فہمیدہ ریاض 21 نومبر،2018 اپنی بیٹی کے گھر لاہور میں ابدی نیند سوگئیں۔ ان کی وفات پہ ہر طرف سے تعزیتی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ سوشل میڈیا پہ لوگ اپنی یادیں ان کے حوالے سے شئیر کررہے ہیں۔معروف ترقی پسند شاعر عارف امام کو وہ زینب مارکیٹ کراچی صدر میں ‘آغا کی کتابوں کی دکان’ پہ اچانک اس وقت ملی تھیں،جب انھوں نے فہمیدہ ریاض کی کتاب خرید کی تھی اور وہ سفید ساڑھی میں ملبوس تھیں۔ آخری بار جب ان کو ملیں تو وہ پھر سفید ساڑھی میں ملبوس تھیں۔ عارف امام کہتے ہیں آج خبر آئی ہے کہ وہ سفید پیراہن میں ملبوس ہوکر ابدی نیند سوگئیں ہیں۔

 

انقلابی سوشلسٹ آرگنائزیشن کی رکن،معروف ایکٹوسٹ نغمہ اقتدار شیخ نے اپنے فیس بک پیغام میں بتایا کہ کیسے ان سمیت سینکڑوں نوجوان لڑکیوں نے کمیونسٹ فکر اور نسائی تحریک کے باہمی رشتے کو فہمیدہ ریاض کے دروس سے سیکھا اور وہ کہتی ہیں کہ فہمیدہ ریاض کراچی یونیورسٹی میں جب ان کو پڑھانے آئیں تو انہوں نے کہا،’میں نظریاتی اعتبار سے کمیونسٹ ہوں۔’ تو انہوں نے پہلی بار کسی لیکچرر کو یوں برملا کمیونسٹ اپنے آپ کو کہتے سنا اور ان کو بڑی خوشی ہوئی۔

 

میں نے جب سن شعور سنبھالا تو ہم نے انقلابی ادیب اور شاعروں کی صف میں کھڑی جن عورتوں کے نام بار بار سنے ان میں افضل توصیف، نسرین انجم بھٹی،امرتا پریتم،سارا شگفتہ کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ نام فہمیدہ ریاض کا سنتے تھے۔ ان کا شمار ان عورتوں میں کیا جاتا تھا جن پہ صبح و شام ضیاء الحقی میڈیا لعن طعن کرتا اور ضیاء الحق کا اتحادی دایاں بازو ان کو یہود و ہنود کے ایجنٹ کہا کرتے۔ ان کو ساتھ ساتھ روسی ایجنٹ بھی کہا جاتا۔ فہمیدہ ریاض اور افضل توصیف کو تو باقاعدہ دہشت گرد تک قرار دیا گیا۔ فہیمدہ ریاض ضیاء الحق کے زمانے میں ہندوستان چلی گئیں تو ان پہ ‘ایجنٹ’ ہونے کا ٹھپہ گویا مستقل سا لگ گیا۔

 

فہمیدہ ریاض سے ہر وہ شخص نفرت کرتا تھا جو جاگیرداری فرسودہ ضابطوں کو مذہب،رسوم،رواج اور روایات کے نام پہ مقدس مانتا تھا۔ فہمید ریاض سے ہر ایک استحصال کرنے والا اور ہر ایک ظلم و جبر کرنے والا نفرت کرتا تھا۔ فہیمدہ ریاض سے ہر وہ مرد نفرت کرتا تھا جو پدر سری نظام کی مسلط کی ہوئی مرد بالادستی کو مقدس و متبرک اور فطری شئے خیال کیا کرتا تھا۔ لیکن ان استحصالی،ظالم طبقات اور ان کے دست و بازو بنے ملّا کی بھرپور مخالفت ہی انقلاب پسند نوجوان مرد و خواتین میں فہمیدہ ریاض جیسی انقلابی خواتین کو مقبول و پسندیدہ بناتی چلی جاتی تھیں۔

 

جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران جن آوازوں کو پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان پہ بند کردیا گیا تھا ان میں فہمیدہ ریاض کی آواز بھی تھی۔ اور جب مارشل لاء بظاہر ختم ہوا اور بے نظیر بھٹو کو لولا لنگڑا اقتدار سونپا گیا تو حبس کچھ ختم ہوا۔ اس زمانے میں پہلی بار فہمیدہ ریاض کو کشور ناہید،پروین شاکر کے ساتھ پی ٹی وی پہ عوام کی بہت بڑی تعداد نے شعر پڑھتے سنا اور پھر ‘فہیمدہ ریاض شناسی’ کا حلقہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔

 

فہمیدہ ریاض مجھے اس لیے بھی بہت پسند تھیں کہ انہوں نے سوویت یونین کے ٹوٹ جانے اور سوشلسٹ بلاک کے ختم ہوجانے کو کبھی بھی مارکسی نظریات کے ختم ہوجانے سے تعبیر نہیں کیا تھا۔ وہ فوکویاما کی ‘نظریات کا خاتمہ’ جیسی تھیوری سے موقعہ پرستی کا جواز ڈھونڈ کر نہیں لائی تھیں۔ انہوں نے سوشلزم کو کبھی ‘ازکار رفتہ’ نہیں گردانا تھا۔ جب روس میں لینن کے مجسمے کو گرائے جانے کی خبریں عام ہوئیں اور رجعت پسند و رد انقلاب قوتوں نے خوشی کے شادیانے بجائے تو فہیمدہ ریاض نے ایک نہایت امید پرست نظم کہی،’مجسمہ گرادیا گیا۔’ اس نظم کو میں فوکویامہ جیسے نیولبرل ازم کے حامی دانشوروں کو خاموش کردینے والا جواب شمار کرتا رہا ہوں۔

 

مجسمہ گرادیا گیا

مگر یہ داستاں ابھی تمام تو نہیں ہوئی

کئی ورق سفید ہیں

لکھے گا جن پہ آدمی

اک اور باب جستجو

کہ حسن کی تلاش میں

کہ منصفی کی آس میں

پھری ہے خلق کو بہ کو

دکاں میں کتنا مال ہے

دکاں میں دلبری نہیں

دکاں میں منصفی نہیں

ابھی پہر ڈھلا نہیں

ابھی رواں ہے کارواں

دلوں میں نصب ہیں نشاں

مجسمہ گرا مگر

زمیں پہ زندگی دکاں کے نام تو نہیں ہوئی

ہماری داستاں ابھی تمام تو نہیں ہوئی

(نظم مجسمہ، کتاب،آدمی کی زندگی)

ویسے تو برصغیر تقسیم سے پہلے بھی ہمیشہ سے زندان جیسا منظر پیش کرتا رہا ہے اور کالونیل دور کا حبس انصاف پسندوں کے لیے تقسیم کے بعد بھی زندان کی طرح رہا۔ فیض نے آزادی کی صبح کو شب گزیدہ اور اس کے اجالے کو داغ داغ اجالا کہا تھا اور فہمیدہ ریاض کا کہنا تھا یہ تو ‘زندان’ ہے۔

 

یہ گھر ہے یا ہم نے

تعمیر کوئی زندان کیا

(نظم،آئینہ، کتاب،آدمی کی زندگی)

فہمیدہ ریاض مارکس کی طرح اپنی تنہائی کو ذاتی خیال نہیں کیا کرتی تھیں اور ان کے خیال میں یہ شب و روز کی لاش ہے جو ان کی دہلیز زندگی پہ دفنائی گئی ہے۔

 

یہ جو تنہائی ہے شاید میری تنہائی نہ ہو

گونجتا ہو نہ سماعت میں سکوت

اور شب و روز کی لاش

میری دہلیز پہ ایام نے نہ دفنائی ہو

(نظم،یہ جو تنہائی، کتاب،آدمی کی زندگی)

 

فہمیدہ ریاض ان دانشوروں میں سے  تھیں جو پاکستان کے اندر جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے دنوں میں پیدا شدہ حبس سے یہ خیال کرنے لگ گئے تھے کہ شاید ہندوستان کی فضا میں حبس نہیں ہے۔ اور اسی احساس کے تحت وہ ہندوستان جاپہنچیں تھیں۔ لیکن وہاں رہنے کے بعد اور پھر بعد ازاں ہندوستان میں ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو دیکھتے ہوئے ان کو احساس ہوا کہ بھارت میں بھی حالات مختلف نہیں ہیں تو انہوں نے 1996ء میں نظم لکھی۔’تم بھی ہم جیسے نکلے۔’  اور پھر 2000ء میں ان کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں بلایا گیا جہاں انہوں نے یہ نظم پڑھی۔

 

اپنے وقت کے ذہین اور حساس ترین لوگوں کے اندر کئی بار دنیا چھوڑ جانے کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ شعر یا کہانی کے زریعے اپنے مرنے کی فنتاسی بیان کرتے ہیں۔ فہمیدہ ریاض نے بھی یہ فنتاسی کئی بار بنی۔ ان کی ایک نظم کے چند اشعار میرے ذہن میں آرہے ہیں۔

اک سحر میں یہ کنارہ چھوڑ دوں گی

مجھ سے کہتا ہے یہ بہاؤ

ختم ہوگا یہ تناؤ

کھینچتی رہتی ہوں بادباں کے ڈورے رات دن

ان کو اک دن توڑ دوں گی

دھار پہ پانی کی ناؤ چھوڑ دوں گی

 

فہمیدہ ریاض لاہور میں فوت ہوئیں اور لاہور میں ہی دفن ہوئیں۔ ان کے جنازے پہ بقول علی اکبّر ناطق تین شاعر اور پچاس کے قریب مسجد کے نمازی تھے۔ لامحالہ ان میں ان کے رشتہ دار بھی شامل ہوں گے۔ فہیمدہ ریاض کے جنازے پہ ہمیں لاہور کی معروف اشراف لبرل فیمنسٹ خواتین نظر نہیں آئیں۔ اور نہ ہی عاصمہ جہانگیر کے جنازے پہ جلوس کی شکل میں آنے والے لاہور کے کئی نامی گرامی لبرل لیفٹ کے بڑے نام نظر آئے۔ ابھی چند دن پہلے فیض انٹرنیشنل فیسٹول پہ لاہور کے چند لبرل لیفٹ ساتھیوں کو ایک پینل ڈسکشن میں آنے سے روکنے پہ بہت سارے لوگ وہاں ہال میں ‘انقلاب و انقلاب،زندہ باد زندہ باد’ کے نعرے لگاتے نظر آئے لیکن یہ سب فہمیدہ ریاض کے جنازے پہ شاید کہیں اور زیادہ ضروری کام میں مصروف تھے تبھی تو نظر نہیں آئے۔ کیا فہیمدہ ریاض کے جنازے کے جلوس میں عورتوں کو آگے بڑھ کر قیادت نہیں کرنی چاہئیے تھی؟ ان سارے سوالوں کے لاہور کے کمرشل لبرل اور بوتیک لیفٹیوں کے پاس معقول جوابات کا ڈھیر ہوگا۔ یہ سارے کمرشل لبرل اور بوتیک لیفٹیے مولانا سمیع الحق کے جنازے پہ جذباتی تقریر کرنے والے حامد میر کی لاہور میں فہیمدہ ریاض کے جنازے میں شرکت نہ کرنے اور اپنے پروگرام کیپٹل ٹاک میں اس پہ ایک لفظ نہ کہنے پہ خاموش رہنا پسند کریں گے اور جب ہم لدھیانوی سمیت تکفیری انتہا پسندوں سے اس کے یارانوں پہ تنقید کریں گے تو یہ اسے حامد کا ‘صحافتی کام’ قرار دیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here