سینئر صحافی نصرت جاوید کے ساتھ جو حادثہ ہوا، اس پہ انھوں نے اپنے آخری ٹوئٹ میں کہا ہے کہ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی گاڑی کا ٹائر پتھر لگنے سے برسٹ ہوا اور اس حادثے کے بعد کی ہیجانی حالت میں جو لوگ ان کی خیریت معلوم کرنے آئے،وہ ان کو حملہ آور سمجھ بیٹھے۔ انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ ان کے پاس سوائے پولیس کے موقف کو ماننے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ نصرت جاوید کی گاڑی کو جو حادثہ پیش آیا اس کے فوری بعد انھوں نے جو ٹوئٹ کیا وہ محض سخت ہیجانی کیفیت میں دیا گیا بیان نہیں تھا اور نہ ہی معاملے کو سیکنڈلائز کرنا تھا۔ بلکہ یہ ردعمل پاکستان میں میڈیا سے وابستہ بہت سارے لوگوں پہ اس دباؤ کا شاخسانہ ہے جو ان کو مختلف حلقوں کی جانب سے درپیش ہے۔

اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ حکومت اور ریاستی اداروں کی جانب سے اپنے اوپر تنقید کرنے والے صحافیوں کو کنٹرول کرنے کی غیر اعلانیہ کوشش ہورہی ہیں۔ ان میں سے ایک کوشش تو حکومت کا اشتہارات کی مد میں اپنے ذمے واجبات کی مکمل ادائیگی میں تعطل اور حیلے بہانوں سے اس تعطل کو لمبا کرنا ہے۔

پاکستان میں بہت سے ایشوز ایسے ہیں جن پہ مین سٹریم میڈیا میں ریاستی اور حکومتی بیانیے سے ہٹ کر کسی خبر کا شایع کرنا یا نشر کرنا، فیچر چھاپنا، کالم شایع کرنا عملی طور پہ ممنوع ہے اور ان ایشوز پہ سوشل میڈیا پہ جاکر ایکٹوازم کرنا بھی خطرات کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

اس امر سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ عشرے میں پاکستان میں مین سٹریم اور سوشل میڈیا پہ صحافتی ادارے اور صحافتی ذمہ داران مفادات کے تحت تقسیم ہوئے اور جمہوری و حب الوطنی کے ہر دو اطراف کے کیمپوں میں صحافتی معروضیت کم اور پروپیگنڈا زیادہ ہوتا چلا گیا ہے۔ لیکن اس میں صرف لبرل حلقے کی جانب سے تو کمرشل ازم نہیں ہے بلکہ دوسری جانب سے بھی کم کمرشل ازم نہیں آیا۔ ان دونوں کو بنیاد بناکر صحافت کو دباؤ میں لانا اور لکھنے اور بولنےکی آزادیوں کو ہی سلب کرنے کی منصوبہ پابندی کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

نصرت جاوید کو جس طرح سے ٹرولنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ ان پہ جیسے حملے کیے گئے،وہ قابل مذمت ہیں۔ نصرت جاوید نے اپنے ساتھ ہوئے حادثے کے فوری بعد جو ٹوئٹ کیا وہ بھی انتہائی غیرذمہ داری کا ثبوت تھا جس کی ان جیسے صحافی سے توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ ان کو تھوڑا انتظار کرنا چاہئیے تھا اور اچھے سے تحقیق کے بعد اپنے ساتھ پیش آئے حادثے پہ ردعمل دینے کی ضرورت تھی۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے ‘مثبت رپورٹنگ’ والا بیان داغا۔ پی ٹی ایم کو تنبیہ کی اور پھر وزرات داخلہ سندھ نے وفاقی حکومت کے ایما پہ پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کے سندھ میں داخلے پہ پابندی کا نوٹیفیکشن جاری کیا۔ان سے ملتے جلتے واقعات گزشتہ دو تین سالوں میں بہت جلدی جلدی ہورہے ہیں۔ سیاسی و سماجی کارکنوں کی جبری گمشدگیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ اس سارے عمل سے لکھنے والوں پہ بے پناہ دباؤ ہے اور اس سے لکھنے والوں کے اعصاب کا متاثر ہونا اور ہیجانی کیفیت کا سامنے آنا کوئی انہونی نہیں ہے۔

میڈیا اور سوشل میڈیا پہ متحرک کارکنوں کے اعصاب سے اس دباؤ کو ختم کرنے کی اولین ذمہ داری حکومت اور دیگر ریاستی اداروں پہ عائد ہوتی ہے۔ وہ کئی ایک معاملات میں اپنی حساسیت کے پیمانے کو ‘چھوئی موئی’ کے درجے سے نیچے لائیں تو صحافیوں کے اعصاب پہ دباؤ میں بھی کمی آئے گی۔ جبکہ عامل صحافیوں کو بھی میڈیا مالکان اور ملک میں یا ملک سے باہر لابیوں کا بھونپو بننے کی روش ترک کرنا ہوگی۔

حکومت اور ریاستی اداروں کو مسائل کو حل کرنے کی طرف بڑھنا ہوگا ناکہ مسائل کے حل میں مبینہ ناکامی پہ اٹھنے والی آوازوں کا گلا گھونٹنے کے لیے غیرجمہوری اقدامات اٹھانے کی روش اختیار کرنا اور جو زیادہ بولے اسے پہلے ٹرولنگ کے زریعے سے باز رکھنا اور پھر بھی باز نہ آئے تو کسی مقدمے میں الجھانے کی روش اپنانا۔ اس سے نہ پہلے اچھے نتائج نکلیں نہ اب نکلیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here