ادارتی نوٹ: نوشاد عالم چشتی مسلم یونیورسٹی علیگڑھ سے پڑھے ہوئے  اسکالراور علی گڑھ میں مقیم ہیں۔ وہ اسلامیات، عربی اور تاریخ اسلامی کے ماہر اور سلسلہ عالیہ چشتیہ سے بیعت ہیں۔ آج کل وہ پنجاب کے تفصیلی دورے پہ ہیں۔ اس دوران وہ جماعت احمدیہ المعروف قادیانی جماعت کے پرانے مرکز واقع قادیان پنجاب انڈیا بھی گئے اور وہاں انھوں نے قادیانی مرکز کا دورہ کیا اور اس مرکز کے قدیم کتب خانے کے بارے میں معلومات بہم پہنچائيں۔ قادیانی جماعت کے بانی کے دعوی نبوت اور عقیدہ ختم نبوت پہ ایمان نہ رکھنے کے سبب جمہور مسلمان ان کو غیر مسلم اقلیت گردانتے ہیں۔ پاکستان میں وہ ریاستی سطح پہ غیر مسلم اقلیت قرار دیے جاچکے ہیں۔

———————————————————————————————قادیانی جماعت کی یہ مرکزی لائبریری ہے جو اپنے نظم و ضبط اور انتظام و انصرام کی وجہ سے ایک الگ پہچان رکھتی ہے. ان کا ہر سیکشن قابل توجہ ہے. قادیانی صاحبان جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ان کے موجودہ خلیفہ مرزا مسرور احمد صاحب نے اب اس کا نام بدل کر مولانا نورالدین لائبریری رکھنے کا حکم صادر فرما دیا ہے جو جلد ہی اس کے لوح پہ کندہ کر دیا جائے گا جس کی تیاری چل رہی ہے.
یہ لائبریری متعدد اعتبار سے قابل ذکر ہے، بطور خاص تقابل ادیان و مذاہب کے اعتبار سے تو اس کا جواب ہی نہیں ہے انہوں نے ریکارڈ کو بہت سنبھال کے رکھا ہے. ان کے سلسلے کی تقریباً تمام کتب یہاں موجود ہیں جو “کتب علمائے سلسلہ” کے زمرہ بندی کے تحت درج ہیں. اپنے مخالفین کی تحریر کردہ تمام کتابوں کو “کتب علمائے غیر جماعت کے تحت مندرج ہیں. ان کے یہاں اب کیٹلاگ سسٹم نہیں ہے پرانے دور کے رجسٹر سسٹم کو بھی ختم کرکے سب کتابوں کو مختلف علوم و فنون کے زمرہ بندی کے ساتھ کمپیوٹرائزڈ اندراج کیا جا رہا ہے اور یہ کام بہت سرعت کے ساتھ ہو رہا ہے. میں نے ندوہ، دیوبند، سہارنپور، مبارک پور شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ کے لائبریریوں کو اچھی طرح سے دیکھا ہے. غیر حکومتی لائبریریوں میں بہر حال اس لائبریری کا کوئی جواب نہیں. جدید ٹیکنالوجی کے اس زمانے میں دیگر اداروں کے لائبریریوں کو اس لائبریری سے کچھ سیکھنا چاہیے. اس لائبریری میں تصویر میوزیم کے ساتھ خانہ أطفال یعنی چلڈرن سیکشن بھی بہت قابل توجہ اور اہمیت کا حامل ہے. اس کا ریفرینس سیکشن اپنے آپ میں لاجواب ہے. تقسیم ہند سے پہلے کے متعدد اخبارات و رسائل مختلف سنہ کے اعتبار سے یہاں پہ موجود ہیں.
عام طور پر یہاں کی انتظامیہ اس لائبریری سے استفادہ کے لیے سب کو اجازت نہیں دیتی مگر جو لوگ کسی یونیورسٹی سے وابستہ ہیں یا کسی یونیورسٹی کے باقاعدہ ریسرچ اسکالر ہیں ان کےسفارشی خط کو ملاحظہ کے بعد اپنے خلیفہ سے منظوری لے کر نہ صرف اجازت دیتے ہیں بلکہ قیام و طعام کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں. ان کا عملہ بہت چاک و چوبند اور معاون ہے ہر ممکن لائبریری سے سہولت فراہم کرنے میں آپ کے ساتھ خوش مزاجی سے آپ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں. یہاں انڈیا سے باہر کے اسکالرس بھی استفادے کے لیے آتے ہیں. جلد ہی جرمنی، کینیڈا، ہالینڈ اور بلغاریہ کے ریسرچ اسکالرس بھی آئے ہوئے تھے. کل جرمن اسکالر سے میری ملاقات ہوئی تھی. تقریباً دس اسکالرس انڈونیشیا سے آئے ہوئے ہیں۔.

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here