ایڈیٹر کا نوٹ: پاکستان میں ‘آزادی اظہار’ کے دعوے دار مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ چند بڑے لبرل اور لبرل لیفٹ گروہ بار بار میڈیا سنسر شپ کے متاثرہ ہونے کے دعوے دار بنتے ہیں۔ لیکن ان کو جہاں جہاں ایڈیٹر شپ ملتی ہے یا ویب سائٹ ایڈمن بنائے جاتے ہیں وہاں وہاں وہ اپنے رائے سے مختلف رائے آنے پہ خود سب سے بڑے سنسر ریگولیٹر ثابت ہوتے ہیں۔ اس کا ایک ثبوت عامر حسینی کا یہ آرٹیکل بھی ہے جو بہت سے اخبارات کو ارسال کیا گیا اور اس کے بعد یہ مضمون کئی ایک روشن خیالی اور آزادی اظہار کی علمبردار ویب سائٹ کو بھی بھیجا گیا۔ لیکن کسی نے اسے شایع کرنے کی ہمت نہیں کی۔ پاکستان میں کمرشل لبرل اور بوتیک لیفٹ سیکولر ازم، لیفٹ رجحان، جمہوریت پسندی اور مارکسزم پہ اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ ان دو حلقوں نے پاکستان میں بائیں بازو کی درخشندہ روایات کو اپنی تجارت کی بھینٹ چڑھایا ہے۔ پاکستان میں فیض، جالب، منٹو، سجاد ظہیر سمیت ترقی پسند انقلابی شاعر، ادیب،دانشور، سیاسی کارکن،سماج واد سب کے سب کارپوریٹ سرمایہ داری کے محافظ بننے والی اقدار کے برانڈ ایمبیسڈر بنادیے گئے ہیں۔ کارل مارکس کے دوسوسالہ جنم دن پہ انجمن ترقی پسند مصنفین پنجاب کے زیراہتمام لاہور میں منعقد ایک کانفرنس میں یہ مضمون پڑھا گیا تھا۔
Karl Marx and Living dead Intellectuals

The chief defect of all hitherto existing materialism – that of Feuerbach included – is that the thing, reality, sensuousness, is conceived only in the form of the object or of contemplation, but not as sensuous human activity, practice, not subjectively. Hence, in contradistinction to materialism, the active side was developed abstractly by idealism – which, of course, does not know real, sensuous activity as such.

اب تک مادیت پرست نظریہ کی جتنی بھی اشکال ہیں بشمول بیوروباخ ان کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ وہ شئے، حقیقت، حسیاتی سرگرمیوں کو یا تو محض ‘معروض’ اوبجیکٹ کے طور پہ لیتی ہیں یا وہ اسے محض خیال سمجھتی ہیں اور اسے انسانی سرگرمی یا تجربے کی خارجی یا داخلی حالت کے طور پہ نہیں دیکھتیں

The dispute over the reality or non-reality of thinking that is isolated from practice is a purely scholastic question.

فکر کے حقیقت یا غیر حقیقی ہونے کے سوال کو جب عمل سے الگ کردیا جاتا ہے تو یہ محض ایک خیالی بحث سے تعلق رکھنے والا سوال بنکر رہ جاتا ہے۔

Feuerbach, consequently, does not see that the “religious sentiment” is itself a social product, and that the abstract individual whom he analyses belongs to a particular form of society.
اس لیے فیوروباخ کو سمجھ نہیں آتا کہ “مذہبی جذبہ” بذات خود ایک سماجی پیداوار ہے اور جس مجرد فرد کا وہ تجزیہ کرتا ہے وہ بھی سماج کی ایک خاص شکل سے تعلق رکھتا ہے۔

All social life is essentially practical. All mysteries which lead theory to mysticism find their rational solution in human practice and in the comprehension of this practice.
سماجی زندگی ساری کی ساری عمل ہے۔ تمام گنجلگ اور مسائل جن کو مسیحی باطنیت کے دھندلکے میں گم کردیا جاتا ہے ان کا انسانی عمل و تجربے اور اس تجربے کی سوجھ بوجھ میں معقول حل تلاش کرسکتے ہیں۔

IX
The highest point reached by contemplative materialism, that is, materialism which does not comprehend sensuousness as practical activity, is contemplation of single individuals and of civil society.
ایسی مادیت پرستی جوکہ حسیاتی تجربے کو عملی سرگرمی نہیں سمجھتی اس کے نزدیک مادیت پرستی کا بلند ترین مقام افراد کو ‘سول سوسائٹی’ کا الگ تھلگ فرد سمجھنے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔

X
The standpoint of the old materialism is civil society; the standpoint of the new is human society, or social humanity.
پرانی مادیت پرستی کا موقف سول سوسائٹی ہے۔ جبکہ نئی مادیت پرستی کا موقف ‘ہیومن سوسائٹی’ یا سماجی سوسائٹی ہے۔

XI
The philosophers have only interpreted the world, in various ways; the point is to change it.
فلسفیوں نے دنیا کو مختلف پیرائیوں میں بیان کیا مگر اصل مسئلہ تو اسے بدل ڈالنے کا ہے

تھیسس آن فیوروباخ میں کارل مارکس نے یہ باتیں 1845ء میں لکھی تھیں اور 1885ء میں پہلی بار فیڈرک اینگلس نے شایع کی تھیں۔ آج جب ہم پانچ مئی 2018ء میں کارل مارکس کا 200واں جنم دن منارہے ہیں تو ہم آج کی مردہ ‘لبرل دانش’ کو اس آئینے میں دیکھ سکتے ہیں جو ہمیں بظاہر مادیت پرستی کی علمبردار بن کر بار بار ‘سول سوسائٹی’ اور اس کے اندر ‘الگ تھلگ فرد’ کو بڑا آدرش بناکر دکھاتی ہے اور ہمیں بس دنیا کے مختلف پیرائیوں میں بیان تک محدود رکھ کر اسے بدلنے کے اصل سوال سے دور کرنا چاہتی ہے۔

لبرل بورژوازی ڈیموکریٹس دانشور طبقے کا پاکستان کے مین سٹریم پرنٹنگ پریس، الیکٹرانک میڈیا اور پاکستان کے اندر ترقی کرتے سوشل میڈیا کے اس حصّے پہ بھاری غلبہ ہے جسے پاکستان میں ‘ترقی پسند اور روشن خیال’ سیکشن کہا جاتا ہے۔ اور یہ طبقہ ہمیں سب سے زیادہ پاکستان کے اندر مذہبی جنونیت،انتہا پسندی،مذہبی عسکریت پسندی اور اس سے جڑی سب لعنتوں اور مسائل کو جب مذہب سے جوڑتا ہے اور آگے ہمیں جب ‘جوہر مذہب’ بارے جو کچھ بتاتا ہے تو اس میں وہی بنیادی غلطی کارفرما ہوتی ہے جو کارل مارکس کے زمانے میں فیوروباخ نے کی تھی۔

یہ مذہبی رجعت پرستوں اور ان کے اندر سے اٹھنے والی عسکریت پسندی کی نظریاتی بنیادیں تلاش کرتا ہوا ان کی آئیڈیالوجی کو اس چیز سے ہی الگ تھلگ کرتا ہے جسے کارل مارکس نے

Sensuous
کہا تھا۔ یعنی سرمایہ داری کی حامی لبرل دانش جن کو آج کل سول سوسائٹی بھی کہا جاتا ہے ان کی مادیت پرستانہ فکر بھی حقیقت میں عینیت پرستانہ ہے یا جبری /میکانکی مادیت پرستی کا شکار ہے۔

اور ہماری لبرل دانش مذہبی رجعت پرستوں اور انتہا پسندوں کے نظریاتی عمل کو ہی اصل عمل بناکر دکھاتی ہے اور اس طرح سے وہ اصل میں صورت حال کو بدلنے کا راستا بتلانے کی بجائے حقیقت میں ‘صورت حال’ کی محض تشریح کرنے کی مرتکب ٹھہرجاتی ہے۔ اور اگر ہم آج کی پاکستانی یا بین الاقوامی لبرل بورژوازی دانش کا جائزہ لیں جن کو عرف عام میں پاکستانی سول سوسائٹی یا بین الاقوامی سول سوسائٹی بھی کہہ سکتے ہیں یہ اس مادیت پرستی کی ہی علمبردار ہے جسے کارل مارکس نے ‘پرانی مادیت پرستی’ کہا تھا اور یہ ‘انسانی سماج’ یا ‘سماجی انسانیت’ کی علمبردار نہیں ہے جو کارل مارکس کی نظر میں ‘جدید مادیت پرستی’ کا نصب العین بنتا تھا۔

لبرل ‘مذہبی جذبے’ کو سماجی عمل سے الگ کرکے دیکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ یہ ماننے سے انکاری ہوجاتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ سماجی عمل پیداوار سے ہی اس ‘مذہبی جذبے’ نے جنم لیا ہے جسے وہ انسان کی ترقی کی آخری منزل قرار دیتے تھکتا نہیں ہے۔

ایک طرف تو لبرل دانش/سول سوسائٹی ہے جس نے پاکستان میں روشن خیالی اور ترقی پسند ڈسکورس کے مرکزی دھاروں پہ قبضہ کیا ہوا ہے۔ دوسری طرف اس سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ دانشوروں اور سماجی ایکٹوسٹوں میں جو اپنے آپ کو بائیں بازو سے منسوب کرتے ہیں اور مارکس واد نظریہ کے ساتھ اپنے آپ کو جوڑتے ہیں ان کے ممتاز اور نمایاں افراد نے بھی لبرل بورژوازی دانشوروں کو ڈرائیونگ سیٹ پہ بٹھادیا ہے اور وہ بطور مقتدی لبرل امام کے خطبے کی جگالی کرتے نظر آتے ہیں اور ان میں کچھ کو تو ایسے ایکٹوسٹ دانشور کہا جاسکتا ہے جن کو ہم کارل مارکس کی اپنے کچھ ساتھیوں کو دیے گئے لقب سے نواز سکتے ہیں۔ اور وہ لقب ہے ‘زندہ مردے’
Dead Living Intellectuals
ہمیں پاکستان کو ترقی پسند، روشن خیال سوشل ڈییموکریٹک سماج میں بدلنے کے لیے اور رجعت پسند طاقتوں سے لڑائی میں جیتنے کے لیے لبرل بورژوا دانشوروں یا نام نہاد سول سوسائٹی اشراف ایکٹوسٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ زندہ مردہ دانشور رجعت پرستی اور سٹیٹس کو مزید طاقتور کرسکتے ہیں۔ ان کو ایک نئی شکل میں زندہ کرسکتے ہیں، ان کو شکست نہیں دے سکتے کیونکہ یہ رجعت پرستوں کی ماں سرمایہ داری کو ہرحال میں بچانا چاہتے ہیں۔

میں یہاں پہ لبرل دانشوروں کے نزدیک کارل مارکس سے بھی زیادہ ناپسندیدہ انقلابی ولادیمر لینن کی تحریر
What Liberal bourgeois and what they fear
سے ایک قول آپ کے گوش گزار کرنا چاہوں گا

Scratch a Russian and you will find a Tartar, said Napoleon. We say, scratch a Russian liberal bourgeois and you will find a police sergeant in a brand-new uniform, who is permitted to retain nine-tenths of his old strength for the very profound, “scholarly”, and “objective” reason that otherwise, he may, perhaps, want to “gain new strength”! Every bourgeois ideologist has the soul of a thoroughgoing huckster; he does not think of destroying the forces of reaction and of the “police sergeant”, but of bribing this police sergeant, of greasing his palm and appeasing him by striking a bargain with him as quickly as possible.
کسی روسی کو کریدو تمہیں اندر سے تاتاری ملے گا۔ایسا نپولین کہتا تھا۔ہم کہتے ہیں ایک روسی لبرل بورژوا کو کریدو تو تمہیں اندر سے ایک نئے برانڈ کی یونیفارم پہنے پولیس سارجنٹ ملے گا۔ جسے بہت ہی ٹھوس تحقیق اور معروضی سب سے اپنی دس میں سے نوحصّے طاقت دوبارہ حاصل کرنے کی اجازت ہوتی ہے ورنہ دوسری صورت میں وہ ایک نئی طاقت حاصل کرنا چاہے گا۔ہر بورژوا مفکراپنے اندر ایک کٹّر دلال کی روح رکھتا ہے۔ اسے رجعتی طاقتوں کی تباہی کی فکر نہیں ہوتی نہ پولیس سارجنٹ کی تباہی کی بلکہ وہ تو ‘پولیس سارجنٹ’ کو رشوت دینے کی فکر کرتا ہے، اپنی ہتھیلی کو گریس لگاتا ہے اور اس کے ساتھ جتنی جلد ہوسکے سودا بازی ممکن بناتا ہے۔

میں بھی کہتا ہوں کہ کسی بھی سرمایہ دار سیاست دان اور ان کی حمایت میں اوتاولے ہوئے لبرل دانشوروں کو کریدو آپ کو اندر سے ایک دلال ہی ملے گا اور لبرل سیاسی بورژوازی اندر سے فوجی آمر جیسے کردار کی مالک ہوگی اور اسے رجعت پرستوں یا اسٹبلشمنٹ کی تباہی کی فکر نہیں ہوگی بلکہ یہ تو جلد از جلد اسٹبلشمنٹ سے سودا کرنے کی فکر میں ہوگی۔اب یہ اور بات ہے کہ سودا بازی نہ ہو تو یہ اور زور و شور سے اینٹی اسٹبلشمنٹ اور لبرل ہونے کا شور مچانے لگے۔

آج پاکستان میں لیفٹ کی دانش کا المیہ کیا ہے؟ یہ لبرل بورژوازی دانش کے نقش قدم پہ چل رہی ہے اور لبرل بورژوازی سیاست دانوں کو بے نقاب کرنے کی بجائے ان پہ لبرل سرمایہ دار دانش کے جڑھائے لبرل ڈیموکریسی کے رنگ کو اور گہرا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
پاکستان میں لبرل بورژوازی کے نقش قدم پہ چلنے والے دانشور،صحافی اور تجزیہ کار یا جن کو آج کی نئی لغت میں ہم اینکر یا سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کہتے ہیں جو اپنے آپ کو لیفٹ کہتے ہیں یا وہ مارکس سے اپنی عقیدت ظاہر کرتے ہیں، وہ آخر کارل مارکس کی انقلابیت سے اپنے آپ کو دور کیوں رکھتے ہیں؟ اور وہ کیوں جعلی ترقی پسندی کا راستا اپناتے ہیں؟ اس سوال کا جواب بھی ہم خود کارل مارکس کی زندگی سے ہی تلاش کرتے ہیں

سرمایہ دارانہ سماج جو کہ ابتک کے تمام طبقاتی معاشروں میں سب سے واضح طبقات رکھنے والا سماج ہے۔اس سماج کے بہت سارے فوائد ایسے ہیں جو ماضی کے سماجوں میں نہیں تھے۔لیکن یہ سماج کبھی بھی ایک حقیقی انقلابی مزاحمتی نابغہ دانشور کے لیے مہربان نہیں رہا۔ اور ہو بھی کیسے سکتا ہے۔کیونکہ جتنی بھی سماج کے اندر روایتی روکاوٹیں ہوتی ہیں ایک جینئس ہمیشہ انسانی فطرت کی تخلیقی صلاحیتوں کو ان کے مقابلے میں لانے کے جتن کرتا ہے۔اور یہ ان سب روکاوٹوں کو ہلا ڈالنے کی کوشش کرتا ہے جس کے بنا طبقاتی سماج باقی نہیں رہ سکتا۔ تو ایسے طبقاتی سماج میں ایک جنئیس رہتے ہوئے بھی نہیں رہ پاتا اور اس کو آخر میں جگہ ملتی ہے تو وہ قبر ہی ہوتی ہے۔اس کا جینا حرام کردیا جاتا ہے۔

ایک انقلابی دانشور اگر طبقاتی سماج کی بنیادیں ہلادینے پہ اصرار نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ سماج کی طبقاتی بنیادوں کو برداشت کرنے پہ راضی ہے۔کارل مارکس کی سب سے بہترین سوانح عمری لکھنے والے مارکسی دانشور فرانز مہرنگ نے اس سوانح عمری میں لکھا تھا
جب نابغہ/جینئس طبقاتی سماج کو برداشت کرنے پہ راضی ہوجاتا ہے،جب وہ فیوڈل سوسائٹی /جاگیردارنہ سماج کو اکھاڑ پھینکنے کی حد تک خود کو محدود رکھتا ہے اور اپنے آپ کو سرمایہ دارانہ سماج کی خدمت کے لیے وقف کردیتا ہس،تو بظاہر یہ بہت بڑی طاقت جیت لیتا ہے، لیکن جیسے ہی یہ طبقاتی سماج کی سرمایہ دارانہ بنیادوں کو ہلانے کی کوشش کرے تو ایک دم سے اسے حاصل طاقت پگھل جاتی ہے اور جینئس کو باقی کی زندگی تنہائی میں سینٹ ہیلنا کے غار میں گزارنا پڑتی ہے۔ یا پھر ایک وہ دانشور اپنی بغاوت اور اپنے فلسطی پن کو کتر بیونت کے زریعے سے ‘سوبر’ بنالیتا ہس تو اس صورت میں اسے سٹیٹ منسٹر بننے سے لیکر برلن میں رائل پرشین پروفیسر بننے کی اجازت مل جاتی ہے۔لیکن جو دانشور کسی لحاظ سے اپنے آپ کو نہ بدلے اور وہ بتائے کہ سرمایہ دارانہ سماج میں پھیلی ابتری، بحران،خانہ جنگی، جنگیں، غربت ، انفراسٹرکچر کی بدحالی ، آلودگی، مذہبی جنونیت اور نسلی و لسانی تضادات یہ سب اس سماج کی اندرونی حرکیات کا نتیجہ ہیں اور وہ ان ہتھیاروں کی طرف اشارہ کرے جو خود سرمایہ دارانہ سماج کی اندرونی حرکیات سے جنم لیتے ہیں جن کو کام میں لانے سے سرمایہ دارانہ سماج کا دھڑن تختہ ہوتا ہو تو ایسے دانشور کے لیے سرمایہ دارانہ سماج کے پاس سوائے مصبیتوں اور اذیتوں کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ اسے مزید اس سماج کی کٹھورتا اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہس اور وہ قرون وسطی کے دانشوروں کی طرح نشان عبرت بنادیا جاتا ہے۔دیکھنے میں یہ سزائیں بظاہر کم کٹھور لگتی ہیں۔

انیسویں صدی کے جتنے نابغہ دانشور تھے ان میں سے کسی نے اتنی مشکلات کا سامنا نہ کیا جتنا ان سب میں سب سے بڑے دانشور جینئس کارل مارکس نے کیا۔ جب اس کی سرگرمیوں کا پہلا عشرہ ہی شروع ہوا تو اس کو غربت سے لڑنے پہ مجبور کردیا گیا اور جب وہ لندن آیا تو اس کے کاندھوں پہ غربت و عسرت میں گزری مہاجرت و جلاوطنی کا بوجھ دھرا ہوا تھا۔اور جب وہ نجات انسانیت کے لیے انتھک دانشورانہ اور عملی سرگرمیوں میں مصروف تھا اس وقت بھی اسے اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو محض زندہ رہنے کے لیے سرمایہ دارانہ سماج کے فریم ورک میں رہتے ہوئے بہت مشکل کی زندگی گزارنا پڑرہی تھی۔

ایک مرتبہ جب وہ کئی ہفتوں بیمار رہا تو اس نے اینگلس کو لکھا “اگرچہ میں کام کرنے کے بالکل قابل نہیں ہوں لیکن میں نے پھر بھی کارپینٹر کی فزیالوجی ،کولیکر کی مائیکرو اٹانومی، سپرزہیم کی بیسک ہیومن نرو سسٹم اور شوان و شیلڈن کی خلیہ کی سائنس پڑھ ڈالی ہیں۔”
سائنسی مطالعے کی اس بے انتہا بھوک کے باوجود وہ اپنے وہ الفاظ کبھی نہیں بھولا تھا جو اس نے اپنی جوانی میں کہے تھے
” زندہ رہنے اور لکھنے کے لیے ایک لکھاری کو پیسوں کو کمانے کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔لیکن اسے محض پیسے کمانے کے لیے زندہ اور لکھنا نہیں چاہئیے۔”

کارل مارکس کا سوانح نگار فرانز فینن نے “کارل مارکس اور اینگلس” آٹھویں باب میں ایک ذیلی عنوان “جینئس اور سماج” کے تحت ہمیں بتایا ہے وہ جس رخ پہ کام کررہا تھا اور اپنی دانش کو جس چیز پہ فوکس کیے ہوئے تھا اس کے بدلے میں برطانیہ کے سرمایہ دارانہ معاشرے نے اس کے اور اس کے خاندان کے نان نفقے کا انتظام نہ کیا۔بلکہ اسے الگ تھلگ کردیا اور اسے امریکی اخباروں میں ہفتے میں دو آرٹیکل لکھ کر چار پونڈ کمانے پڑتے تھے اور اس دوران اس کے سر پہ کبھی سبزی گوشت والے کا قرض تو کبھی لانڈری والے کا اور وہ باہر بھی نہ نکل پاتا کہ کپڑے لانڈری میں پڑے ہوتے۔

پاکستانی سماج کے اندر بھی سرمایہ دارنہ طبقاتی سماج اور سٹیٹس کو سے اتفاق نہ کرنے اور اس کی بنیادوں کو ہلادینے کی بات کرنے والے جنئیس افراد کے ساتھ بہت ہی برا سلوک ہوتا رہا ہے۔ان کو مین سٹریم میں کبھی جگہ بنانے نہ دی گئی اور جو جگہ بناپائے اگر انہوں نے اپنا اصل رنگ دکھانے کی کوشش کی تو ان کو ایک دم سے الگ تھلگ ہونا پڑا اور ریاست اور اس کے کرتا دھرتاؤں کے ساتھ لبرل سرمایہ دار جو اپے مفادات کی لڑائی میں اس کا تعاون ملنے کی شرط پہ اس سے نرمی برتنے کے قائل تھے وہ بھی اس سے بے گانہ ہوگئے۔اس لیے آج کم از کم پاکستانی اربن سنٹرز کی لیفٹ ایلیٹ اگر ہم اسے یہ نام دے سکیں سرمایہ داروں اور ان کے لبرل دانشور حامیوں کے تابع ہوگئے ہیں۔اور یہ سرمایہ داری کو کوئی حقیقی چیلنج سرے سے پیش نہیں کرتے۔اور یہ چلتے پھرتے مردہ دانشور ہیں جن سے کارل مارکس کو ہمیشہ سے نفرت رہی۔ویسے بھی کارل مارکس پیٹی بورژوازی کے دانشورانہ کردار کو مجموعی طور پہ موقعہ پرستانہ بتایا کرتا تھا۔اور کہا کرتا تھا کہ ان کا سر آسمان پہ اور پاؤں کیچڑ میں ہوتے ہیں۔

آج پاکستان کی درمیانے طبقے کی اکثریتی دانش کے پیر کیچڑ میں لتھڑے ہوئے ہیں اور لبرل بورژوا دانش کی غلامی میں اپنے ضیمر مردہ کرچکی ہے۔اور اس کا پاکستان کی ورکنگ کلاس سے کوئی رشتہ ناطہ نہیں ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here