سولہ دسمبر،1971ء وہ دن ہے جس دن تقسیم ہند میں سب سے بڑا کردار ادا کرنے والے مسلمان اور دلت ہندؤں نے ملکر بنگلہ دیش بنایا۔ اس دن ہندوستانی نیشنل کانگریس کو متحدہ ہندوستان کے سیکولر نیشنلسٹ بنیادوں پہ ایک قوم کے ملک ہونے کے دعوے کو سب سے بڑا چیلنج فراہم کرنے والی بنگالی قوم کی اکثریت نے اسی جماعت کی حکومت کی جانب سے بھیجی گئی افواج کو اپنا نجات دہندہ سمجھا اور ان کے گلے میں پھولوں کے ہاڑ ڈالے۔

اتنی بڑی کایا کلپ مشرقی بنگال کے اکثریتی مسلمانوں اور ہندؤ دلتوں میں ایک دن میں نہیں ہوگئی تھی۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب پاکستان کے حکمرانوں نے بنگلہ کو قومی زبان کا درجہ دینے سے انکار کیا۔ اس وقت کی پاکستانی ایڈمنسٹریشن میں بنگالیوں کو نظر انداز کرکے ان پہ پنجابی،مہاجر، پٹھان بیوروکریٹ مسلط کیے۔ ان کے وسائل کی لوٹ مار کی اجازت پنجابی و مہاجر اردو بولنے والے سرمایہ کاروں اور بزنس مینوں کو دی۔ بنگالی کسانوں، ابھرتی تعلیم یافتہ مڈل کلاس اور سیاسی توانائی و شعور سے بھرے نوجوان طالب علموں کی سیاسی سرگرمیوں کا راستا ریاستی طاقت سے روکنے کی کوشش کی گئی۔

آپ جوگندر ناتھ منڈل کا وزیراعظم لیاقت علی خان کو لکھا گیا استعفا کا متن پڑھ کر اندازہ لگاسکتے ہیں کہ پاکستانی جاگیردار سیاست دانوں، پنجابی و اردو بولنے والے یو پی سی کے بیوروکریٹس اور پھر پنجابی اکثریت کی حامل فوج کے جرنیلوں اور مغربی و مشرقی پاکستان کے دائیں بازو کے مولویوں اور ان کا ہر مرحلے پہ ساتھ دینے والے گماشتہ مغربی پاکستان کے سرمایہ داروں اور بزنس مینوں نے کیسے خود اپنے سیاسی وعدوں کی خلاف ورزیاں کیں جو تحریک پاکستان کے دوران مشرقی بنگال کے غریب کسانوں، طالب علموں، مڈل کلاس اور محنت کشوں سے کیے جاتے رہے تھے۔

پاکستانی جرنیلوں کی ذہنیت کا اندازہ بنگالی عورتوں سے ریپ اور بنگالی دانشوروں کے قتل سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہ بنگالیوں کی نسل بدلنے اور ان کے مجموعی دانش کے سرمایہ کو جسمانی موت کا شکار کرنے کی پالیسی پہ عمل پیرا تھے۔

میں آج ہی ڈیلی سٹار ڈھاکہ کا انگریزی ویب ایڈیشن پڑھ رہا تھا۔ اس میں بنگالی اداکارہ سچندا کا ایک انٹرویو شایع ہوا ہے۔ اس انٹرویو کا عنوان ہے،’ پیار کی قیمت پہ آزادی’ اور یہ ہمیں معروف بنگالی فلم میکر اور فلم رائٹر ظاہر ریحان کی پاکستان آرمی کے ہاتھوں اغواء اور پھر قتل کردیے جانے کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ ظاہر ریحان کی پھر کبھی لاش تک نہیں ملی۔ اس کی بیوی اس وقت جوان تھی اور بچے انتہائی چھوٹے تھے۔ وہ آج بھی اس سانحے کو نہیں بھولے۔

پاکستانی آرمی اور اس کے معاون ڈیتھ اسکواڈ نے مارچ 1971ء کو آپریشن سرچ لائٹ سے لیکر 14 دسمبر 1971ء تک ریپ،قتل سمیت سنگین جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔ اور  ان جرائم کا کوئی جواز سرے سے پیش ہی نہیں کیا جاسکتا۔ اور انفرادی طور پہ آج کے پاکستان میں اب بہت سارے پاکستانی فوج کے سابق جرنیل، بیوروکریٹس، سیاست دان،دانشور، سیاسی کارکن یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ جرائم ہوئے اور ان پہ پاکستانی ریاست کو بنگالی قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔

لیکن پاکستان بطور ریاست اور پاکستانی فوج بطور ادارہ ایسی کسی بات کو نہ تو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی اس طرح کی باتیں کرنے والوں کو محب وطن سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ پاکستان کی ریاست کا سرکاری بیانیہ بیلنسنگ پالیسی یا اس سارے عمل کو پاکستان کے خلاف سازش کے طور پہ بیان کرتا ہے۔

پاکستان میں آزاد سوچ رکھنے والے اہل دانش کے سامنے تو یہ مشکل آن کھڑی ہوئی ہے کہ آج پاکستان کے سیکورٹی اداروں پہ بلوچستان، سندھ اور خیبرپختون خوا میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ارتکاب کا الزام آسانی سے رد نہ کیے جانے والے شواہد کے ساتھ سامنے آرہا ہے۔ اور ماضی کی طرح سازش اور حالت انکار ہی سرکاری بیانیہ پہ غالب ہے۔ اور پاکستانی آزاد دانش جب ان کی طرف اشارہ کرتی ہے تو غداری،سازش کا شور بلند ہوتا ہے۔

آج کے دن ہی آرمی پبلک اسکول پشاور پہ جو وحشیانہ حملہ ہوا تھا،اس کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والا احسان اللہ احسان اس وقت پاکستان آرمی کی تحویل میں ہے اور اس کے بارے میں خبریں ہیں کہ اسے مہمان کے طور پہ ٹھہرایا گیا ہے۔ اس کے خلاف کسی عدالت میں آج تک کوئی کیس نہیں چلایا گیا ہے۔ کیوں؟ آج سوشل میڈیا پہ قریب قریب ہر ایک کی زبان پہ یہی جملہ ہے۔

میں نے احسان اللہ احسان کے حوالے سے جب پاکستان کی ایک معروف انٹیلی جنس میں افغان ڈیسک پہ کام کرنے والے ایک انتہائی فرض شناس افسر سے بات کی تھی تو مجھے کہا گیا کہ

 ‘احسان اللہ احسان’ ایک اہم سورس کے طور پہ ہماری گرفت میں آیا تھا اور اس کی مدد سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو اکھاڑنے میں اور ہمارے اندر موجود کالی بھیڑوں کو شناخت کرنے میں بڑی مدد ملی’

میں نے یہ سب سماعت کرکے، اس افسر سے یہ پوچھا کہ کہ اگر احسان اللہ احسان بطور سورس کے کام آرہا تھا(جو انٹیلی جنس سروسز کے ہآں کوئی انہونی بات نہیں ہے) تو اسے ایک ہیرو کے طور پہ میڈیا پہ پیش کرنے، قوم کا بیٹا قرار دینے، پہلے سے طے شدہ سوالوں اور جوابات کے ساتھ جیو نیوز کے ایک جہاد زدہ صحافی کے ساتھ پرائم ٹائم کوریج دلانے کی ضرورت کیا تھی؟ کیا آرمی پبلک اسکول پشاور سمیت دیگر متاثرین دہشت گردوں کے جذبات کا خیال کرنے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی گئی؟

میں نے دیکھا کہ اس موقعہ پہ آرمی افسر کے لہجے سے وہ اعتماد غائب تھا جو احسان اللہ احسان کو گرفت میں لینے کی وجوہات پہ روشنی ڈالتے وقت ان کے لہجے میں نظر آرہا تھا۔

 اگر پاکستان آرمی کے بطور ادارے کے عزت اور وقار کو ہی دیکھا جائے تو احسان اللہ احسان کو سرکاری مہمان بناکر پبلک کرنے سے اس کو بہت نقصان پہنچا اور اب ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اے پی ایس سانحے میں خود پاکستان آرمی کو ملوث قرار دے رہے ہیں اور ایسا کہنے والوں میں شہدائے آرمی پبلک اسکول پشاور کے وارث بھی شامل ہیں۔

بلوچستان کو لیا جائے تو اس وقت حالت یہ ہے کہ پاکستان کی مین سٹریم جماعتیں مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلزپارٹی اور بلوچ و پشتون سیکولر قوم پرست جماعتیں اپنے کارکنوں اور صحافیوں کو بتاتی ہیں کہ بلوچستان ہو یا کے پی کے ہو وہاں نیشنل سیکورٹی کے نام پہ جو ہورہا ہے وہ پاکستان کی سپاہ اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا اپنا انشی ایٹو ہے اور اس سے سویلین کا تعلق نہیں ہے۔ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ گویا منتخب عوامی نمائندے اور جمہوری سیاسی جماعتیں بلوچستان، کے پی کے ، سندھ اور دیگر علاقوں میں سامنے آنے والے ناگفتہ بہ واقعات کی ذمہ داری بالواسطہ سیکورٹی اداروں پہ ڈال رہے ہیں۔ اور یہ بھی اب کوئی راز نہیں ہے کہ فوج اور انٹیلی جنس اداروں پہ لگنے والے الزامات اور تنقید کا جواب سویلین حکومتی اداروں کی بجائے آئی ایس پی آر سے آتا ہے۔ بہت سے حلقے اسے بھی سیکورٹی اداروں کی تنہائی کے طور پہ لے رہے ہیں۔

مثال کے طور پہ جبری گمشدگیوں کے ایشوز پہ پاکستان کی دائیں یا بائیں کی مین سٹریم جماعتوں میں ایک جماعت بھی اس ایشو پہ سیکورٹی اداروں کے موقف کی حمایت نہیں کرتیں۔ یہاں تک کہ خود تحریک انصاف کی وزیرانسانی حقوق شریں مزاری تک کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ لیکن پاکستانی فوج ا انٹیلی جنس ایجنسیاں جبری گمشدگی کے ایشو کو آئین و قانون کے دائرے میں حل کرنے پہ آمادہ نظر نہیں آتیں۔

پنجاب وہ واحد صوبہ ہے جہاں ابتک کوئی بڑی احتجاجی لہر سیکورٹی فورسز و انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حوالے سے موجود نہیں ہے۔ تین صوبوں میں بڑی ناراضگی ہے۔ لیکن صوبہ پنجاب میں کم از کم دانشورانہ سطح پہ مخالف آوازوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ لوگ سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی حمایت میں اس طرح متحرک نہیں ہیں جیسے وہ کم از کم تحریک طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران تھے۔ نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی اور کالعدم تنظیموں کو مین سٹریم کرنے کے عمل نے ان میں کافی مایوسی پھیلائی ہے اور اس میں گزشتہ الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلی اور اس میں اسٹبلشمنٹ کے ملوث ہونے کے الزامات نے بھی کافی کمی کی ہے۔

حقائق سے رو گردانی کرنے اور سچ بولنے والوں کو ہراساں کرکے،ڈرانے دھمکانے سے زمینی حقائق بدلا نہیں کرتے۔ سولہ دسمبر 1971ء کو نوے ہزار پاکستانی فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کا واقعہ اس بات کی سچائی کا عکاس ہے۔

پاکستانی اسٹبلشمنٹ کب تک 1948ء کی کشمیر جنگ،1965ء کا آپریشن جبرآلٹر، 1971ء میں مشرقی بنگال پہ چڑھائی اور پھر سرنڈر اور 1999ء میں آپریشن کارگل کی ذمہ داری دوسروں پہ ڈالنے اور قربانی کا بکرا تلاش کرنے کی پالیسی پہ عمل پیرا رہے گی ؟ اور اپنے لوگوں سے کب تک طاقت کے زور پہ جھوٹ کو سچ بنانے پہ مجبور کرتی رہے گی؟ اسے کب ااحساس ہوگا کہ وہ عوام کی اکثریت میں کتنی غیرمقبول ہوتی جارہی ہے؟

لنکس

جوگندرناتھ منڈل کا استعفا

https://web.facebook.com/groups/535677993520322/

چودہ دسمبر1971ء ڈھاکہ یونیورسٹی میں کیا ہوا تھا؟

http://sujag.org/nuktanazar/bangladesh-1971-martyred-intellectuals-day

کیا سرمیلا بوس پاکستانی فوجیوں کو بنگالیوں کے قتل عام سے بری کرتی ہیں؟

http://sujag.org/nuktanazar/sarmila-bose-bangladesh-east-pakistan-dead-re

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here