نوٹ: چار سال پہلے فیکا سے ہوئی ملاقات کا احوال ‘عامر حسینی’ نے لکھا تھا۔ اس وقت فیکا کے کمپریسڈ کارٹون ڈان میں شایع ہورہے تھے۔ آج وہ بھی بند ہوگئے ہیں، چار سال پہلے لکھا گیا یہ آرٹیکل اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈان کے ایڈیٹر فیکا کے فن کو موت کے گھاٹ اتارنا چاہتے تھے۔

فیکا کی زندگی کا ایک بڑا اور بہت ہی ہنگامہ خیز دور جو ابهی تک جاری ہے وہ انگریزی صحافت کےسب سے زیادہ معتبر سمجهے جانے والے گروپ هیرالڈ پبلیکشن کے اخبارات ڈیلی ڈان ،ڈیلی سٹار اور ماہنامہ هیرالڈ کے لئے کارٹون بناتے گزرا اور فیکا کے یہ کارٹون ان اخبارات اور رسائل کے ادارتی صفحات پر بڑی آب و تاب کے ساته شایع ہوتے رہے لیکن فیکا جی نے ہم سے ملاقات کے دوران پاکستانی انگریزی صحافت کے اس بہت ہی معتبر اوردبنگ میڈیا گروپ کے اندر مدیروں کی ازخود لگائی جانے والی سنسر شپ اور ان کی پیٹی بورژوازی گهٹیا پن کی کہانی جب سنائی تو میرےساته آنے والے گلگت بار ایسوسی ایشن کے صدر احسان علی ایڈوکیٹ اور سلطان بہت ہی حیران و پریشان رہ گئے

ڈیلی ڈان کی ازخود سنسر شپ ، بورژوا مفادات کی نگرانی اور اس کی فیک ،جعلی جمہوریت پسندی اور گهٹیا قسم کے بورژوازی لبرل ازم کا پردہ تو بہت پہلے سے فاش ہوچکا تها اور مجهے بہت پہلے عائشہ صدیقہ نے ایک انٹرویو میں بتایا تها کہ ڈیلی ڈان میں لکهنا انہوں نے اس لئے چهوڑ دیا تها کہ یہ اخبار ملٹری اسٹبلشمنٹ اور آئی ایس آئی کی جانب سے جهوٹی ،سچی انفارمیشن کو اپنی خصوصی تحقیقاتی خبر بناکر اخبار کے فرنٹ پیج پر چهاپنے کی لت میں اردو اخبارات کی طرح ملوث تها لیکن فیکا جی نے اس اخبار کے بعض مدیروں کے گهٹیا اشراف پنے اور ایک انقلابی ،باغی اور مزاحمتی روش رکهنے والے تخلیق کاروں کے ساته روا رکهے جانے والے سلوک کا جب زکر کیا تو مجهے احساس ہوا کہ یہ تو میری سوچ سے بهی کہیں زیادہ گهٹیا اور کہیں زیادہ مالکوں کی دلالی کرنے والے ہیں

فیکا کا کہنا ہے کہ انہیں اس گروپ کے موجودہ مدیر ظفر عباس کے دور میں جس قدر گهٹن ،سیلف سنسر شپ کی گهٹیا شکل کے نفاز کا احساس ہوا اتنا اپنے سارے صحافتی دورانیہ میں نہیں ہوا بلکہ جنرل ضیاء کے دور میں انہوں نے زبردست جبر اور سنسر شپ کے زمانے میں بهی اپنے مدیروں کی جانب سے زیادہ ہمت افزائی سے لطف اٹهایا انہوں نے ایک قصہ سنایا کراچی پریس کلب میں ڈان کے سابق ایڈیٹر عاصمی صاحب کی کتاب کی تقریب رونمائی تهی اور وہاں پر سٹیج پر عاصمی صاحب ، بابر ایاز ،ڈان کے موجودہ ایڈیٹر ظفر عباس سمیت کافی سارے آسمان صحافت کے ستارے بیٹهے تهے جبکہ ہال میں بهی کراچی کی کریم براجمان تهی ،

عاصمی صاحب کی کتاب کا ٹائٹل میں نے بنایا تها بابر ایاز صاحب نے مجهے سٹیج پر بلایا اور کہا کہ کیا آپ کچه بولیں گے ؟ میں نے کہا کیوں نہیں اور دل میں سوچا کہ بهلا دل کی بهڑاس نکالنے کا اس سے زیادہ بروقت موقعہ اور کون سا ہوگا میں نے سٹیج پر آکرحاضرین کو بتایا کہ ایک مرتبہ عاصمی صاحب مئے و ناب سے شغل فرمارہے تهے اور میں ان سے ملا تو انہوں نے مجھ کو بلایا اور مجه سے پوچها کہ میرے معاملات روزنامہ نامہ ڈان میں کیسے چل رہے ہیں تو میں نے ان کو بتایا تها کہ ان کے دور میں میں نے جو کارٹون بنایا وہ چهپا مگر آج تو سیلف پریس ایڈوائسز نے میرے کارٹونوں کو کمپریسڈ کرنے کے سب ریکارڈ توڑ رکهے ہیں

تو اس پر عصیمی صاحب نے بے ساختہ غالب کا یہ شعر پڑها تها
رہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے
بهرے جس قدر جام وسبو مئے خانہ خالی ہے
ظفر عباس میری اس تقریر پر ہرگز خوش نہیں تهے اور ایک مرتبہ جب امریکہ میں ورلڈ کارٹونسٹ کانفرنس ہوئی تو میں ،ظہور نظر اور ایک اور خاتون کارٹونسٹ پاکستان سے وہاں گئے تهے اس کانفرنس میں ڈیلی ڈان کے اس وقت کے مدیر عباس ناصر بهی موجود تهے تو ان کی موجودگی میں نے تقریر کرتے ہوئے کہا تها

I can write editorial but editor of mine newspaper cannot made a Cartoon.

اور پهر میں نے ڈیلی ڈان کے کراچی دفتر کے ایڈ یٹوریل کوریڈور کی کہانی بیان کی ، عامر میاں! تم جانتے ہی ہوں گے ایسے کوریڈورز میں چپڑاسیوں تک سے ہمیں زلیل کرنے کی سازش کی جاتی ہے مگر میں کبهی بهی ان سے پانی تک نہیں مانگتا تو میں نے ایسی ہر کوشش کو ناکام بنادیا ان کا بس نہیں چلتا کہ یہ تخلیق کاروں کا گلہ گهونٹ ڈالیں اور ان کے فن کو بلامعاوضہ زینت اخبار بناتے رہیں میں نے ڈان گروپ کو اپنی تخلیقی وفور سے بهرے بہترین ادوار دئے لیکن آج بهی مجهے اپنے زندگی کو سیکنڈ هینڈ اور تهرڈ کلاس اشیائے ضرورت پر اکتفاء کرنے پر مجبور ہوں ، اور ظفر عباس جیسے مدیر ادارتی بورڈ کے اجلاس میں شرکاء کو یہ بتاتے رہتے ہیں کہ کیسے انہوں نے فلاں ،فلاں اپارٹمنٹ ڈهائی کروڑ میں خرید کیا ہے

جانے مجهے کیوں احساس ہورہا تها کہ فیکا جی کے تخلیقی کام میں پاکستان کے اصل بادشاہوں کو بے نقاب کرنے کا جو رجحان پایا جاتا ہے اور یہ کیسے خاکی والوں کی ایمپائر کو ایکسپوز کرتے ہیں تو ان کا یہی رجحان ان کے کارٹونوں کو ادارتی صفحات میں دوسرے پیج پر لیٹرز ٹو ایڈیٹر سے زرا اوپر مضامین کے نیچے بہت ہی کمپریسڈ شکل میں شایع ہونے کا بڑا سبب ہیں میں نے فیکا سے اس بارے میں پوچه ہی لیا اور سلطان یحیحی نے بهی ان سے پوچه لیا کہ کیا ان کو انسٹرکشن کی جاتی ہے روز کیا کارٹون بنانا ہے تو فیکا جی نے میر کا یہ شعر پڑها
ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی
جو چاہیں ہیں سو آپ کریں ہیں ،ہم کو عبث بدنام کیا
آج بہت سے ترقی پسند ،جمہوریت پسند ،انقلاب پسند جغادری ایسے ہیں جو ایوب ،یحیحی و ضیاء کی سنسر شپ کا زکر کرتے ہیں اور اس کے خلاف اپنی عظیم الشان جدوجہد کا زکر بهی تزک و احتشام سے کررہے ہوتے ہیں لیکن آج کی اس سیلف اور ازخود مسلط کردہ اس طرح کی سنسرشپ کا تذکرہ کرتے ہوئے شرماتے ہیں اور سرمایہ داروں و خاکی والوں کے حضور مدیروں کی نیاز مندی اور ارادت کے زکر سے کوسوں دور بهاگتے ہیں

اشراف ترقی پسند اور کل کے انقلابی جو آج اپنے سوشل ڈیموکریٹک خیالات کا نکاح نیو لبرل مارکیٹ کے ساته کراچکے رجعت پسندوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں اور اپنی پیٹی بورژوازی گهٹیا پن کے پاس سرمایہ داروں سے کہیں زیادہ خسیس ہیں فیکا جی نے بتایا کہ ایک مرتبہ جب وہ ہندوستان کے شہر آگرہ میں تانگے میں بیٹه کرجارہے تهے تو ایک کهرلی پر انہوں نے یہ شعر لکها دیکها اپنوں سے اسقدر صدمے اٹهائے جان پر میں دشمن کی عداوت کا گلہ بهول گیا اور مجهے یہ اپنی کیفیت کے عین مطابق نظر آیا فیکا جی نے مشرف دور ہی میں ریڈیو پر ایک نیا تجربہ کرنے کی ٹهانی،

وہ ایف ایم پر وہ سب کرنا چاہ رہے تهے جو وہ اخبار میں نہیں کرپارہے تهے اور وہ سب آن ائر ہوتے دیکهنا چاہتے تهے جو کہہ نہیں ہارہے تهے تو اس حوالے سے انہوں نے “بلو بهائی ” کا کردار تخلیق کیا اور یہ بلو بهائی ایف ایم 103 پر محو کلام ہوا اور دیکهتے ہی دیکهتے ہی بلو بهائی چهاگئے اور فیکا ایف ایم کی دنیا میں بلو بهائی کے روپ میں ظاہر ہوئے اور انہوں نے خوب دل کے پهپهولے پهوڑے بارہ مئی کا دن کراچی کی زندگی میں ان چند خون آشام دنوں میں سے ایک تها جو اس عروس البلاد کی مانگ کو سیندور کی بجائے خون سے رنگین کرتے رہے تهے اور اس دن بلو بهائی نے مسلسل ایف ایم پر 7 گهنٹے کمنٹری کی ،بلو بهائی کی بے باکی اور کهرا سچ بولنے کی روش نے ایف ایم 103 کو اکیس روز بند رہنے پر مجبور ،کردیا تها مگر بلو بهائی نے کہہ دیا تها گو مشرف گومشرف ،مک گیا تیرا شومشرف

اور وہی ہوا فیکا جی نے اب تک صرف ایک ہی ایوارڈ کیا جو انہوں نے کراچی پریس کلب میں بے نظیر بهٹو سے وصول کیا اور تالیوں کی گونج میں جب وہ ڈائس پر آئے تو محترمہ بے نظیر بهٹو شهید نے ان کو آہستہ سے کہا دیکهیں کتنی تالیاں آپ کے لئے بج رہی ہیں تو فیکا نے فوری کہا جی ہاں میں بخوبی جانتا ہوں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here