نوٹ: ‘اسیر ادیبوں کا عالمی دن’ پر ہندوستان کی شہرہ آفاق ادیبہ اور دانشور ارون دھتی رائے نے بنگلہ دیش میں بنگلہ دیش کے بدنام زمانہ قانون برائے انفارمیشن و کمیونیکشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دھارا 57 کے تحت جیل میں بند فوٹوگرافر شاہد العالم کے نام ایک خط لکھا ہے جو ادیبوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ‘ دی پین’ نے شایع کیا ہے۔ یہ خط صرف ہندوستان و بنگلہ دیش کے تناظر میں اہمیت کا حامل نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے تناظر میں بھی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان میں اینٹی سائبر کرائم ایکٹ، پاکستان پروٹیکشن ایکٹ، انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت طالب علموں،صحافیوں، دانشوروں، ادیبوں، سیاسی و سماجی کارکنوں پہ مقدمات چلائے جانے سے معاملہ آگے چلا گیا ہے، اب یہاں جبری گمشدہ بنادیا جاتا ہے۔ حال ہی میں کراچی پریس کلب،باجوڑ پریس پہ سیکورٹی فورسز نے دھاوا بولا اور کراچی سے ایک صحافی نصراللہ چودھری کو پہلے جبری گشدہ کیا گیا اور جب اس پہ احتجاج تیز ہوا تو ان پہ انتہا پسندانہ لٹریچر رکھنے کا الزام لگاکر مقدمہ قائم کیا گیا اور ان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمے کا سامنا ہے۔ سابق سینٹر سید فیصل رضا عابدی کو چیف جسٹس سپریم کورٹ کے بعض اعمال پہ تنقید کرنے پہ غداری، ریاست کے خلاف جنگ، دہشت گردی جیسے الزامات کے تحت تین مقدمات کا سامنا ہے اور وہ اسلام آباد پولیس کی تحویل میں ہیں۔ طالب علم رہنماء شبیر بلوچ سمیت متعدد طالب علم، سیاسی و سماجی کارکن، شاعر و ادیب جبری گمشدہ ہیں اور ان کی کوئی خیر خبر نہیں ہے۔ دیکھا جائے تو پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی اور آزادی اظہار کو دبانے کے لیے زیادہ جابرانہ قوانین کے ساتھ ساتھ لاقانونیت کا دھندا ہندوستان اور بنگلہ دیش سے کہیں زیادہ عروج پہ ہے اور یہاں تو چناؤ کب کے گزر چکے۔ اور یہاں کوئی بھی حکومت سرے سے اپنے ذمہ کوئی الزام لینے کو تیار نہیں ہے۔ ارون کا یہ خط پاکستان کے تناظر میں کہیں زیادہ اہمیت کا حامل بن جاتا ہے

بنام شاہد عالم ساکن چمپا کلی 2/5 ڈھاکہ سنٹرل جیل کرن گنج ڈھاکہ بنگلہ دیش

پیارے شاہد

وہ جب تمہیں لیکر گئے تھے تب سے ابتک سو دن گزر چگے۔ تمہارے یا میرے ملک میں وقت اچھا نہیں چل رہا،تو جب پہلی بار ہم نے سنا کہ تمہیں نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا ہے تو ہمیں کسی بدترین ہونی کا خدشہ لاحق ہوا تھا۔ کیا تمہیں تڑی پار لگایا جانا تھا( یہ لفظ ہمارے ہاں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کے لیے استعمال ہوتا ہے)؟ یا تمیں نان سٹیٹ ایکٹرز کے ہاتھوں مارا جانا ہے؟ کیا تمہاری لاش کسی گڑھے میں ڈھاکہ کے مضافات میں کسی کھوکھلے تالاب میں ملنے والی تھی؟ جب تمہاری گرفتاری کا باقاعدہ اعلان ہوا اور تم زندہ سلامت پولیس اسٹیشن میں ظاہر ہوئے تو ہمارا پہلا رد عمل محض خوشی پہ مبنی تھا۔

کیا میں (یہ سب) واقعی تمہیں لکھ رہی ہوں؟ شاہد نہیں۔ اگر میں لکھ رہی ہوتی، تو مجھے ‘ پیارے شاہد الاسلام،کوئی مسئلہ نہیں کہ تمہارا قید خانہ کتنا سونا ہے کیونکہ ہماری نظریں تم پہ ہیں ۔ہم تمہاری فکر کررہے ہیں’ کے سوا کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔

اگر میں واقعی تمہیں لکھ رہی ہوتی تو مجھے تمہیں یہ بتانے کی ضرورت نہ پڑتی کہ عشروں پہ محیط تمہارا تصویروں اور الفاظ کا نگار خانہ ہمارے حصّے کی دنیا میں انسانیت کے ایک روشن نقشے سے سجا ہوا ہے۔ وہ اس کے دکھ درد، اس کی خوشی، اس کی وائلنس ، اس کے غم، ناخوشی، اس کی حماقت، اس کی کٹھورتا، اور اس کی مطلق پاگل پن پہ مبنی پیچیدگی کو ہمارے شعور کے پردے پہ اجاگر کرتا ہے۔ تمہارا کام جہاں پیار سے جگمگ جگمگ کرتا ہے وہیں پہ یہ اس کھوج لگانے والے سوالیہ غصّہ سے بھی مزین ہے جو کہ کسی بھی شئے پہ پہلی نظر ڈالنے سے پیدا ہوتا ہے جس کے تم عینی شاہد ہو۔ جنھوں نے تمہیں قید خانے میں ڈالا ان کو معلوم نہیں ہے کہ تم یہ سب کس طرح سے کرتے ہو۔ ہم ان کے واسطے امید لگاسکتے ہیں کہ کسی دن وہ سمجھ جائیں گے۔

تمہاری گرفتاری کا مطلب تمہارے ساتھی شہریوں کے لیے ایک تنبیہ ہے:” اگر ہم یہ شاہد العالم کے ساتھ کرسکتے ہیں، تو سوچ لو ہم تم باقی ساروں کے ساتھ کیا کرسکتے ہیں۔۔۔۔ تم سارے بے نام ، بے چہرہ ، عام لوگوں کے ساتھ ۔ دیکھو اور عبرت پکڑو۔”

ذہانت پہ حملہ
تم پہ باقاعدہ الزام ہے کہ تم نے اپنی فیس بک پوسٹوں میں اپنے ملک پہ تنقید کی ہے۔ تم پہ بنگلہ دیش کے بدنام ترین انفارمیشن اینڈ کمیونیکشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دھارا 57 لگائی گئی ہے، جو کسی بھی ایسے شخص کا احتساب کرنے کا اختیار دیتی ہے جو الیکٹرانک شکل میڑ ایسا مواد شایع کرتا ہے جو فیک/جعلی ہو امو بے ہودہ و فحش ہو، توہین آمیز ہو،اس کے دیکھنے والے اس سے بداخلاق اور بدعنوان ہوجائیں؛امن و عامہ میں نقص ڈالے یا ڈالنے کا سبب بنے؛ ریاست یا کسی شخص کے امیج بارے معتصب ہو؛ یا کسی بھی مذہبی عقیدے کو مجروح کرنے یا کرنے کا سبب بنے۔’

یہ کس قسم کا قانون ہے، یہ مہمل /مبہم، عمومیت سے بھرا اور بس سب کو گرفت میں لانے جیسا قانون ليتا ہے؟ ایسا ملک جو اپنے آپ کو جمہوریہ کہتا ہو اس میں اس کی کیا جثیت ہوسکتی ہے؟یہ کس کا اختیار ہے کہ ریاست کا کون سا امیب ٹھیک ہے ہور کون سا امیج ہونا چاہئیے؟ کیا قانونی طور پہ منظور شدہ اور متفقہ امیج بنگلہ دیش کا کوئی موجود ہے؟ دھارا 57 ہر قسم کی تقریر کو سوائے کھلی نفسیاتی بیماری کے سب کو جرم قرار دیتا ہے۔ یہ دانشوروں پہ نہیں بذات خود دانش پہ حملہ ہے۔ ہم سنتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سالوں میں 1200 ہزار سے زائد صحافی بنگلہ دیش میں اس الزام کا سامنا کرچکے اور 400 مقدمے اسی دھارا کے تحت چل رہے ہیں۔

ہندوستان میں بھی، ہماری دانش پہ ایسے حملے معمول بن گئے ہیں۔ بنگلہ دیش کے انفارمیشن اینڈ کمیونیکشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے ہم پلّہ قانون ہمارے ہاں ‘ انسداد غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ’ ہے جس کے تحت سینکڑوں لوگ بشمول طلباء،وکلاء اور اساتذہ کو ایک کے بعد دوسری لہر میں گرفتار کیا جارہا ہے۔ ان کے خلاف مقدمات بھی آپ کے خلاف مقدمہ جیسے ہیں جن میں بے بنیاد اور احمقانہ الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ پولیس کو بھی علم ہے کہ الزام علیھان نے عدالت عظمی سے چھوٹ ہی جانا ہے۔ لیکن شاید ان کو یہ امید ہے کہ کئی سال جیلوں میں رہنے کے بعد ان کے عزم اور ہمتیں ٹوٹ پھوٹ جائیں گی۔ یہ پروسس ہی سزا ہے۔

پیارے شاہد، تو جیسے یہ خط میں تمہیں لکھتی ہوں، تو میں چاہتی ہوں اس میں ‘ پیاری سودھا، ڈئیر سائی بابا، ڈئیر سریندر، ڈئیر شوما، ڈئیر مہیش، ڈئیر سدھیر، ڈئیر رونا، ڈئیر ارون، ڈئیر ورون اور دئیر طارق، ڈئیر اعجاز، ڈئیر عامر، ڈئیر کوپا، ڈئیر کاملا،ڈئیر مادیوی، ڈئیر ماسے، ڈئیر راجو اور کئی اور سینکڑوں ڈئیرز کا بھی اضافہ کرڈالوں۔

ان جیسے قوانین کے خلاف لوگ اپنا دفاع کیسے کرسکتے ہیں؟ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کسی شخص کو اپنی بے گناہی سند یافتہ دماغی خلل میں مبتلا لوگوں کے سامنے ثابت کرنی پڑے۔ ہر دلیل ان کے خلل دماغ کو تیز کرتی اور ان کے واہموں کو بلند تر کرتی ہے۔

چناؤ قریب ہیں
جیسا کہ ہمارے دونوں ملکوں میں چناؤ ہونے والے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ ہم مزید گرفتاریوں، مزید لنچنگ/بلوائی انصاف، مزید قتل، مزید بلاگرز کو گھیر کر مارنے، مزید منصوبہ بند نسلی،مذہبی ، جات پات پہ فسادات، مزید غلط طور پہ دہشت گردی کا ٹیگ لگا کر حملے اور مزید صحافیوں اور لکھاریوں کے قتل کی توقع کرسکتے ہیں۔ ہمیں علم ہے کہ چناؤ کا مطلب جلتی پہ تیل پھینکنا ہوتا ہے۔

آپ کی وزیراعظم،،جو ایک سیکولر ڈیموکریٹ ہونے کا دعوی کرتی ہیں، نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے بنگلہ دیش کو جو ایک ارب ڈالر دیے ہیں ان سے 600 مساجد تعمیر کریں گی۔ اور ان مساجد کے بارے میں یہ فرض کرلیا گیا ہے وہ اسلام کی ‘ٹھیک’ شکل کو پھیلائیں گی۔
ہمارے ہاں، ہندوستان میں، ہمارے حکمرانوں نے سیکولر ازم اور سوشلزم کے وہ سارے پنّے اتار پھینکے ہیں جن کو ہمارے آئین میں بنا سنوار کر لکھا گیا تھا۔ اپنی گورننس کی تباہ کن ناکامی سے توجہ ہٹانے اور مقبول گہرے عوامی جذبات کو دوسرا رخ دینے کے لیے ، ایک کے بعد ایک ادارے کو—- ہماری جامعات، عدالتوں،بینک، انٹیلی جنس ایجنسیوں۔۔۔ بحران میں پھنسایا جاتا ہے۔ حکمران طاقت (حکومت نہیں، بلکہ اس کی ہولڈنگ کمپنی راشٹریہ سوامیک سنگھ) متبادل کے طور پہ کام کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو ڈرا ڈھماکر اس جگہ سے تمام روکاوٹوں کو دور کرکے رام مندر کی تعمیر کا حکم نامہ جاری کروانا چاہتی ہے جہاں پہ کبھی بابری مسجد کھڑی تھی اور ایک مشتعل ہجوم نے اسے ڈھادیا تھا۔ یہ کتنا حیران کن ہے کہ کیسے سیاست دانوں کی پاکبازی کس قدر بلندی اور کس قدر وسیع اس وقت ہوجاتی ہیں جب الیکشن کا گھن چکر شروع ہوتا ہے۔

یہ ہے وہ جس کے خلاف ہم کھڑے ہیں، ایک کامل قوم، کامل شہری، کامل ہندؤ، کامل مسلمان کی ان مصفا تعریفوں کے خلاف ہم ہیں۔ اس کا پس نوشت کامل اکثریت اور شیطانی اقلیت ہے۔ یورپ اور سوویت یونین کے عوام ایسی ہی تباہی سے گزرے تھے جو ایسے ہی خیالات کے سبب آئی تھی۔ انھوں نے ‘مصفا پن’ کے ہاتھوں ایسے آلام سہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ حال ہی میں یورپ نے ‘کری سٹان لاخت’ /نائٹ آف بروکن گلاس ( نازیوں کی جانب سے یہودیوں کے قتل عام کا دن) کی 80 سالہ یاد منائی گئی۔ وہ دن جس سے ہالوکاسٹ کا آغاز ہوا تھا۔ وہاں بھی یہ سب آہستہ آہستہ خاموشی سے شروع ہوا تھا۔ وہاں بھی یہ چناؤ سے شروع ہوا تھا۔ اور وہآں بھی پرانی سرگوشیاں لوٹ آئی تھیں۔

ہم بھی آنے والے دنوں میں زمین کو جھلسا دینے والے چناؤ دیکھنے جارہے ہیں۔ وہ بھی ہمارے سب کو پکڑ لو قسم کے قوانین کا استعمال کریں گے، وہ بھی اپوزیشن اور مخالفت کو ختم کرنے کے لیے پرچھائیوں پہ جھپٹیں گے۔
خوش قسمتی سے ، ہم کسی ایک رسی سے بندھے ہوئے لوگ نہیں ہیں اور امید ہے کہ ہم اپنے متنوع اور کسی یک نوعی بندھن سے بندھے بغیر ہم ان کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
پیارے شاہد، مجھے یقین ہے کہ یہ جکڑ بندی ایک دن ختم ہوگی۔ یہ لازمی ہوگی اور ایسا ہونا ضروری ہے۔ یہ احمقانہ، بے بصیرت کٹھورتا ایک ایسے راستے کو کھولے گی جو زیادہ مشفق اور وژنری ہوگا۔ یہ خاص قسم کا کینہ، اور بیمار صحت کا یہ شاخسانہ جو ہمارے کرہ ارض پہ پھیل گیا ہے جلد انجام کو پہنچے گا۔

مجھے امید ہے کہ میں جلد ہی تم سے ملنے ڈھاکہ آؤں گی ۔

محبت کے ساتھ

ارون دھتی

قلمکاروں کی عالمی تنظیم ‘ قلم انٹرنیشنل’ پانچ ایسے ادیبوں کے مقدمات کو نمایاں کرتی ہے جو حکومتوں اور ریاستوں کے عتاب کا شکار ہوتے ہیں۔ چاہے یہ عتاب ان پہ اسیری کی شکل میں ہو یا ان کی زندگی کو لاحق خطرے کی شکل میں ہو۔ ایسے معتوب لکھاری اور صحافی جو جن کو دھمکیوں اور حملوں کا سامنا ہوا۔ اس سال اس تنظیم نے ارٹیریا میں قید داویت اسحاق، میکسیکو میں قتل ہوئے مائروسلوا بریچ ویلڈوسوا، روس میں قید اولیگ سینٹسوف، شاہد العالم اسیر بنگلہ دیش اور وائل عباس اسیر مصر کے لیے خصوصی مہم چلارہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here