غزنی – دیوبندی مدارس سے تیار ہونے والی تحریک طالبان افغانستان نے افغانستان کے صوبہ غزنی میں شیعہ ہزارہ افغان آبادی کی اکثریت کے دو اضلاع جاگوری اور مالیستان پہ دھاوا بولا ہے۔ دونوں اضلاع میں طالبان سے افغان افواج اور ہزارہ ملیشیا کی گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ افغان حکومت نے طالبان کے حملوں کو پسپا کرنے کے لیے فضائی اور زمینی کاروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔

افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اگرچہ جاگوری اور مالیستان سے بھاگ کر آنے والے خاندانوں کی ٹھیک طور پہ تعداد کا تعین فی الحال ممکن نہیں ہے لیکن یہ ابتک کی موصول اطلاعات کے مطابق ایک ہزار شیعہ ہزارہ افغان خاندان فرار ہوکر غزنی شہر پہنچے ہیں اور انھوں نے مساجد و ہوٹل وغیرہ میں پناہ لی ہوئی ہے۔

افغان و عالمی زرایع ابلاغ سے نشر ہونے والی خبروں میں بتایا جارہا ہے کہ غزنی میں آکر پناہ گزین ہونے والے شیعہ ہزارہ افغان خاندانوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ جاگوری اور مالیستان میں پھنسے ہوئے ہیں ان کو انسانی امداد کی سخت ضرورت ہے۔ افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کا کہنا ہے کہ غزنی صوبے کے دو اضلاع میں ہونے والی لڑائی شیعہ ہزارہ افغان برادری کی نسل کشی کے سب سے بڑے واقعے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

 

ادھر کابل میں ہزاروں کی تعداد میں ہزارہ افغان افراد نے احتجاجی جلوس نکالا اور افغان صدر سے ہزارہ اکثریت کے اضلاع میں افغان فوجی دستوں کی مستقل تعیناتی کا مطالبہ کیا۔

افغان وزرات داخلہ کے ترجمان نے پریس کو بتایا ہے کہ وزرات داخلہ کے سینئیر ترین حکام غزنی شہر میں موجود ہیں اور افغان طالبان کے خلاف بڑے پیمانے کے آپریشن کی منصوبہ بندی کررہے ہیں جبکہ جاگوری اور مالیستان کے اضلاع پہ طالبان کے حملے کو پسپا کرنے کے لیے زمینی اور ہوائی کمک تسلی بخش انداز میں فراہم کردی گئی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے بتایا ہے کہ غزنی صوبے کے دو شہروں میں جاری لڑائی میں طالبان اور افغان حکومتی فوجی دستوں دونوں کا کافی جانی نقصان ہوا ہے جبکہ اس دوران بڑی تعداد میں معصوم شہری بھی مارے گئے ہیں۔ درجنوں مکانات تباہ و برباد ہوگئے ہیں۔

افغان وزرات داخلہ کا کہنا ہے کہ غزنی، غور اور ارزگان صوبوں میں لڑائی اور قحط کے سبب 20 ہزار سے زائد خاندان داخلی ہجرت کرنے پہ مجبور ہوئے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here