نوٹ: پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کے سیاسی بیانات میں اچانک سے تلخی آئی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر نام لیے بغیر عدالتی و عسکری اسٹبلشمنٹ کو ‘لاڈلے’ لانے اور رخصت کرنے اور سیاسی عمل میں مداخلت کرنے پہ سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پی پی پی کے چئیرمین آصف علی زرداری نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب مزید سیاسی انتقام برداشت نہیں کریں گے۔ صنم بھٹو کو باقاعدہ سیاست کے میدان میں اتارنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ دوسری جانب آصف علی زرداری پہ حسب معمول ذاتی حملے کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان پہ اربن چیٹرنگ کلاس کی جانب سے ٹرولنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

مشتاق گاڈی قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں پڑھاتے ہیں۔ وہ سرائیکی خطے کا اہم نام ہیں اور معروف معنوں میں سرائیکی سوشل ڈیموکریٹ کہے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے دی نیوز انٹرنیشنل کے سنڈے ایڈیشن کے لیے انگریزی میں ایک مضمون لکھا، جس میں انھوں نے آصف علی زرداری سے اربن چیٹرنگ کلاس کی نفرت اور حسد کی نفسیاتی وجوہات کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ اس کا اردو ترجمہ فیس بک پہ کسی صاحب نے کیا تھا جسے مناسب ایڈیٹنگ کے ساتھ ہم یہاں ان کے شکریہ کے ساتھ شایع کررہے ہیں- ایسٹرن ٹائمز

آصف علی زرداری ہمیشہ سے لوگوں کی نفرت کے نشانے پر رہے ہیں

اس نفرت کی وجوہات تلاش کی جائیں تو وہ ان کی زاتی اور سیاسی زندگی کے حوالے سے ہیں ان کے بارے میں

George Santayana

کا کہنا ہے

شاید اس آدمی کا وقار صرف اس کی اس صلاحیت میں ہے کہ وہ خود کو حقیر جانتے ہیں

ہم روزانہ کی بنیاد پرآصف علی زرداری کے ساتھ غیرمعمولی نفرت کے گواہ ہیں. یہ نفرت خاص طور پر پڑھے لکھے اور شہری لوگوں میں روزبروز بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔

مگر اس نفرت میں کچھ عجیب باتیں بھی سامنے آتی ہیں. جو حقیقت کے بلکل الٹ ہیں۔

وہ ہمارے سامنے ایک ناگزیر شخصیت کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں. جب ہم ان کی سیاسی اور زاتی زندگی کاتجزیہ کرتے ہیں تو یہ خلا اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ان کی زندگی کے 11 سال جیل میں نفسیاتی اور جسمانی تشدد برداشت کرتے ہوئے گزرے. یہ قیمت تھی جو انھوں نے اپنی بیوی کے مدمقابل اتحادی مخالفین کو انکار کر کے چکائی۔

ان پر لگائے گئے تمام الزامات کے غلط ثابت ہونے اور ان

کا رہا ہو جانا ھماری عدالتی انتظامیہ کے طرز انصاف پہ سوالیہ نشان لگاتا ہے۔

بی بی کے قتل کے بعد انھوں نے انتقام کے نعرے کو مسترد کر دیا۔

اس کی بجائے انہوں نے صدارتی انتخاب لڑا اور مفاہمت کے سیاسی ایجنڈے کو اپنا مقصد بنایا اور جھگڑے کی سیاست سے نکل کر مفاہمت کی سیاست کو اپنایا۔

اصل نقطہ یہاں یہ ہے کہ ان کا دور حکومت کوئی مثالی اور خامیوں سے پاک بلکل بھی نہیں تھا لیکن وہ کئی لحاظ تعمیری اہمیت کا حامل ، محتاط اور کچھ لوگوں کی راہ کو کھوٹا کرنے والا تھا. سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ظاہر کرتا تھا کہ کس طرح اس وقت سیاسی مزاکرات، مکالمہ اور سلجھاؤ کی راہ اپنا کر پیچیدہ سیاسی معاملات کو حل کیا جا سکتا ہے جن میں ہمیشہ سے ہنگامہ خیزی اور فوج اور سول تعلقات اور بےشمار اندرونی کامیابیوں کی خصوصیات شامل تھیں ۔

ان تمام کاموں کے ساتھ ساتھ 1973 کے آئین کی بحالی بھی شامل تھی. جسمیں صوبائی خودمختاری کو بڑھانا، این ایف سی ایوارڈ کا نفاذ، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے حقوق کے تحفظ کی کوشش اور علاقائی خودمختاری جیسے اقدامات کرنا شامل ہیں۔

وہ اقدامات جو قومی جمہوریت اور وفاق کی مضبوطی کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں.. اہم بات یہ بھی ہے کہ انھوں نے پہلی بار حکومت کے پانچ جمہوری سال مکمل کرکے کامیابی سے ملک جمہوری حکومت کی منتقلی کو یقینی بنایا۔

بین الاقوامی سطح پر، جو ناقص غیر ملکی پالیسی نئے سرے سے ان کو سونپی گئی تھی اس میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا. اس کے باوجود ہماری ریاست کے اشرافیہ میں ان کے لیے حسد کی اجارہ داری قائم ہے ۔

آصف علی زرداری کی کوششوں کی وجہ سے،امریکہ کے ساتھ نازک مسائل اورچین کے ساتھ مضبوط شراکت داری کی نئی بنیاد قائم کی گئی جو روس اور ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات میں بہتری آئی۔

یہ آصف علی زرداری کی ہمارے ملک کی غیر ملکی پالیسی کو تشکیل دینے کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

آپ کیسے ان تمام ناخوشگوار خیالات کی تشریح کر سکتے ہیں جو ان کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں پائے جاتے ہیں !!!! ایسے خیالات جو خیال اور حقیقت کے درمیان ایک خلا میں موجود ہیں۔

بظاہر اس کا جواب بہت سادہ ہے کہ یہ پروپیگنڈہ کی طاقت کا اثر ہے

جوزف گیو بئلزجو کہ نازی پروپیگنڈہ کا استاد مانا جاتا ہے، کا کہنا ہے کہ

کافی بحث و تکرار کے ساتھ ساتھ نفسیاتی غوروفکر کے بعد یہ ثابت کرنا ممکن ہے کہ جو آپ کو مربع نظر آ رہا ہے وہ دراصل دائرہ ہے۔

یہ صرف اور صرف الفاظ ہیں… الفاظ!! جن کو کسی بھی طرح سے ڈھالا جا سکتا ہے جب تک کہ یہ آپ کے خیالات کو آپ کی مرضی کے کپڑے پہنا کر چھپا نا دیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آصف علی زرداری ہمیشہ سے اپنے سیاسی مخالفین کی طرف سے گندے پروپیگنڈے کا نشانہ بنے رہے ہیں. تاہم ہر پروپیگنڈے کی حدود ہوتی ہیں. یہ ایسے ہی ہے کہ آپ اپنی مرضی کے مطابق لوگوں کے شکوک و شبہات میں ہم آہنگی پیدا کریں۔

ہٹلر کے لیے کیا جانے والا پروپیگنڈہ اس کی ایک مثال ہے، جو اقتدار کے لیے جرمنوں نے کیا۔

اب اتنی گہری نفرت آصف علی زرداری سے ابھار کے اپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟؟؟

اس مسلے کو حل کرنے کے لیے سائیکو اینالسس کے میدان میں ہمیں پوری بصیرت سے کام لینا ہو گا. اگر ھم ان کے ساتھ اس ذلت آمیز رویہ کا سائیکو اینالسس کی بنیاد پر غور کریں تو یہ کچھ باتوں کی نشاندہی کرتا ہے

سگمنڈ فرائڈکے مطابق یہ علامات عدم اطمینان اور ہماری نفسیاتی توانائی کے دفاع کی نشاندہی کرتی ہیں

The symptoms is a sign of dissatisfaction and defense of our psychic forces

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ یہ دفاع کا عنصر اس کو ہمارے لیے اور بھی قابلِ لطف بنا دیتا ہے. اصل میں یہ عمل ہماری نارضگی کو برقرار رکھنے کے لیے ہے۔

اسی وجہ سے یہ ان علامات کی خرابی کا باعث نہیں ہے. جبکہ یہ ایک خاموش سچ ہے جو ہم سننا چاہتے ہیں، تو چلیں اپنے کانوں کو ادھار پر دے دیتے ہیں تاکہ ان سچائیوں کو سن سکیں۔

-شروع میں آصف علی زرداری صاحب کی شادی سے پہلے ہی اسی وجہ سے یہ حسد موجود تھا

آصف علی زرداری اس وقت عوام میں مشہور نہیں تھے مگر بیشک ان کا خاندان سندھ میں بہت مضبوط تھا۔

ان کے والد حاکم علی زرداری، دو مرتبہ بطور پارلیمنٹ ممبر منتخب ہو چکے تھے اور اپنے کاروبار میں بھی اہم مقام رکھتے تھے۔

تاہم بی بی کے مقام سے ان کا کوئی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا، وہ ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام، محبت کی جانے والی ہیروئین اور شہزادی تھیں اور لاکھوں پاکستانیوں کے دلوں پر راج کرتی تھیں۔

یہ کہا جاتا ہے کہ محبت کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتی، جہاں کہیں بھی محبت ہو گی وہ تمام رکاوٹیں پھلانگ کر گزر جائے گی اور دوسرے لوگوں میں حسد اور نفرت کو ابھار جائے گی۔

المناک بات یہ ہے کہ آصف علی زرداری بھی بی بی کے دوستوں اور دشمنوں دونوں کی طرف سے اسی حسد اور نفرت کا شکار ہوئے

میں یاد کرسکتا ہوں کہ کیسے آصف علی زرداری اہم وجہ بنے بی بی کی سیاسی مشکلات کا۔

اگرچہ 1990 میں بی بی نے اپنی قید کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں اپنے کارکنوں کو پر امن رہنے کی اپیل کی اس کو کارکن مسترد کر چکے تھے۔

In psychoanalysis scapegoating is attributed to the process of displacement and projection.

.کسی کو قربانی کا بکرا بنانے کا نفسیاتی تجزیہ  کسی کو ہٹاکر کر اس کی جگہ کسی اور کو ذمہ دار ٹھہرانے کا عمل کہلاتا ہے

یہ عملی طور پر یہ اس عمل کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ اپنی غلطیوں اور مسئلوں کو کسی حاض ہدف کی طرف منتقل کر دیں۔

لہٰذا یہ آپ کے لیے مدگار ہے کہ اپ اپنی جارحیت کا اظہار کر کے اپنے لیے منفی احساسات کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

یہی عمل دوسرے لوگوں کے لیے ٹھیک اور غلط، اچھائی اور برائی میں فرق کرنے کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے..یہ عوامل اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ دوسروں کو قربانی کا بکرا بنانے کا یہ عمل بہت قدیم زمانے سے کسی رسمی علامت کی طرح ہمارے دماغوں میں جڑ پکڑ چکا ہے۔

یوں ‘حسد’ قربانی کا بکرا بنانے کے عمل کی طرح ایک اور نفسیاتی ترکیب ہے جو آصف علی زرداری کو لوگوں کی نظر میں مزید حقیر بنانے میں مدد فراھم کرتی ہے۔

 کچھ دہائیوں سے ان پر لگائے گئے تمام برے اور غلط الزامات کو آصف علی زرداری برداشت کر رے ہیں.

 ہر بحث کا حصہ ان پر لگائے گئے الزامات ہیں، کرپشن سے لے کر ان کی بیوی کے قتل تک، پاکستان میں سیاسی گفتگو میں یہ ایک وبا کی علامت بن چکی ہے کہ ان کی زاتی زندگی سے لے کے ان پر الزامات سے زہنی تشدد کیا جائے۔

تو اس ساری بحث کا کیا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے؟

 شاید اب وقت آ چکا ہے کہ زرداری کی فطرت کو پہچانا جائے اور پاکستانی سیاست میں جمہوریت کو پروان چڑھنے میں ان کے کردار کو تسلیم کیا جائے. انھوں نے اپنے صبر اور دوراندیشی سے ہماری جمہوری بنیادوں میں موجود محاذ آرائی میں بہتری پیدا کی، جو دراصل ان کے وجود کو برقرار رکھنے کی وجہ بنی۔

سگمنڈ فرائڈ نے کہا تھا

اکثر شدید نفرت محبت میں تبدیل ہو جاتی ہے

کیا آصف علی زرداری کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے؟؟؟؟

1 COMMENT

Leave a Reply to Adeel bukhari Cancel reply

Please enter your comment!
Please enter your name here