اردو ادب: چند مشاہدات و گزارشات-ڈاکٹر اشرف لون

0
209

         عموماََ ہمارے یہاں یہ غلط فہمی یا جان بوجھ کر پھیلایا گیا جھوٹ ہے کہ ”ادب محض تفریح کا ذریعہ ہے اور جس کا جو جی چاہے وہ لکھے۔“ ان باتوں نے  اردو معاشرے میں بہت گمراہی پھیلارکھی ہے۔محض طوطا مینا کی شاعری اور قنوطیت پرست شاعری سے نہ اردو ادب کا کچھ بھلا ہورہا ہے اور نہ اردو والوں کا۔سب سے پہلی بات تو حیران کرنے والی یہ ہے آپ ایک ایسے نقاد، جو سماجی حالات و مقامی حالات سے نابلد ہے یا سرکاری نقاد سے ادب کے متعلق مشورے لے رہے ہیں جو حکومت کا ٹٹو ہے۔اگر یہ بات ثابت ہے کہ فلاں نقاد سرکاری آدمی ہے یا ”بیو روکریٹک تنقید“ میں وہ اعلیٰ مقام رکھتا ہے تو ظاہر سی بات کہ ایسا نقاد یا آدمی ”چیتن بھگت“ جیسے ادیب کو بھی نوبل انعام دینے کے حق میں ہوگا۔دوسری بات یہ کہ اس آدمی سے ادب کے متعلق غیر جانبدارانہ رویہ کی امید رکھنا کار فضول سے کچھ نہیں۔ سرکاری و بیروکریٹک تنقید کا نمونہ ملاحضہ ہو:

سرکاری نقاد: اصل بات تو یہ ہے کہ چونکہ وہ (فیض) انقلابی اور ترقی پسند وغیرہ تھے۔اس لیے ان کے کلام کو سیاسی معنی پہنانے میں ایک طرح کا لطف ہے۔ورنہ یہی شعر انھوں نے اگر دردؔ  کے زمانے یا غالب کے زمانے میں کہے ہوتے تو انہیں کوئی گھاس نہ ڈالتا۔

اس کے جواب میں اردو کے ایک بڑے اور مستند نقاد قمر رئیس کی رائے ملاحظہ ہو: ”خواجہ میر چونکہ صوفی اور متوصفانہ خیالات کے مبلغ تھے اس لیے ان کے کلام کو صوفیانہ معنی پہنانے میں ایک طرح کا لطف ہے۔ورنہ یہی شعر انہوں نے اگر قلی قطب شاہ کے زمانہ میں کہے ہوتے تو انہیں کوئی گھاس نہ ڈالتا۔“

        یہاں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔یہ جملے موصوف نقاد نے (جس کی تنقید صرف اردو کے ایم اے طلاب تک محدود ہے) فیض احمد فیض ؔؔؔ؎؎، دنیا کے ایک بڑے شاعر کے متعلق کہی ہیں۔ایسی ہی سرکاری تنقید کی مثالیں ہزاروں میں دی جاسکتی ہیں جس کے لیے نہ یہاں وقت ہے اور نہ ہی فضول میں کاغذ خرچ کرنے کی ضرورت۔

        تنقید پڑھنا  یا لکھناکوئی بری بات نہیں لیکن تنقید کی آڑ میں صحیح ادب کو بلا دینا اور ادب کا غیر جانبدارانہ مطالعہ نہ کرنا  ”ادب پڑھنا نہیں“ بلکہ ایک وقت گزاری کامشغلہ ہے اور اس میں زیادہ تر دوسروں پراپنی برتری ثابت کرنا  شامل ہوتاہے۔دوسرے یہ سمجھ لینا کہ تنقید نگار وہی ہے  یا اُسی کی بات ماننی چاہیے یا حرف آخر کا درجہ رکھتی ہے جس نے تنقید کے موضوع پر ’پی ایچ ڈی‘ کیا ہو،  یا جو اتشبیہ و استعارے کی بات کرتا ہو،گمراہی اور جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ایسا وہی لوگ کر رہے ہیں جن کو نہ عالمی ادب سے کچھ واقفیت ہے اور نہ ہی آنے والے وقت میں اُن کی کچھ وقعت رہنے والی ہے اور اُن کے اُدھار کی اینٹوں سے بنائے گئے محل جلد مسمار کیے جائیں گے، کہ اب بہت سرکاری و چاپلوسی تنقید ہوگئی۔اب ادب اور اپنے آپ کو سماج و معاشرے  کے ساتھ جوڑنے کا وقت آگیا ہے۔

        دوسری بات یہ کہ ادب کا کام محض امن پھیلانا نہیں جیسا کہ یہ پروپیگنڈہ پھیلایا جارہا ہے کہ اردو ادب کو امن پھیلانا ہے یا پھیلارہا ہے۔اگر ہم کچھ منٹ لے لیے مان بھی لیں کہ اردو ادب کو برصغیر میں امن پھیلاناہے تو ایسا کہنے والوں کو پھر ایسی مثالیں پیش کرنی چاہیے جہاں دکھائی دے کہ ادب کا کام امن پھیلانا ہے۔اور اس امن پھیلانے والے پیمانے کیاں ہوں گے۔حال ہی جنوبی ایشیا کے ایک ادبی انعام میں شامل ادبی انعام کے لیے نامزد مصنفین کی فہرست جاری کی گئی۔ یہ انعام جنوبی ایشیا کے لکھنے والوں کے لیے مخصوص ہے۔اس فہرست میں ہندی و تامل اور دیگر مقامی زبانوں کے ادیب شامل ہیں لیکن بدقسمتی سے اس میں اُردو کا کوئی ادیب یا فن پارہ شامل نہیں۔اتنی بات تو طے ہے کہ اردو ادب و امن اور تصوف کی بات کرنے والے وہی سرکاری افراد ہیں جنہوں نے ہندوستان میں بالخصوص مسلمانوں کو تصوف کا پاٹھ پڑھانے کی سرکاری ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے۔لیکن ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ امیر خسرو اور آج کے زمانے میں بہت فرق ہے۔ ہاں اگر ہم واقعی ادب سے امن کا پیغام والا کام لینا چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں افغانستان کے ادیب ”خالد حُسینی“ کے ناولوں و دیگر تحریروں کا مطاالعہ کرنا چاہیے۔مختصر یہ کہ ہم حقیقیت سے آنکھ چراکر امن کا پیغام نہیں دے سکتے ہیں۔ہم قتل ہوکے قاتل کو کس امن کا پیغام دینا چاہتے ہیں، کہ تلوار ہماری گردن پر ہے اور طوطے کی طرح امن امن کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں۔اسے تو جاہلانہ یا بزدلی والا قدم ہی کہا جاسکتا ہے یا پھر خودکشی۔  امن یا تصوف کی بات کرنا کوئی بُری بات نہیں لیکن جب یہ چیزیں ایک پروپگنڈے کے تحت انجام دی جائیں تو یہ اپنی معنویت کھودیتی ہیں اور عوام کو غلامی کی طرف لے جاتی ہیں۔ اور اس سے نہ ادب کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے اور نہ سماج کو۔

        ادب کا کام سماج کو آئینہ دکھا نا ہے اور سماج کی عکاسی ہے۔کیا ہندوستان میں جو اس وقت حالات چل رہے ان سے انکھ بند کرکے کوئی اچھا یا بامعنی ادب لکھ سکتا ہے۔ایسا کوئی دیوانہ ہی ہوسکتا ہے  یا پھر مشاعرے کا شاعر جن کو آج کے غیر اعلانیہ ایمرجنسی  اور مسلمانوں کے روزانہ قتل کے دوران بھی جشن جمہوریت منانے میں کوئی شرم نہیں آتی۔کیا سماج سے الگ ہوکر یا کٹ کر کوئی جاندار ادب لکھا جاسکتا ہے۔  اس کا صحیح جواب کوئی سرکاری نقاد نہیں بلکہ وہی ادیب و شاعر دے سکتے ہیں جنہوں اپنی تخلیقات سے عالمی پیمانے پر اپنی شناخت بنائی ہو اور یقینا اس سوال کا جواب نفی میں ہی ہوگا۔ادب چاہے جدیدیت کا ہو یا ترقی  پسند وں کا  یا پھر مابعد جدیدیت کا، یہ بہرحال اپنا خمیر سماج سے ہی حاصل کرتا ہے۔آج دنیا کے بہت بڑے مصنف اس بات پر متفق ہے کہ فکشن دراصل حقیقت کا ہی اظہار ہوتا ہے یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ فکشن میں دراصل حقیقت کو مختلف انداز و تکنیکوں سے پیش کیا جاتا ہے۔جتنا ناول، افسانہ یا شاعری اچھی ہوگی اتنی ہی اس میں حقیقت ہوگی۔

        اس وقت اردو ادب کو ترقی پسند والوں جیسی مزاحمت کی ضرورت ہے۔اس کے لیے اب کوئی مارکس یا لینن پڑھنے کی ضرورت ہے بلکہ عالمی ادب کے، کم سے کم انگریزی ادب کے مطالعے کی ضرورت ہے۔ایک وقت میں ہندوستان  میں اردو ادب مظلوموں ودبے کچلے سماج کے لیے ایک آواز تھا،لیکن آج اس کا وہ مقام نہیں رہا بالخصوص ہندوستان میں۔ہاں کچھ ادیب اچھا ضرور لکھ رہے ہیں لیکن زیادہ تر بس اپنے آپ کو دہرارے ہیں یا ان کی تخلیقات کا معیار بہت پست ہے۔ بیشتر اردو ادیب چاپلوسی  یا سرکاری  پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں یا صرف مشاعروں میں بریانی کا مزہ لے رہے ہیں۔ہم سب ارد و والوں کو اس طرف توجہ دینی ہوگی اور عالمی تنقید اور مختلف تنقیدی تھیوریز کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی ادب اور جنوبی ایشیا میں دوسری زبانوں کے ادب پر بھی توجہ دینی ہوگی کہ آیا وہ کیا لکھ رہے ہیں۔ہمیں ان سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

مضمون نگار ڈاکٹر اشرف لون جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں اردو ادب سے وابستہ ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here