ہندؤ فسطائیوں کی غنڈا گردی، بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ اجمیر ادبی میلے کا افتتاح نہ کرسکے

0
302

ہندوستان: تین روزہ پانچواں اجمیر ادبی میلہ-اے ایل ایف جس کا آغاز نصیر الدین شاہ، ہندوستانی فلم اداکار کی کتاب کی رونمائی سے ہونا تھا، دائیں بازو کے گروپوں کی جانب سے بلوائی تشدد کے خلاف تبصرہ کرنے پہ ملتوی کردیا گیا۔

اڑسٹھ سال کے ہوگئے اداکار نے اپنے آپ کو ہندؤ دائیں بازو کے گروپوں کے غصّہ کا مرکز بننتے دیکھا،جب انہوں نے بلند شہر اترپردیش انڈیا میں ایک پولیس والے کے قتل پہ ایک گائے کی موت کو اہمیت دینے پہ اختلافی تبصرہ کیا۔

اس سے پہلے نصیرالدین شاہ اپنی مادرعلمی سینٹ اینسلم سنئیر سیکنڈری اسکول کے دورے پہ تھ تو ان سے سوشل میڈیا پہ ان کے تبصرے پہ ہونے والے شور بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا،’ جو میں نے پہلے کہا تھا وہ ایک فکر مند ہندوستانی کا ردعمل تھا۔ میں نے پہلے بھی یہ بات کی تھی۔ اور اب جو میں نے اس وقت کہی ہے تو کیا مجھے غدار قرار دے دیا جائے گا؟ یہ سب بہت ہی عجیب و غریب ہے۔

“مجھے تنقید کا سامنا ہے۔ اگر ان کو تنقید کا جق ہے، تو میں بھی ایسا ہی حق رکھتا ہوں۔ میں نے اس ملک بارے اپنی فکر مندی کا اظہار کیا ہے جس سے میں پیار کرتا ہوں، وہ ملک جو میرا گھر ہے۔ یہ جرم کیسے ہوگیا؟

اداکار نے کاروان محبت کو اپنے انٹرویو میں بڑھتی ہوئی بلوائی دہشت پہ پریشانی کا اظہار کیا تھا اور ان کا یہ انٹرویو 17 دسمبر کو اس کے یوٹیوب چینل پہ اپ لوڈ ہوا۔ انٹرویو یڑ، اداکار نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے حوالے سے پریشانی کا اظہار کیا تھا، جو ان کے بقول کسی بھی مذہب کو نہیں جانتے، جن کو کسی خاص مذہب کی تعلیم اس ملک میں نہیں دی گئی ۔

ان کا کہنا تھا،’ زھر پہلے ہی پھیل گیا ہے۔ اور اب اسے روکنا ناممکن ہوگیا ہے۔ اس ملک میں ان لوگوں کو کھلی چھٹی ہے جو قانون ہاتھ میں لیتے ہیں۔ اور بہت سے علاقوں میں ہم دیکھ رہے ہیں گائے کی موت ایک پولیس افسر کی موت سے زیادہ ہے’۔
اس ایونٹ سے پہلے دائیں بازو کے کارکنوں نے تقریب کی جگہ کے باہر احتجاج کیا۔ اور ان میں سے ایک احتجاج کرنے والے نے نصیر الدین شاہ کے پوسٹر پہ سیاہی پھینک دی۔

ادبی میلے کے کوارڈینٹر ، راس بہاری گور نے بتایا کہ شاہ نے شیڈول کے مطابق میلے کا افتتاح کرنا تھا۔ لیکن وہ مقامی دائیں بازو کے لوگوں کے احتجاج کے سبب نہ آسکے۔

مسٹر شاہ نے افتتاحی سیشن میں اپنی کتاب کی رونمائی بھی کرنی تھی، جسے اس احتجاج کے سبب ملتوی کردیا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here