میں انٹر کانٹی نینٹل ڈھاکا (پاکستان) میں اپنے کمرے کی کھڑکی کے پردے ہٹاکر باہر دیکھ رہا ہوں۔

موسلا دھار بارش ہے۔

ہوا بھی تیز چل رہی ہے۔

ایک پول پر سبز ہلالی پرچم تند و تیز ہوا اور بارش سے لڑ رہا ہے۔

ہوا کے حملے بہت تیز ہیں۔ پرچم بھیگ گیا ہے۔ اور پھٹنے لگا ہے۔

میں خوفزدہ ہورہا ہوں۔ ایک پٹّی ادھڑ کر بکھر گئی ہے۔

کوئی نہیں آرہا ہے۔ اس پرچم کو بچانے۔

میں پردے گرادیتا ہوں۔

………………

لیکن کیا پردے گرانے سے یہ منظر رُک جائیگا۔ کیاآنکھیں بند کرنے سے حملہ آور واپس ہوجائیگا۔ ہماری آنکھیں بند ہیں۔ مشرقی پاکستان میں رُونما ہونے والی تبدیلیوں سے۔ بنگالی بھائیوں کی محرومیوں سے۔ وہاں بھارت کی طرف سے اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے کی سازشوں سے۔ہم اپنے مضبوط مرکز کے زعم میں ہیں۔ ہم اپنے ہم وطنوں کے دلوں اور ذہنوں میں نہیں جھانکتے ہیں۔ نسلیں آرہی ہیں جارہی ہیں۔ زندگی کی آسانیاں صرف چند گھرانوں تک محدود ہیں۔ اقتدار بھی ان ہی خاندانوں کے ہاتھ میں باریاں لیتارہتا ہے۔

یہ 16دسمبر بار بار کیوں آجاتی ہے۔

مندمل ہوتے زخموں کو پھر ہرا کرجاتی ہے۔ڈھاکا کے گلی کوچے یاد آتے ہیں۔ میمن سنگھ۔ نرائن گنج۔ سلہٹ کا مولوی بازار۔ چٹاگانگ کی بندرگاہ۔ ڈھاکا یونیورسٹی۔ موتی جھیل یہ سب ہمارے بدن کا حصّہ تھے۔ اجنبی کیسے ہوگئے۔ دشمنی پر کیوں اتر آئے۔

ہم نے ایک چیلنج قبول کیا تھا۔ ایک ہزار میل کی دوری۔ وہ بھی اپنے ازلی دشمن کے ایک ہزار میل۔ ہمیں اندازہ کیوں نہیں تھا کہ بھارت نے پاکستان کو دل سے قبول نہیں کیا۔ وہ ضرور سازشیں کرےگا۔ ہمیں ایک دوسرے سے الگ کرنے کی۔ ہم نے ارضی حقائق کو ترجیح نہیں دی۔ بس کہتے رہے۔ اسلام اور پی آئی اے دونوں بازوئوں کو متحد رکھیں گے۔لیکن جب مسائل حل نہ ہوں۔ صلہ رحمی نہ ہو۔ ایک دوسرے کے حقوق کا پاس نہ رکھا جائے۔ تو دوریاں جنم لینے لگتی ہیں۔قاضی نذر الاسلام نے ہمارے لئے کتنے نغمے لکھے۔ جسیم الدین یاد آتے ہیں۔ کے جی مصطفیٰ۔ مولانا عبدالحمید بھاشانی۔ عبدالقادر چوہدری۔ تفضل مانک میاں ان سب نے انگریز سے آزادی کی جدو جہد میں صعوبتیں برداشت کیں۔

ہماری نا انصافیاں۔ کوتاہیاں۔ ایک ادارے کی دوسرے ادارے میں مداخلت۔ قومی مفادات طے نہیں کیے۔ ایسے دائرے اور ایسی حدود پر اتفاق رائے نہیں کیا کہ جس سے باہر نکلنے کو سب ہی مملکت کے مفادات کے خلاف سمجھیں۔ اس دائرے کے اندر ایک دوسرے سے اختلاف کریں۔ لیکن باہر ایک رہیں۔

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

مگر ایسا نہیں ہوا۔ ہم نے انسانی قدروں کو پامال کیا۔ نسلی تعصّبات میں گرفتار رہے۔ کچھ علاقے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتے رہے۔ جو کچھ ہوا اسے دہراتے ہوئے کلیجہ باہر آتا ہے۔ ہم نے اکثریت کو اقتدار منتقل نہیں کیا۔

اب بھی وہی رُجحانات ہیں۔ وہی عادتیں ہیں۔ وہی ترجیحات ہیں۔ اب بھی کچھ خاندان کچھ علاقے اپنے آپ کو دوسروں پر فضیلت دیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے آخری نبیؐ نے آخری خطبۂ حج میں واضح کردیا تھا کہ کسی انسان کو دوسرے پر فضیلت نہیںہے۔ ہم پیغمبر آخر الزماںﷺ کی غلامی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن ان کے فرامین پر عمل نہیں کرتے۔ اسوۂ حسنہ کو اپناتے نہیں ہیں۔

مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بننے تک جو کچھ ہوا۔ اس میں سیاسی قیادت۔ فوجی قیادت۔ تاجروں۔ دکانداروں۔ علماء۔ اساتذہ سب کی کوتاہیاں تھیں۔ لیکن اس میں اگر بھارت کی سازشیں شامل نہ ہوتیں۔ تو علیحدگی تک نوبت نہ پہنچتی۔ سیاستدان ایک دوسرے پر الزام عائد کرتے ہیں۔ پروپیگنڈے کا جواب نہیں دے سکے۔ حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ ہم نے عام نہیں کی۔ بھارتی اخبارات تک پہنچ گئی۔

کیا اب بھی ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ رہے ہیں۔ اپنی غلط پالیسیوں کی اصلاح کررہے ہیں۔ مملکت اپنے ہر شہری کو تحفظ دے رہی ہے۔ عزت دے رہی ہے۔ ہر پیدا ہونے والے بچے کو اس کے حقوق مل رہے ہیں۔ اس کی تعلیم پرورش اور تربیت کی ضمانت ریاست دے رہی ہے۔ سقوط مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کو کیا سزا ملی۔کسی نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا؟ ہم اپنے داخلی تضادات کے باعث اتنے کمزور ہوگئے کہ بنگلہ دیش پر دبائو نہ ڈال سکے کہ وہ متحدہ پاکستان کے حامیوں کو پھانسیاں نہ دے۔ آپس میں یہ طے ہوا تھا کہ 1971کی جنگ کے حوالے سے جنگی جرائم کے سلسلے میں مقدمات نہیں چلیں گے۔

ہم تو ان پاکستانیوں کو بھی کئی دہائیوں سے فراموش کیے ہوئے ہیں جو اپنے آپ کو اب بھی فخر سے پاکستانی لکھتے ہیں۔بنگلہ دیش انہیں اپنا شہری نہیں مانتا۔ ان پر عرصۂ حیات تنگ کیے ہوئے ہے۔ ریاست پاکستان بھی ان محصورین کو اپنی آغوش میں لینے کو تیار نہیں ہے۔ وہ پاکستانی ہونے کی دہری سزا کاٹ رہے ہیں۔

ایک دوسرے پر الزامات کی بجائے ہم سقوط مشرقی پاکستان پر پارلیمنٹ میں مباحثہ کرتے اور ایک موقف ایک بیانیہ اختیار کرتے۔ جہاں جہاں اپنی غلطیاں تھیں، سیاسی، سماجی انہیں تسلیم کرتے۔ جہاں جہاں عسکری کوتاہیاں تھیں ان کا اعتراف کرتے۔ پھر آگے کا سفر اختیار کرتے۔ اسی سے ہم موجودہ پاکستان میں ہم آہنگی کی کوشش کرسکتے ہیں۔

کیا ہم نے کبھی اندازہ کیا ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد ہم کیسے کیسے المیوں سے دوچار ہوئے ہیں۔ ہمارا سماجی ڈھانچہ کس طرح بکھر گیا ہے۔ ہم میں داخلی تضادات کتنے بڑھ گئے ہیں۔مذہبی انتہا پسندی کتنی بڑھ گئی ہے۔ لسانی تنازعات میں کتنا اضافہ ہوگیا ہے۔ صوبائی عصبیتیں کتنی زیادہ ہوگئی ہیں۔ نئے صوبوں کا مطالبہ شدت اختیار کررہا ہے۔ حال ہی میں چھوٹے چھوٹے مذہبی گروہوں نے کس طرح ریاست کو یر غمال بنایا۔

موجودہ پاکستان میں پرانی قومیتیں ہیں۔ صدیوں پرانی ثقافتیں ہیں۔ بڑی طاقت ور علاقائی زبانیں ہیں۔ لیکن اس کی تہذیب ایک ہی رہی ہے۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب۔ یہ ایک مثالی اقتصادی وحدت ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے اتنے قدرتی وسائل دے رکھے ہیں۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کے بعد ایسی مشینیں آچکی ہیں کہ اس کی گہرائیوں۔ سمندر کی تہوں۔ پہاڑوں کے سینے سے جواہر برآمد کرنا مشکل نہیں رہا۔

ایک فرد دوسرے کی عزت کرے۔ ایک ادارہ دوسرے کا احترام کرے۔ جب تک نئے صوبے نہیں بنتے۔ تو سینیٹ یعنی ایوان بالا کو حقیقت میں بالا سمجھا جائے۔ جہاں پاکستان کی وحدتوں کی مسادی نمائندگی ہے۔ وہاں اختیارات بڑھائے جائیں۔ سینیٹ سے کارروائی براہِ راست دکھائی جائے۔ مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس باقاعدگی سے ہوں تو 16دسمبر دوبارہ نہیں آئے گی۔

 

https://jang.com.pk/news/587465-mahmood-shaam-column-16-12-2018

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here