سندھ پریس ایکٹ ایک ڈریکولائی قانون – عامر حسینی

0
347

جمعہ 16 نومبر،2018ء  سندھ اسمبلی میں  پریس ایجنسیز،پرنٹنگ پریس ، کتابوں کو ريگولیٹ کرنے کے لیے  جس مجوزہ قانون  کو پاس کرانے کا معاملہ سعید غنی ،مکیش کمار چاؤلہ اور مرتضی وہاب کی کوششوں سے کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ اس مجوزہ بل پہ سندھی ادبی سنگت سمیت سندھ بھر کی صحافتی و ادبی تنظیموں کی جانب سے جو سفارشات سابق سندھ حکومت کے دور میں سندھ حکومت کے ذمہ داران  سے مشاورت کے بعد پیش کی گئیں تھیں ان کے بغیر ہی مجوزہ قانون کو منظور کرانے کی کوشش کی جارہی تھی۔ سندھی ادبی و صحافتی حلقوں کی پیس کردہ سفارشات کے بغیر مجوزہ پریس ایکٹ گزشتہ مارشل لاؤں کے پریس اینڈ پلیکشنز آرڈیننسوں اور ضابطوں سے کہیں زیادہ  خون آشام اور ڈریکولائی قانون بن جاتا ہے۔ اس مجوزہ قانون کی ایک شق  کہتی ہے

 “Whoever prints or publishes any book or paper or disseminates news in contravention of the provisions of section 3, shall be punishable with fine, which may extend to Rs500,000 but shall not be less than Rs50,000 or with simple imprisonment for a term which may extend to one year or with both,”

سب سے زیادہ اعتراض چھپنے سے پہلے کتابوں کی رجسٹریشن پر ہے۔ جو بھی کتاب چھپوانا چاہتا ہے اس کیلئے اس کتاب، مندرجات، سائیز، صفحات سمیت تمام تفصیلات سندھ انفرمیشن کے متعلقہ افسر کے پاس جمع کرواکر رجسٹریشن کروائے گا۔

اس کا مطلب کہ ہر چھپنے والے مواد پرحکومتی کنٹرول ہوجائے گا۔ایسے ہی اگر کل کو کوئی ضیاء الحق کی حامی حکومت آگئی تو وہ ضیآء الحق کے خلاف چلنے والی بحالی جمہوریت کی تحریک بارے کسی مواد کو شایع کرنے کی اجازت سرے سے نہیں دے گی۔ خود بھٹو کی کال کوٹھڑی سے لکھی جانے والی کتاب اس شق کے تحت چھپنے ہی نہیں دی جائے گی۔ آج سندھ میں جبری گمشدگیوں کے خلاف جو تحریک ہے اس بارے کوئی خبر یا مواد کسی کتاب یا کسی پمفلٹ میں یا کسی اخبار میں شایع کرنا قانونی طور پہ جرم قرار دیا جاسکتا ہے۔اسی مجوزہ قانون کے تحت  ایک شق  پیچ انچارج کو ایسی قدغنوں میں باندھتی ہے کہ  لکھنے کی آزادی بالکل ختم ہوجائے گی

“The page in-charge shall, in supervision and superintendence of editor, be responsible for checking the contents of the pages and ensure due satisfaction of the material sent to the printer and publisher for publication. Every publisher shall submit the intimation in writing, as furnished by the editor, with respect to the responsibilities of page in-charge with his acceptance to the office of the press director and copy to the deputy commissioner concerned.’’

پیج انچارج ایڈیٹر کی نگرانی اور انتظام میں صفحات کے مواد کو چیک کرنے اور اس بات کی تسلی کرلینے کا مجاز ہوگا کہ وہ پرنٹر اور پبلشر کو بھیجے گئے مواد کے مطابق ہے الخ

یہ مسودہ قانون سندھ اسمبلی سے اگر پاس ہوجاتا ہے تو یہ پیپلزپارٹی کی حکومت کی پیشانی پہ ساری عمر کے لیے کلنک کا ٹیکہ بن جائے گا۔ اس لیے بلاول بھٹو پارٹی چئیرمین آف پی پی پی کو فوری طور پہ چیف منسٹر مراد علی شاہ اور پارٹی کے اراکین کو اس بل کو سندھی صحافتی و ادبی حلقوں کی سفارشات کے مطابق بناکر منظور کرانے کی ہدایت جاری کریں۔ میرے لیے حیرانی کی بات یہ ہے کہ آخر وہ کونسے عناصر ہیں جو اس بل میں شامل ڈریکولائی شقوں سمیت اس بل کو سندھ کا قانون بنانے کی خواہش رکھتے ہیں ۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ سندھ اسمبلی میں پریس  اور اشاعتی مواد کو ريگولیٹ کرنے کا جو ڈرافٹ سامنے لایا گیا وہ وہی ہے جو خیبرپختون خوا اور پنجاب میں پہلے منظور کرلیا گیا ہے۔ جس وقت پنجاب اور کے پی کے کی اسمبلیوں میں یہ بل پیش ہوئے تو وہاں کی صحافتی اور ادبی تنظیموں اور حلقوں نے اس قانون کی انتہائی جابرانہ شقوں پہ کوئی آواز بلند ہی نہیں کی۔ اور جس وقت یہ بل پنجاب میں پاس ہوا تو وہاں پہ شہباز شریف چیف منسٹر تھے اور مسلم لیگ نواز کی حکومت تھی۔ اور ہمارے کئی ایک اینٹی اسٹبلشمنٹ جمہوریت پسند اشراف صحافی و سول سوسائٹی ایکٹوسٹ اس بل بارے ایسے خاموش رہے جیسے ان کو کچھ پتا ہی نہیں تھا۔  پنجاب اور کے پی کے میں ان بلوں کا پاس ہونا ایک المیہ ہے۔ اور پنجاب و کے پی کے کی سول سوسائٹی کو اس غفلت پہ کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔

ادھر کوئٹہ میں جبری گمشدگان کے  خاندانوں نے ملکر کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک بڑے احتجاجی دھرنا دیا اور مظاہرہ بھی کیا۔ کوئٹہ میں بہت عرصے  کے بعد بلوچ مرد و خواتین کی اتنی بڑی تعداد نے جبری گمشدگان کی بازیابی کے لیے دھرنا دیا ہے۔ افسوسناک خبر  یہ آرہی ہے کہ جبری گمشدگان کی بازیابی کی بجائے دھرنا دینے والوں کو گرفتار کرنے کی تیاری کی جارہی ہے اور گزشتہ دنوں طالب علم رہنما شبیر بلوچ کی دو سالہ گمشدگی کے خلاف اس کی بیوی اور بہن کی ہمارہ شیر خوار بچے چیف منسٹر بلوچستان سے ملنے کی کوشش پہ کوئٹہ پولیس کی جانب سے مبینہ ہراسانی کی خبر اور متاثرہ خواتین کی آنسو بہاتے تصویریں سوشل میڈیا پہ وائرل ہوگئی تھیں۔ آخر مظلوموں سے بلوچستان حکومت کے حکام ملنے سے گریزاں کیوں ہیں؟   جبری گمشدگان کا معاملہ حل نہ ہونا پاکستان کے لیے انتہائی شرمندگی کا سبب ہے اور اس مسئلے پہ آواز اٹھانے والوں کی آواز کو دبانے کی بجائے یہ مسئلہ حل کیا جائے۔

ایس پی طاہر داورڈ کے اغواء کے بعد قتل کے معاملے پہ بھی وفاقی حکومت اور   انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی پہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔افغان حکومت کا رویہ بھی اس معاملے میں جلتی پہ تیل چھڑکنے کے مترادف تھا لیکن اس سے بہرحال داخلی سلامتی کے ذمہ دار حکام جواب دہی  سے جان نہیں چھڑاسکتے

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here