ضمیمہ اول

Epilogue

ڈھانپا کف نے داغ عیوب برہنگی

میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا

مرزا اسد اللہ خان غالب ( متوفی 1869)

دسمبر25، 2008ء: دارا شکوہ کی 20ویں سالگرہ

صبح کے چار بجے تھے۔ ویسٹ برج پہ مکمل خاموشی کا راج تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ہر جاندار شئے خوف سے ساکت ہوگئی ہو۔ مگر مادر رقیہ اس سے مستثنی تھی۔ اس نے دارا شکوہ کے کمرے کا لاک آہستہ سے کھولا تاکہ شور نہ ہو۔ لیکن وہ غیرمعمولی طور پہ محتاط اس لیے تھی کیونکہ کرنل برق کے خاندان کے سب ہی لوگ دبیز رضائیوں اور کمبلوں میں لپٹ کر گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔

اس نے آرام سے دروازے کو اندر سے بند کیا اور لائٹس آن کردیں۔ ہر شئے اسی ترتیب سے پڑی تھی جو ایک دن پہلے اس نے کی تھی۔ پہلے تو وہ گہرے خیال میں گم کھڑی رہی۔ اس کے ذہن میں بہت سی باتیں تھیں۔ کچھ لمحوں بعد اس نے سر کو جھٹکا جیسے ایک کے بعد ایک اپنے دماغ میں وارد ہونے والی باتوں کو جھٹک رہی ہو۔ 

اگر اس وقت دارا شکوہ موجود ہوتا، تو وہ اسے پہچان نہ پاتا۔ اس کی انیسویں سالگرہ پہ وہ صحت مند اور اتنی ہی نارمل تھی جتنی ہوسکتی تھی۔ اس دن، اس کی انیسویں سالگرہ پہ، اس نے ویسٹ برج کی تمام عورتوں کو اکٹھا کیا اور رات کئے تک پنجابی بھنگڑا میوزک پہ ڈانس کیا تھا۔ جشن کے آخر میں اس نے اعلان کیا تھا کہ اس کی 20ویں سالگرہ پہ وہ سپیشل بھنگڑا پروگرام کرے گی اور ایک ثقافتی طائفے کے ساتھ لاہور سے پرواز کرے گی۔

لیکن یہ ایک سال پہلے کی بات تھی۔ اب وہ ایک ایسی عورت میں تبدیل ہوچکی تھی جس کی زیابیطس اور فشار خون قابو سے باہر تھے۔ اس کا وزن بہت کم ہوگیا تھا اور وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہوگئی تھی۔ یا ایسا بھوت بن کر رہ گئی تھی جو انسان ہونے کا پوز دیتا ہو۔ اس کی جلد سیاہ پرچھائیوں کے ساتھ زرد ہوگئی تھی۔ یہاں تک کہ وہ سیدھے کھڑے ہوکر چل بھی نہیں سکتی تھی۔اس کے اپنے بچے اس کی شکل و شباہت دیکھ کر ڈر سے جاتے تھے۔ جب وہ چلتی تو اس کی کمر پہ کب دکھائی دیتا۔ کم از کم یہ کہا جاسکتا ہے کہ زندگی جیسی اب تھی پہلے نہیں ہوا کرتی تھی۔

اس کی زندگی اس وقت بدل گئی تھی، جب اس نے دارا شکوہ کو جنین مادر کی حالت میں کرسی اور کھڑکی کے درمیان فرش پہ پڑے پایا تھا۔

وہ اس بری طرح سے متاثر نہ ہوئی ہوتی اگر اس نے اس کے جسم کو اس حالت میں نہ پایا ہوتا کہ اس کے جسم میں زرا زندگی کی رمق اور حرارت موجود نہ تھی جو اس کے اپنے اندر موجود تھی۔ دو ماہ پہلے اس سے سنبھل جانے کے بعد، اس نے کسی چیز کو اپنے اندر آہستہ مگر مستقل تحلیل ہوتے محسوس کیا تھا۔

وہ شاذ و نادر ہی کسی سے بات کرتی تھی۔

ستائیس دسمبر کی جس رات دارا شکوہ گھر واپس پہنچا تو وہ اسی لین کے آخر میں اپنے دوست کے گھر میں تھی۔ بے نظیر کو گولی لگنے کے بعد، ویسٹ برج کی عورتوں نے ایک دوسرے کو ٹی وی پہ شوٹ ہونے کا منظر مل کر بار بی کیو کی دعوت پہ دیکھنے کے لیے کال کیا۔ انہوں نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی سپر ہٹ ہندی فلم اوم شانتی اوم بھی دیکھی جس سے جتنا پلان تھا اس سے کہیں زیادہ دیری ہوگئی تھی۔ اس نے وہاں ٹھہرنا اس لیے نامناسب نہ سمجھا کیونکہ  یوسف نے اسے کال کرکے بتایا تھا کہ دارا شکوہ اس کے ساتھ مسجد میں ہے۔

گھر سے واپس لوٹتے ہوئے، وہ دارا شکوہ کے کمرے کی طرف گئی تھی۔ کیونکہ وہ بستر پہ آرام کرنے سے پہلے اس سے بات کرنے کی عادی تھی۔ اس نے آرام سے دستک دی تھی، لیکن کوئی جواب نہ ملا۔وہ تو بس اس کی سانس لینے کی آواز سننا چاہتی تھی۔ اس نے کان دروازے پہ لگائے اور ہوا کی ایک آہستہ سی سرگوشی سنی۔ اس نے اس سے زیادہ کچھ نہ سوچا اور واپس اپنے کمرے میں لوٹ گئی جہاں اس کا شوہر سورہا تھا۔وہ سوگئی تھی۔

اس نے خواب دیکھا۔ اس نے شاہ بانو کو دیکھا۔ بہت سالوں بعد شاہ بانو اس کے خواب میں آئی تھی۔ وہ اس کے بستر کے سرہانے کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی۔

اس نے کہا،’جب میں زندہ تھی ،تو تم مجھ میں بے نظیر کی شباہت تلاش کرتی تھیں۔ جب میں اس کے مصائب کا زکر کرتی، تم اس سے اتفاق میں سر ہلاتی  اور اس کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا کرتی تھیں۔ اور اب! اتنا کہہ کر اس نے چلانا شروع کردیا ، اب جبکہ میں خود بھی مرچکی ہوں تم اس کے قتل کا جشن منارہی ہو۔تمہیں کیا پتا نہیں ہے کہ کتنی درندگی کے ساتھ اس کا قتل ہوا ہے؟ جب تم رومانوی فلم دیکھ رہی تھیں اور خاص کھانا کھارہی تھیں تو کیا میرا خیال آیا تھا؟تم بھی اپنے منافق، بے رحم باپ سے مختلف نہیں ہو۔آخر کار تم نے ثابت کرڈالا کہ تمہاری رگوں میں بھی ایک قاتل کا خون دوڑ رہا ہے۔ تم میرے غریب بیٹے کے لیے خطرہ ہو۔اس کے پاس بھی کبھی نہ پھٹکنا ورنہ میں تمہارے بچے مار ڈالوں گی۔ اللہ تمہاری روح کو مارے، تم بے شرم چڑیل ہو۔’

مادر رقیہ کانپتے ہوئے نیند سے جاگ اٹھی۔ اس کا پورا جسم پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔  اس کو گلاب اور مٹی کی ملی جلی بو محسوس ہوئی۔ اس یاد آیا کہ داراشکوہ اسے اس بو بارے بتایا کرتا تھا۔ اس نے سرگوشی میں کہا، ‘ شاہ بانو یہاں پہ ہے۔’ اس نے اپنے شوہر پہ نظر ڈالی جو خراٹے لے رہا تھا۔ اس نے اپنا بستر چھوڑا اور خوف سے لرزتی ہوئی کبھی اللہ مجھے معاف کرے اور شاہ بانو مجھے معاف کردو کو ادل بدل کرتے ہوئے وہ خود کو دارا شکوہ کے کمرے کی طرف گھسیٹ کر لے گئی۔

اس نے دروازے کو دھکا دیا لیکن وہ لاک تھا۔ اس نے دروازے پہ دستک دی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ دارا! اس کا دل ڈوب گیا تھا جب اس نے دارا کا نام زبان سے ادا کیا۔ دیوار اور سیڑھیوں کی حفاظتی گرل کو تھامے وہ نیچے کچن میں گئی اور چابی لیکر اپنے کمرے میں آئی۔

ہر طرف اندھیرا تھا جب اس نے کمرہ کھولا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے شدید سردی محسوس ہوئی۔ وہ خواب اور اپنے خوف بارے بھول گئی تھی جب اس نے سوچا کہ داراشکوہ نے کوئی احمقانہ قدم نہ اٹھالیا ہو۔کیا تم مجھے بتا نہیں سکتے تھے کہ تم نے ائرکنڈیشن آن کردیا ہے، اے احمق لڑکے! اس نے جو کہا اس وقت کہا جب سردی سے اس کا سارا جسم کانپ رہا تھا اور وہ لائٹس آن کررہی تھی۔ اس نے جو دیکھا وہ پھر اس کو اپنے ڈراؤنے خوابوں میں اور جاگتے میں بے شمار دفعہ دیکھنے والی تھی۔

اس نے داراشکوہ کو خود اپنے خون میں لت پت پایا۔ پہلے اس نے سوچا کہ شاید وہ خواب دیکھ رہی ہے۔اس نے اپنے آپ کو نوچا، ہرچگہ تھپڑ مارے ، اپنے بال کھینچے اور اپنے ہاتھوں اور بازو پہ وحشیانہ انداز میں کاٹا تاکہ اندازہ لگاسکے کہ وہ خود کس حالت میں ہے۔ ایک بار جب اسے یقین ہوگیا کہ یہ خواب نہیں تھا تو وہ اس کے قریب ہوگئی۔  اسے یہ جاننے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ اس نے اپنی کلائی چاقو سے  کاٹ لی تھی جسے وہ سیب اور سنترے کے ساتھ یہاں رکھ گئی تھی۔ وہ چلائی نہیں۔ اس نے کسی کو مدد کے لیے بلانے کے لیے چیخ و پکار نہ کی۔ اور اس نے ایک آنسو بھی نہیں ٹپکایا۔ وہ دو زانو ہوکر بیٹھ گئی اور فرش کو اپنی شال سے ایسے صاف کرنا شروع کردیا جیسے گویا وہ معمول کے مطابق پونچا ماررہی ہو۔ جبکہ ایسا کرتے ہوئے ، اس کے کپڑے اس کے خون میں بھر گئے۔ وہ فرش سے خون کو صاف کرنے میں ناکام رہی کیونکہ اس کی خاصی بڑی مقدار تھی۔ اس کے بعد اس نے اسے اپنے بازو میں بھرکر اٹھانے کی کوشش کی جیسے دارا اب بھی کوئی چھوٹا سا بچہ ہو جیسے جب وہ ٹی وی دیکھتا سوجاتا تو اٹھاکر اسے بیڈ تک لیکر جاتی تھی۔ اس کے جسم کی ٹھنڈک بعد میں اس کے اپنے بدن کا ہمیشہ کے لیے حصّہ بنکر رہ گئی تھی۔

وہ اسے اٹھا تو کیا پاتی گھیسٹ بھی نہ پائی۔ اس دوران اس کا شوہر نماز فجر کے لیے اٹھا تو اسے واش روم یا کچن میں نہ پاکر اسے تلاش کرتا وہاں آگیا۔ وہ فوری مدد کے لیے چلانے لگا۔ کچھ ہی دیر میں ہر کوئی جو گھر میں تھا وہاں آپہنچا اور اس نے اسے فرش پہ اس حالت میں بیٹھے ہوئے پایا کہ دارا شکوہ کا سر اس کی گود میں تھا اور وہ اسے نرمی سے سہلاتے ہوئے اس سے سرگوشی میں کوئی بات کررہی تھی جیسے اس نے اس کے سر کا مساج کرکے اسے ابھی سلارہی ہو اور اسے ویسے ہی کہانیاں سنا رہی ہو جیسے جب وہ بچہ تھا اور اس کی گود میں سویا کرتا تھا تو سنایا کرتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے شدید نمونیا نے جکڑلیا تھا۔ اسے چھے ماں تو صحت یاب ہونے میں اور اتنا ہی وقت اردگرد کے بارے میں  حواس بحال ہونے میں لگا۔ کرنل برق نے ہر ایک کو حکم دیا کہ اس رات جو ہوا اس بارے میں اشاروں،کنایوں میں بھی بات نہ کرے۔

صدمے سے نکلنے کے بعد اس نے پہلا کام یہ کیا کہ دارا شکوہ کے کمرے کا دروازہ لاک کردیا۔ بس وہ ہی تھی جو وہاں جاسکتی تھی اور گھنٹوں وہاں رہ کر اس کے کپڑوں اور کتابوں کو ان کی جگہ سے باہر نکالتی اور پھر وہیں واپس رکھتی رہتی تھی۔ یہاں تک کہ چند جوڑی کتابوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھنے میں اسے کافی لمبا وقت لگ جاتا تھا۔ کسی بھی شئے کو وہ اپنے اندر چند لمحات میں ختم کرسکتی تھی لیکن یہ اس کی خاموشی، اس کے اندر گھس کر بیٹھے آسیب تھے جو کسی صورت دبائے نہیں دبتے تھے۔ وہ شدت اضطراب کے ساتھ خون میں لتھڑے کپڑوں اور موبائل کو تلاش کرتی تھی۔ ایک شام کرنل برق نے دروازے پہ دستک دی۔ وہ کمرے اندر داخل ہونا چاہتا تھا، لیکن وہ راستے میں ایسے کھڑی ہوگئی جیسے پوچھ رہی ہو کہ پہلے وہ بتائے وہ اندر کیوں داخل ہونا چاہتا ہے۔

‘رقیہ! اس نے اسے بتایا ،’ میں نے ہر وہ چیز دفنا دی ہے جس پہ اس کا خون لگا ہوا تھا۔’

اس نے کتابوں اور کپڑوں کو ترتیب سے رکھنا بند کردیا۔ اب اس نے فرنیچر کی ترتیب بدلنے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن وہ خود تو ایک درمیانے سائز کی میز کو نہیں ہلا سکتی تھی۔ اس نے گھر میں کام کرنے والے ملازموں میں سے ایک کو مدد کا کہنے کا فیصلہ کیا۔اس نے کئی دن گھریلو ملازم کو صرف اشاروں  اور چند لفظوں سے یہ بتانے میں گزار دیے کہ فرنیچر کو نئے سرے سے کس ترتیب سے رکھنا ہے۔ یہ گزشتہ شام کا وقت تھا جب اس نے نئے طریقے سے ہوئی فرنیچر کی ترتیب پہ اطمینان محسوس کیا۔ بر طرح سے نڈھال ہوکر رہ گرنے کو تھی اور کمرے سے جانے لگی تھی کہ کس نے اس کی لکھنے کی میز کی دراز کھول لی اور اس میں تین کالی-سبز شیٹ دیکھ لیں جن پہ دارا شکوہ نے لالین کا نام لکھنے کا پروگرام بنایا تھا۔ وہ شیٹ اپنے ساتھ لے گئی اور ان کو اپنے بستر کے تکیے کے نیچے رکھ دیا جہاں وہ ہمیشہ کے لیے قیام کرنا چاہتی تھی۔اسےسکون تب ہی ملتا تھا جب وہ اپنے کمرے میں ہوتی تھی، جہاں اس کے کپڑے،کتابیں اور دوسری بہت سی چیزوں کے وہ قریب ہوسکتی تھی جو اس کے زیراستعمال رہا کرتی تھیں۔ لیکن کسی وجہ سے وہ کبھی اپنے کمرے میں سوئی نہیں تھی۔

اسے اپنے آپ پہ فخر تھا کہ وہ دارا کی زندگی کی ہر ایک بات سے واقف تھی، یہاں تک کہ اس کے خیالات سے بھی۔ ا س نے کوئی ایسا کام کیا ہی نہیں تھا جو اسے نہ بتایا ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

مادر رقیہ کو بس یہ معلوم تھا کہ دارا نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا کیونکہ اس کی لالین مرگئی تھی۔، لیکن اسے کبھی اس نوٹ بارے نہیں پتا چل سکا جو اس نے اپنی کلائیوں کو کاٹ لینے سے پہلے اس کے لیے لکھا تھا۔ نوٹ میں لکھا تھا:

پیاری مادر رقیہ، اب جبکہ لالین اسلام آباد کے قبرستان میں لیٹی ہوئی ہے، ایک معصوم زندگی ان لوگوں نے ختم کردی جن کے سینوں میں دل نہیں ہے اور وہ اچھے مسلمان ہونے کے دعوے دار ہیں۔ میرے لیے تو کوئی ایسی شئے بچی نہیں ہے جس کی خاطر اب مزید جیا جائے۔ میری آخری خواہش یہ ہے کہ مجھے اس کے پہلو میں دفنایا جائے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ ہی میری خواہش کو پورا کرسکتی ہیں۔ میں جانتا آپ کو میری کمی شدت سے ستائے گی۔ آپ یقینی بات ہے میرے اس طریقے سے چھوڑجانے پہ خفا ہوں گی۔ لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ مجھے معاف کردیں گی۔ برائے مہربانی مجھے معاف کردیں۔  میں ایک طرح سے بالکل مایوس ہوچکا ہوں۔یہ وہ ہے جو آپ نے ہمیشہ سے کیا ہے۔ زندگی اب جینا بے کار ہے اگرچہ آپ ابھی ہیں یہاں۔ میں آپ سے التجا کرتا ہوں مجھے لالین کے پہلو مین دفن کیجیے گا۔

تمہارا جھلا لڑکا،دارا۔

یوسف کو یہ نوٹ 15 مارچ کو اس وقت ملا جب وہ کچھ ناگزیر سرکاری ضابطے پورے کرنے کے لیے دارا شکوہ کے کمرے میں اس کے شناختی کارڈ ڈھوںڈنے آیا تھا۔ وہ فوری طور پہ مادر رقیہ کے شوہر کے پاس گیا اور وہ اکٹھے کرنل برق کے پاس گئے۔رقیہ کا شوہر چاہتا تھا  جو ہوا اسے بھلادیا جائے، لیکن وہ رضامند نہیں ہوا۔

” روز قیامت میں اللہ اور اس کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیا جواب دیں گے؟ یہ کہ ہم نے ایک گندی کافر رنڈی کو مسلمانوں کے قبرستان میں پڑا رہنے دیا۔؟ اب جبکہ اب ہم سب جانتے ہیں کہ سچ کیا ہے تو ہمیں اس پہ پوری طور پہ شریعت کے مطابق عمل کریں۔’

کرنل برق نے اس سے اتفاق کیا اور اسے بمطابق شریعت نمٹنے کو کہا۔ لیکن وہ اس نوٹ بارے کسی کو بھنک نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا۔ اس نے اسے ٹھیک طریقے سے جلادیا۔

یوسف نے اگلے دن  اسلام آباد قبرستان کے امام کو اور عالمی مجلس ختم نبوت کے سربراہ کو اپنے دفتر بلوایا اور لالین ے والدین سے جو توہین اور بے ادبی ہوئی تھی اس پہ ان کو مطلع کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کھڑکی کے ساتھ کرسی پہ بیٹھی سوچ رہی تھی کہ 20 سال کی عمر میں وہ کیسا لگتا۔ اس نے کپنی آنکھیں موند لیں اور دارا شکوہ کی پیدائش کے منظر سے لیکر اس کی موت تک کے سب مناظر کو تیز رفتاری سے فلیش بیک تکنیک سے دیکھنا شروع کیا۔ اس نے یاد کیا کہ کیسے جس لمحہ اس کی نظر اس پہ پڑی تھی، اسی وقت سے وہ اسے پیار کرنے لگی تھی۔ وہ اس وقت محض چند منٹ کی عمر کا تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ اس نے شاہ بانو سے پہلے اسے دیکھا تھا۔ شاہ بانو کی موت کے بعد، وہی اس کے لیے سب کچھ تھی اور وہ اس کے لیے سب کچھ تھا۔ اس کی ہر ایک دید اس کا دل گرمادیتی تھی۔ اس نے اس سے قریب ہونے کا کوئی موقع ضایع نہیں ہونے دیا نہ ہی اسے چھونے کا کوئی موقع رائیگاں جانے دیا۔ جب تک اس کی شادی نہ ہوئی، وہ اس کے بغیر نہیں سوئی۔ وہ پیچھے سے اس سے لپٹ جاتی اور اسے سہلاتی رہتی اس وقت تک جب تک اسے یقین نہ ہوجاتا کہ وہ آرام سے سو رہا ہے۔ یہاں تک کہ جب اس کی شادی ہوگئی تو جب اسے یقین ہوجاتا کہ وہ سوگیا ہے تب وہ اپنے کمرے میں جاتی۔ وہ ایک رات بھی اس سے دور نہیں رہ پاتی تھی۔ وہ اسے اپنے بچوں سے کہیں زیادہ عزیز تھا۔ یہاں تک کہ کرنل برق اپنی حدود سے واقف تھا جب اسے دارا شکوہ سے معاملہ کرنا ہوتا تھا۔ اس کے شوہر کو اس کے حلاف ایک لفظ بھی کہنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔

اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔ دارا شکوہ کا گٹار دیوار کے سہارے رکھا ہوا تھا۔ اس نے انھوں دھنوں کو یاد کیا جو وہ اس گٹار پہ بجایا کرتا تھا۔ ‘ تم نے کیوں اپنے آپ کو مار لیا،میرے غریب جھلے دارا؟’ یہ سوال اس کے ذہن پہ لاکھوں مرتبہ بمباری کرچکا تھا، لیکن اس مرتبہ اس نے گٹار کو مخاطب کرکے یہ سوال اٹھایا تھا۔

اس کو اس کے بچپن کی وہ شامیں یاد آئیں جب وہ دودھ پینے سے انکاری ہوتا اور وہ اسے انگلیوں کی پوروں کو اس کے کولہوں پہ مار کر اسے مجبور کرتی اور پھر اپنی گودی میں لیکر اس کو بہلاتی تھی ۔ ان چپت میں کسی قسم کا کینہ نہیں ہوا کرتا تھا۔ وہ تو بس اسے دودھ پلانا چاہتی تھی۔ جب وہ سوجاتا تو وہ گھمبیرتا کے ساتھ سوچتی کہ اسے اس کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہئیے تھی۔ اگر وہ اس زبردستی کے دوران خود کو فرش پہ گرالیتا  یا خود کو ہلکے سے زخمی کرلیتا تو وہ گھنٹوں اس کا مساج کرتی رہتی ۔اس دوران وہ دکھ سے چلاتا اور خدا سے غیر مہربان ہونے کا شکوہ کرتا رہتا۔ وہ تو بہت دبّو بچہ تھا، وہ کیسے خود اپنی کلائیاں کاٹ سکتا تھا؟  کس قدر تکلیف  سے اسے گزرنا پڑا ہوگا۔

وہ  روئی چلائی نہیں۔  اس کی آہ و بکاء اس کے اپنے اندر ہی تھی بالکل خشک آہ و بکاء جیسے۔ وہ جاچکا تھا۔ اور وہ مادر رقیہ کی زندگی بھی ساتھ ہی لیجا جاچکا تھا۔’آسان ترین کام’، اس نے سوچا، ‘ آسان ترین کام کسی  کا زندگی کی تلخیوں سے فرار کے لیے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلینا ہوتا ہے۔’  لیکن  اس کڑواہٹ کو ہر لمحے چکھنا اور پھر بھی جینے پہ مجبور ہونا انسان کی زندگی کے لیے سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔’

وہ ہانپتے ہوئے اور لرزتے ہوئے کھڑی ہوگئی ۔ ‘ میری خواہش ہے’، ‘میری خواہش ہے کہ مہیں پتا ہوتا کہ کوئی اپنے پیاروں کے مرنے پہ ان کے ساتھ مر نہیں جاتا۔ میں تمہارے ساتھ ہی مرگئی ہوتی اگر یہ بات سچ ہوتی۔ تم نے ایسا کیوں کیا،دارا؟ میرے جھلے بچے!’

شاید اس کے تحت الشعور میں لالین سے حسد چھپا ہوا تھا یا وہ عالم فراموشی کی وجہ سے یہ سمجھ نہیں پائی کہ اگر دارا شکوہ ہوتا تو وہ اس سے اس بات پہ اختلاف کرتا اور کہتا : میں لالین کے ساتھ ہی مرگیا تھا۔

ایپی لاگ کے بعد جو تین ضمیمے عباس زیدی نے لف کیے ہیں ان کا عنوان رکھا ہے:

Pro Bono Publico

عوام کی بھلائی کی خاطر

(یہ لاطینی زبان کا جملہ ہے۔ اس کا لغوی معنی اوپر درج کردیا گیا ہے۔ جبکہ قانونی اصطلاح میں یہ  ایسی قانونی خدمت ہے  جو کسی معاوضے کے بغیر فراہم کی جائے)

    

ضمیمہ اول

ایک دہشت گرد کا سفر جہنم

قبر میں پیر لٹکائے، آسمان کی طرف سر اٹھائے، بوڑھا، ناکارہ اور زنخا عمر قادری اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ یہ وہی دہشت گردی کا استاد، الحاد کا مبلغ شخص تھا جو بے نظیر بھٹو کے کمزور شانوں پہ کھڑا ہوکر اور امریکی دلال ہوکر انقلاب کا آغاز کرنے جارہا تھا۔

ہمارے نوجوان پڑھنے والے ہوسکتا ہے عمر قادری کی بداعمالیوں سے واقف نہ ہوں۔ وہ دماغی خلل، بڑھاپے کے ساتھ در آنے والی بیماریوں اور چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے جیسے آسیبوں کا شکار ایک شخص تھا۔

تو یہاں ہم اس برے آدمی کے بارے میں چند حقائق پیش کررہے ہیں کیونکہ حال ہی میں چند سیکولر پرچوں میں اس کی تعریف کی گئی ہے۔

وہ سوویت یونین کا ایجنٹ تھا جہاں سے اس نے انارکی پھیلانے کی تعلیم ملحد اساتذہ سے حاصل کی تھی۔ وہ پاکستان میں بدنام زمانہ کے جی بی کے جنونبی ایشیاء ونگ کا سربراہ تھا۔ وہ کافر و مرتد ذوالفقار علی بھٹو کا انتہائی قریبی ساتھی، اس کے جرائم کا شریک کار اور اس کا غیر اعلانیہ میڈیا ایڈوائزر تھا۔ اس نے ناجائز ذرایع سے لاکھوں ڈالر حاصل کیے اور بھٹو پہ بے پناہ اثر کا مالک ہوا گیا۔ ‘نام نہاد پروفیسر’ عمر قادری بھٹو کے غیر اسلامی دور حکومت جو 1972ء سے 1977ء تک قائم رہا میں ملک کے کئی شعبہ ہائے زندگی میں بے حیائی اور فسق و فجور پھیلانے کا تنہا ذمہ دار تھا۔

وہ خود ایک بریلوی قبروں کا بچاری تھا۔ اس نے ایک غیر اسلامی گرپ ایک ایرانی مرتد کے نام پہ ‘ الحلاجی’ کے نام سے قائم کیا۔ اس گروپ کی نگرانی میں کافی بے ہودہ اور ملحدانہ ادب شایع ہوا۔ اس نے انتہائی بے حیائی سے اس رسالے کے مدیر سے کئی مسائل پہ بحث و مـباحثہ کیا اور اسے ہمیشہ مربوط طریفے سے شکست دی گئی مگر اس نے کبھی اپنی ہار نہیں مانی۔

اس کا واحد مقصد اور مشن اسلام کے اچھے نام کو برباد کرنا اور ہمارے پیارے پاکستان کی اسلامی شناخت کو برصغیر ہند کی ماقبل اسلامی تاریخ کی تدریس کرکے تباہ کرنا تھا۔ اس نے کئی نسلوں کے بیوقوف نوجوان مرد اور عورتوں کو یہ یقین دلاکر گمراہ کردیا کہ نعوذ باللہ اشتراکیت اسلام کا متبادل نظام ہے۔ لیکن اس سے پہلے کا کمیونزم اور الحاد کی قبا پہنے اس کا اثر پاکستان میں قدم جما پاتا، پاکستان آرمی نے جنرل ضیاء شہید کی قیادت میں مداخلت کی اور بھٹو رژیم کو برطرف کردیا۔ 5 جولائی 1977ء کی آدھی رات کو فوج نے جب بھٹو کی برائی کے اڈے پہ چھاپہ مارا تو عمر قادری بدعنوان سیاےست دانوں اور طوائفوں کے ایک گروہ کے ساتھ شراب پی رہا اور ناچ گانے میں مصروف تھا۔ فوجیوں کو دیکھ کر اس کا پتلون ہی میں پیشاب خطا ہوگیا تھا اور اس نے ان سے گڑگڑا کر اسے چھوڑ دینے کی التجاء کی۔ اس وقت سے گیارہ سال تک وہ ایک پاگل کتّے کی طرح ایک محفوظ جیل میں پڑا رہا۔جنرل ضیاء کی شہادت کے بعد، اسے غیرقانونی طور پہ بے نظیر بھٹو نے رہا کروایا جوکہ 1988ء میں امریکیوں کی سازش سے وزیراعظم بن گئی تھی۔

اس وقت سے اسے اپنے مرحوم ہوگئے الحلاجی گروپ کو پھر سے زندہ کرنے کی کھلی چھٹی مل گئی۔ سوویت یونین کے مرحوم ہوجانے کے بعد اسے سی آئی اے اور راء میں مال دینے والے نئے آ‍قا مل گئے۔

ایک بار دشمنان اسلام سے پیسہ لیکر خود کو پھر سے مستحکم کرلینے کے بعد اس نے اپنے مذموم عزائم کے لیے بے نظیر بھٹو کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اللہ کی طاقت اور اختیار کفار اور ان کے مددگاروں سے کہیں زیادہ ہے۔ آئیں ہم وہ وقت یاد کریں جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار مکّہ کو کچلنے کے بعد کعبہ کا طواف کیا اور ان آیات کی تلاوت کی:

” آپ فرمائیں کہ حق آگیا،باطل فرار ہوگیا اور بے شک باطل بھاگ جانے والا ہی تھا۔”

اللہ تبارک و تعالی نے چودہ سو سال پہلے جو فرمایا ، اب ہم بھی اسے ہی دوہراتے ہیں۔ تاریخ نے اپنے آپ کو دوہرایا ہے۔ اللہ کی پکڑ اس کے دشمنوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ہم نے سوویت یونین کو چند سالوں پہلے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا تھا تو امریکہ کی قسمت میں بھی ہمارے ہاتھوں ایسی تباہی لکھی ہے۔ تمام تعریف اللہ سبحانہ عزوجل کے لیے ہے۔

مدیر، ضیاء الاسلام

اسلام آباد، جنوری 2008ء۔

(The Infidels of Mecca, p247, 48, 49)

ضمیمہ نمبر دو

 پروفیسر عمر قادری کے مخالفوں کے نام جوابی خط

میں یہاں پہ ایک جہادی ماہنامے ( شمارہ جنوری 2008ء) کے حوالے سے بات کروں گی جسے سوشل میڈیا طالبان نواز اردو ٹاک شوز میں ان دنوں مسلسل زیربحث لایا جارہا ہے۔ کیا اتفاق ہے کہ 7 جنوری میرے شوہر کی لاہورشاہی قلعے کی جیل سے رہائی کا دن ہے۔میں ان پہ لگائے گئے الزامات کا جواب دینے کی خواہش نہیں رکھتی ہوں۔ نہ ہی میں یہ بتانے کی خواہاں ہوں کہ ان کی غیر حاضری میں ہم کن عذابوں سے گزرے تھے۔ انہوں نے ایک ایسی جگہ پہ گیارہ سال قید تنہائی کاٹی تھی جہاں پہ ایک رات کی قید داروغہ کے مظالم کے ساتھ جنرل ضیاء کے  مارشل لاء کے سب سے زیادہ سخت جان مخالفین کو بھی توڑ کر رکھ گئی تھی۔

میں یہ بھی بیان نہیں کروں گی کہ ان کی ٹانگوں میں بڑی بیڑیاں ان کی ٹانگوں میں کتنی جگہ پہ چرکے لگادیتی تھیں جب وہ محض اپنی ٹانگوں کو حرکت مں لاتے یا اپنی بیٹھی، کھڑی یا لیٹی پوزیشن میں بدلاؤ لانے کی کوشش کررہے ہوتے تھے۔ میں آپ کو یہ بھی نہیں بتاؤں گی جب انھوں نے خود اس سے آزاد کرانے کی کوشش کرتے تو ان کو کتنے گاؤ لگائے جاتے تھے۔میں ان تہمتوں کا جواب نہیں دوں گی (جو گزشتہ رات ٹی وی ٹاک شوز میں دوہرائی گئیں) کہ وہ اپنے خاندان کی دیکھ بھال سے مجرمانہ غفلت برتتے تھے اور اپنی بیٹیوں کی موت کے ذمہ دار تھے۔(وہ تو شاہی قلعے میں قید تھے جب ان کی بیٹیوں کو قتل کیا گیا۔جی ہاں، ان کا قتل ہوا تھا وہ طبعی موت نہیں مری تھیں)۔

کچھ بات اپنے شوہر کی گرفتاری بارے: جس رات ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹایا گیا، پروفیسر عمر قادری راولپنڈی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں تھے اور ایک رات پہلے ان کے آپنڈیکس کا آپریشن کرکے سرجری کی گئی تھی۔6 جولائی 1977ء کی شام ان کو ہسپتال کے بیڈ سے گھیسٹ کر لیاجایا گیا تھا۔ اس بات کی پڑتال انسٹی ٹیوٹ کے ریکارڈ سے کی جاسکتی ہے۔

میرے شوہر نے اپنے گروپ کا نام منصور الحلاج کے نام پہ رکھا تھا اور وہ دسویں صدی کے ملک فارس نہ (جدید دور کے ) ایران کے صوفی تھے جن کو ان کے میزبان عربوں نے ‘ انا الحق’ (میں ہی سچائی ہوں) کہنے پہ سولی چڑھا دیا تھا۔جو کوئی بھی تصوف کو سمجھنا یا صوفیانہ طریقے اختیار کرنا چاہتا ہے اسے منصور الحلاج کی زندگی کا مطالعہ کرنا ہوگا، جو کہ ایک ایسا شخص تھا جو جتنا خدا کے ساتھ تھا اتنا ہی خدا کی مخلوق/عوام کے ساتھ تھا۔ اس کے نزدیک رب کے پاس ہونے سے پہلے عوام کے نزدیک ہونا لازم تھا۔ ظلم و بربریت اور سماجی انصاف کے خلاف احتجاج اس کا راستہ تھا۔اور یہی راستا حلاجیوں کا بھی بن گیا جو میرے شوہر کی قیادت میں سرگرم تھا۔ الحلاجی گروپ منصور الحلاج کی پورے دل و جان سے تقلید کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ میرے شوہر ایک صوفی مسلمان تھے جو وارث شاہ اور بلّھے شاہ کی روایت کی پیروی میں تھے۔

آخری بات، پروفیسر مرنے سے کبھی ڈرے نہیں تھے۔ کیونکہ وہ تو ہمیشہ سے موت کے پاس ہی رہے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ خود کو جاسوسوں ، اذیت رسانوں، جلادوں، محتسبوں، موت کے ہرکاروں، شارپ شوٹرز اور خودکش بمباروں کے نرغے میں پایا تھا۔ شراب پینا بہرحال عوام کا خون پینے سے زیادہ برا نہیں ہے۔ آپ کو صرف اس بارے سوچنے کی ضرورت ہے۔

مسز حمیدہ قادری

مدیر کے نام خطوط

The National Times, 9 February 2008,

(The Infidels of Mecca, p250, 51)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here