سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کی میت ڈیفنس میں واقع جامع مسجد یثرب پہنچا دی گئی، نماز جنازہ آج نمازِ ظہرین کے بعد ادا کی جائے گی۔

 

متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رہنما علی رضا عابدی کی میت ڈیفنس میں واقع جامع مسجدیثرب پہنچا دی گئی جہاں ان کے عزیزوں کی بڑی تعداد لواحقین سے اظہار ہمدردی کے لیے موجودہے۔-

مقتول علی رضا عابدی کی نماز جنازہ آج نمازِ ظہرین کے بعد ادا کی جائے گی جس کے بعد مقامی قبرستان میں ان کی تدفین ہو گی۔

 

واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رہنما علی رضا عابدی کو گزشتہ شب کراچی میں ان کے گھر کے باہر قتل کر دیا گیا ہے۔

 

سابق رکن اسمبلی کو ڈیفنس میں ان کے گھر کے باہر گولیاں مار کر موٹر سائیکل سوار دونوں حملہ آور فرار ہوگئے۔

 

انہوں نے بیوہ کے علاوہ تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کو سوگوار چھوڑا ہے، ان کی بڑی بیٹی کی عمر 17برس ہے۔

سابق رکن  قومی اسمبلی کو کل رات خیابان غازی سٹریٹ ڈیفنس کراچی میں ان کی رہائش گاہ کے عین سامنے اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ دن بھر کی سرگرمیوں کے بعدکار ڈرائیو کرتے ہوئے آرہے تھے۔ ان پہ حملہ موٹر سائیکل سوار پہ سوار دو نوجوانوں نے کیا۔ ایک نوجوان نے موٹر سائیکل سے اتر کر ڈرائیونگ سائیڈ سے پسٹل سے فائر کیے۔ جو رضا علی عابدی کی گردن اور سر میں لگے اور حملہ آور دس سکینڈ کی قلیل مدت میں فائرنگ کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے

 

سید علی رضا عابدی نے الیکشن 2018ء میں عمران خان کے مقابل الیکشن لڑا تھا۔ اور ان کی شکست پہ کافی سوالات اٹھے تھے۔ ضمنی انتخابات میں حیرت انگیز طور پہ ایم کیو ایم نے ان کو ٹکٹ نہ دیا اور وہ بعد ازاں ایم کیو ایم سے مستعفی ہوگئے تھے۔

 

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے علی رضا عابدی کے قتل پہ تعزیتی ٹوئٹ میں یہ انکشاف کیا کہ سید علی رضا عابدی سے ان کی کئی ایک ملاقاتیں ہوئیں، اور وہ تو عام انتخابات 2018ء میں ہی پی پی پی میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان ملاقاتوں کی خبر باہمی اتفاق سے میڈیا کو نہیں دی تھی

سعید غنی کے بیان پہ ایک رپورٹر نے تنقید کی تو انہوں نے اس پہ بھی وضاحتی ٹوئٹ جاری کی

پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے سید علی رضا عابدی کے قتل پہ جو تعزیتی ٹوئٹ جاری کیا، اس میں بھی انہوں نے مقتول کی آصف علی زرداری سے ملاقات کی وہی تصویر اپ لوڈ کی جو وزیر بلدیات سندھ نے کی تھی۔

 

سید علی رضا عابدی کے قتل کی خبر جیسے ہی سوشل میڈیا پہ وائر ہوئی تو اس پہ مختلف ردعمل سامنے آئے۔

 

سپریم کورٹ کی جانب سے سیاست دانوں سے سیکورٹی واپس لیے جانے کے حکم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

 اس حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ ان کا قتل ایم کیو ایم کے دھڑوں کی باہمی لڑائی کا شاخسانہ بھی ہوسکتا ہے۔

کئی ایک ٹوئٹر ہینڈل اور فیس بک پیغامات میں جعلی بینک اکاؤنٹس پہ جی آئی ٹی رپورٹ، نواز شریف کی احتساب عدالت سے سزا پہ ان کے حالیہ ٹوئٹس کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان کے اسٹبلشمنٹ مخالف بڑھتے ہوئے رویے کے سبب ان کو قتل کیا گیا ہے۔

جب کہ شیعہ رائٹس گروپ سمیت کئی ایک سوشل میڈیا حلقوں نے سید علی رضا عابدی کے قتل کو شیعہ نسل کشی کا تسلسل بتایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ سید علی رضا عابدی فرقہ پرستوں اور مذہبی منافرت پھیلانے والی تنظیموں کے خلاف بہت جرآت سے بولتے تھے، اس لیے ان کو ٹارگٹ کیا گیا۔

ان کے والد سید اخلاق حسین عابدی نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے دو ٹوئٹ کیے ہیں۔ ان کے والد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی کسی سے دشمنی نہیں تھی۔ ان کے قتل کا جس نے بھی حکم دیا ہے اس شخص پہ اللہ ساری زندگی لعنت ہو کہ اس نے ایک شریف آدمی کو قتل کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا کراچی میں امن کی کوشش کررہا تھا۔ ہوسکتا ہے کچھ قوتیں اس پہ ناراض ہوں  اور انہوں نے یہ کروایا ہوا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here