہ بنایا جیسے مہدوی تھے جو برٹکو سپورٹ کرتے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج میں گھڑسوار کے طور پہ نوکریاں پاتے تھے۔ ٹیپو سلطان نے میسور سے باہر رہنے والے ہندؤ اور کرسچن کو نشانہ بنایا، جیسا کہ سوسن بالے کہتا ہے کہ وہ  اپنی ریاست میں  رہنے والے ہندؤ اور یہاں تک کہ کرسچن کے ساتھ گہرے ثقافتی اور سیاسی تعلقات قائم کرنے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتا تھا تاکہ وہ اس کی اتھارٹی کے لیے کوئی خطرہ نہ بن سکیں۔

ٹیپو کا دست راست خود ایک ہندؤ تھا: پرانیا اس کا چیف منسٹر تھا۔ یہ آج کے برصغیر کے لیے بہت ہی انہونی بات ہے بلکہ بہت مشکل ہے کہ پاکستان کی حکومت میں دوسرے نمبر پہ اہم ترین آدمی ہندؤ ہو یا موجودہ ہندوستانی حکومت میں نمبر دو پوزیشن پہ کوئی مسلمان ہو۔

آخر میں،’ ٹیپو جے نیتی’ ماڈرن سیاست کے ایسے اکھاڑے کا منظر پیش کرتی ہے جس میں تاریخ کو دور حاضر کی شناختوں کو دوبارہ سے تخلیق کرکے اس پہ چسپاں کیا جارہا ہے

بشکریہ سکرول ان

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here