جنوری کی پانچ ہو یا جولائی کی پانچ تاریخ یا اپریل کی اکیس تاریخ،ان تاریخوں کو ذوالفقار علی بھٹو کی یاد آتی ہے۔ اسٹبلشمنٹ اور مڈل کلاس کی لاڈلی شخصیت عمران خان نے ترکی میں جدید عثمانی خلیفہ اردگان کے سامنے تقریر کرتے ہوئے بھٹو کو یاد کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ بھٹو نے ایوب خان کی ترقی کے سارے ثمرات ضائع کرڈالے۔ اس سے پہلے پانچ سال کے دوران نواز شریف اور اس کے وزراء نے بھی کئی بار بھٹو کو یاد کیا اور اس کی معاشی پالیسیوں کو برا بھلا کہا۔

میں نے سوچا کہ ایک بار پھر بھٹو کے دشمنوں کو وہ سبق پڑھانے کی ضرورت ہے جو انتہائی پرآشوب دور میں ڈاکٹر فیروز نے پڑھایا تھا۔ میں نے ایک مضمون اس حوالے سے تحریر کیا تھا، جسے یہاں دوبارہ پڑھنے کے لیے درج کررہا ہوں ۔

میں آج جب پانچ جولائی کے حوالے سے کچھ تحریر کرنے کا سوچ رہا تھا تو کچھ الجھا ہوا تھا-اسی الجھن کو سلجھانے میں اپنے “کتب خانے”میں آبیٹھا-میں جہاں بیٹھا تھا میرے سامنے مولانا کوثر نیازی کی کتاب “اور لائن کٹ گئی”پڑی تھی-اس کے ساتھ ہی آرتھر ملر کے ناول کا ترجمہ احتساب کا جنون پڑا ہوا تھا-تھوڑے سے فاصلے پر ستار طاہر مرحوم کا مرتب کردہ “مارشل لاء کا وائٹ پیپر”موجود تھا-ایک کتاب زندہ بھٹو،مردہ بھٹو پڑی تھی-زرا فاصلے پر انگریزی میں لکھی ڈاکٹر مبشر حسن کی کتاب”طاقت کا سراب” پڑی تھی-اس سے آگے طارق علی کی کتاب “فاکس اینڈ لیپرڈ”تھی اور پھر بھٹو صاحب کی کال کوٹھڑی میں لکھی جانے والی کتاب “اگر مجھے قتل کیا گیا”اور اس کے ساتھ ہی پاکستان فورم ریسرچ جنرل کے شمارے پڑے تھے-اور ان پرانی جلدوں کے ساتھ ایک نئی جلد کے ساتھ محمد حنیف کا ناول “ان آمون کا قصّہ جو پھٹ گئے”پڑا تھا جس کو میں نے حال ہی میں دوبارہ پڑھا تھا۔

میں ایک ریک میں ایک ساتھ پڑی ان کتابوں کو دیکھ کر حیران بھی ہوا کہ کیسے ایک موضوع سے متعلق کتب میری شعوری کوشش کے بغیر ترتیب سے لگی ہوئی تھیں۔

میں نے پاکستان فورم کا اولین شمارہ اٹھایا جوکہ 4 فروری 1978ء کو شایع ہوا تھا کی ورق گردانی شروع کی تو اس میں ایک مضمون ڈاکٹر فیروز احمد کا تھا-مضمون کا عنوان تھا

عوام بھٹو سے محبت کیوں کرتے ہیں؟

اور اس کے نیچے ذیلی سرخی تھی  

بھٹوازم،بھٹو فوبیا،بھٹومانیا

یہ مضمون میں نے پہلے پڑھ رکھا  تھا اور آج تک اس موضوع پر اس مضمون سے اچھا لکھا ہوا کوئی اور مضمون میری نظر سے نہیں گزرا-خدا بھلا کرے ڈاکٹر جعفر احمد پاکستان اسٹڈی سینٹر جامعہ کراچی کا کہ انہوں اس سمیت اور ديگر مضمون ایک جلد میں اکٹھے کردئے-

یہ مضمون آج بھی تازہ لگتا ہے-اور اس کی افادیت بہت ہے-ڈاکٹر صاحب نے پاکستانی سیاست کی اس زمانے کی تقسیم پر نظر ڈالتے ہوئے یہ تجزیہ پیش کیا تھا کہ

آج پاکستان کی سیاست کا محور بھٹو ہے-فوجی حکومت ہو یا قومی اتحاد،اصغر خان ہوں یا تاکستان کے عوام-سب کی زبان پر بھٹو کا نام ہے-حکومت ہے کہ جس نے بھٹو کے احتساب کو اپنا اعلی ترین بلکہ واحد نصب العین بنالیا ہے-ولی خان ہیں جوکہ “بھٹوازم کے خاتمے کے بغیر ملک میں انتخابات بھی نہیں چاہتے-ان کی طرح قومی اتحاد کا ہر لیڈر اور سولو پائلٹ ،ان کے کو پائلٹ نورانی میاں بھی بھٹو کو سیاسی میدان سے زبردستی بھگانے کو حصول اقتدار کے لیے پیشگی شرط سمجھتے ہیں-یہ سب بھٹو فوبیا کے مرض میں مبتلا ہیں۔

دوسری طرف عوام کی اکثریت ہے جو “بھٹو مانیا”بھٹو کے جنوں بلکہ بھٹو فیلیا یعنی بھٹو کے عشق میں دیوانہ ہوئے جارہی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پورے ملک کی سوچ اور جذبات بھٹو دوستی اور بھٹو دشمنی میں بٹے ہوئے ہیں-؟

بھٹو نے کیا جرم کیا ہے کہ حکمران طبقوں کے اتنے سارے طاقتور حلقے اور ملک کی تمام رجعت پسند قوتیں اس کے خون کی پیاسی ہوگئیں ہیں؟دوسری طرف اس نے عوام پر کون سا احسان کیا ہے کہ ان کی اکثریت بھٹو پر اپنی جان نچھاور کرتی ہے؟

مسئلہ عوام کی جہالت یا بھٹو کے طلسم کا نہیں بلکہ شہری درمیانے طبقے کے دانشور حضرات کی اپنے عوام سے دوری اور اجنبیت کا ہے

آگے وہ لکھتے ہیں

پاکستان کے دیگر تضادات کے ساتھ ساتھ غیرپیداواری اور پیداواری (خصوصاکسان)طبقوں کے مابین تضاد شدت اختیار کرتا گیا اور 1977ء میں قومی اتحاد کی طرف سے چلائی ہوئی ایجی ٹیشن کے دوران اپنی انتہا کو پہنچ گیا-یہ بات واضح ہے کہ پیپلزپارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان تضاد سیدھا سادھا نہیں تھا-پیپلزپارٹی کی قیادت میں جاگیرداروں کی اکثریت اور قومی اتحاد کے لیے سرمایہ داروں کی حمائت کی وجہ سے بعض مبصرین نے اسے جاگیرداری اور سرمایہ داری کے مابین تضاد قرار دیا-ہم سمجھتے ہیں کہ یہ انتہائی سطحی مشاہدہ کی بنیاد پر کیا ہوا ایک غلط اور احمقانہ تجزیہ ہے-پاکستان اٹھارویں صدی کا یورپ نہیں ہے-یہاں کوئی صنعتی انقلاب نہیں آرہااور نہ ہی ابھرتا ہوا سرمایہ دار طبقہ تاریخی طور پربالادست طبقے کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کی معشیت بنیادی طور پر غیر پیداواری اور طفیلیہ معشیت ہے-اس ملک کے حکمران طبقات یا مراعات یافتہ طبقات کی آپس کی ساسی کشمکش کے پس پردہ جو بنیادی معاشی مفاد کارفرما ہوتا ہے وہ ہے سرکاری خزانے کی لوٹ اور خرد برد-صنعتی سرمایہ کاری اور زرعی ترقی کو بھی اس لوٹ کھسوٹ کے فرنٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے

جب ملک کے زرائع پیداوار کے مالکوں کی توجہ کا مرکز ہی غیر پیداواری شعبے کی لوٹ کھسوٹ ہو تو اندازہ کیجیے کہ پیداواری عمل سے کٹے ہوئے درمیانہ طبقے کی کیا حالت ہوگی-بھٹو کے اقتدار میں آنے سے پہلے یہی طبقہ تھا جسے بائیس خاندانوں کی سب سے زیادہ تکلیف تھی-بھٹو دور میں اسے وڈیرہ شاہی کے فوبیا نے ستا مارا تھا

پورے نظام کو باجائز قرار دینے کا فریضہ پیپلز پارٹی کی تحریک نے سرانجام دیا اور اس تحریک کا روح رواں بھٹو تھا

جو کام ہمارے ملک کی سند یافتہ ترقی پسند،انقلابی ،مارکسی ،لیننی اور پرولتاری پارٹیاں پچیس سال یا اس سے زیادہ عرصے میں نہ کرسکیں ،اسے بھٹو نے دو سے تین سال کے اندر کردکھایا تھا-کوئی مشینی مادیت پرست اگر یہ کہے کہ یہ تو ہونا ہی تھا اگر بھٹو نہیں کرتا تو کوئی اور کرتا تو مجھے اس کی سادگي اور بے بسی پر رحم آئے گا

بعض ترقی پسندوں کا خیال ہے کہ داتا گنج بخش اور قلندر شہباز کی درگاہوں پر سونے کی انیٹیں لگاکر پیر پرستی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے-اگر اس کو فیوڈل سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو یہ زندہ پیروں اور مولویوں کے غلبے کو ختم کرنے کے لیے مردہ پیروں کا ٹیکٹیکل (تدبیری)استعمال ہے

بھٹو فوبیا درحقیقت امیر اور درمیانے طبقے کا ‘عوام فوبیا’ ہے اور بھٹو مانیا درحقیقت فاشسٹ اور بونا پارٹسٹ قوتوں کے خلاف عوام کی مزاحمت کا اظہار ہے

پاکستان میں لڑی جانے والی جنگ اس وقت بھٹو اور اس کے مخالفین کے مابین سیاسی رسہ کشی نہیں رہی-یہ ایک بہت اونچی سطح پر ظالموں اور مظلوموں کے درمیان جنگ ہے جس میں عوام دشمن قوتیں ‘بھٹوازم’کو ختم کرنے کی آڑ میں عوام کو ان کی خود اعتمادی ،سیاست میں سرگرم شرکت اور ملک کا حقیق وارث بننے کی آس سے اور مزدوروں کو حاصل شدہ قانونی حقوق سے محروم کردینا چاہتی ہیں تاکہ اس ظلم و استبداد کے نظام میں پڑے ہوئے شگاف کو جلدی سے بھر دیا جائے۔۔۔۔۔۔مظلوم عوام نے بھٹو کو اپنی مزاحمت کی علامت بنادیا ہے

میں نے ڈاکٹر فیروز احمد کے لکھے اداریے سے چند اقتباسات درج کیے-یہ اداریہ فروری 1978 میں لکھا گیا تھا-یعنی تقریبا ایک سال گذر چکا تھا ضیاء کے مارشل لاء کو لگے-اس وقت ڈاکٹر فیروز نے جو لکھا اس کی صداقت کی گواہی آنے والے وقت نے بہت تیزی سے دی-

ایک طرف تو 5 جولائی کے بعد حکمران اور طاقت ورطبقات تھے اور ان کے پیچھے لگنے والا درمیانہ طبقہ کے نام نہاد دانش ور تھے جو بھٹو کے خلاف اکٹھے ہوگئے تھے-

وہ کال کوٹھڑی میں بند بھٹو کے جسم کی موت دیکھنے کے خواہاں تھے-ان کا خیال تھا کہ بھٹو کو جسمانی موت آئی تو اس ملک کے اندر مزدوروں،کسانوں،دیہی غریبیوں ،شہری غریبوں اور طالب علموں کے اندر شعور کی جو لو آئی ہے اور “طاقت کا سرچشمہ عوام “ہونے کا جو سحر بھٹو نے پھونکا ہے وہ خود بخود ختم ہوجائے گا-

بھٹو اور عوام میں فاصلے پیدا کردئے گئے اور سارے دیوانوں کو ٹکٹکی پر باندھنے،کوڑوں سے پیٹھیں سرکرنے کا حکم صادر ہوا-پورے پاکستان کو سنسرزدہ کردیا گیا- اور ملک بھر کی جیلوں کو سیاسی قیدیوں سے بھر دیا گیا-یونیورسٹیاں اور کالج اذیت خانے بن گئے-اور یہ سب کرکے سوچا گیا کہ بس اب بھٹو کو سولی پرچڑھانے کی دیر ہے اور قصّہ ختم ہوگیا۔

ایک طرف ضیاءالحق اور رجعت پرست قوتیں رات کے اندھیرے میں راول پنڈی کی سنٹرل جیل میں چپکے خوشبو کے بدن کو زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کررہے تھے تو دوسری طرف عوام نے اپنا بھٹو تخلیق کرنا شروع کردیا تھا-جو بھٹو ان سے چھیننے کی تیاری کی جارہی تھی عوام نے اس بھٹو کو اپنے دل کے نہاں گوشوں میں پھر سے بنانا شروع کرڈالا تھا۔

یہ بھٹو کسان اپنے کھیتوں میں ،مزدور اپنے کام کی جگہوں پر،طالب علم اپنی درس گاہوں میں ،مذھبی اور نسلی اقلیتیں اپنی عبادت گاہوں اور ثقافتی مراکز میں جنم دے رہے تھے-

پھر جب 4 اپریل کو بھٹو کے جسد خاکی کو موت کی نیند سلادیا گیا اور خاموشی سے گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں دفنادیا گیا تو وہاں بھٹو کی قبر کو عوام نے اپنے سیاسی مرکز کی حثیت دے ڈالی-یہ سیاست کی کربلا بن گئی جہاں بھٹو دفن نہیں ہوا بلکہ عوام نے اپنی ساری امیدوں اور اپنی آرزؤں کو وہاں مدفون پایا اور عوام نے اس خزانے کو حاصل کرنے کے لیے گڑھی خدا بخش کے قبرستان کو انقلاب کا مرکز بنا ڈالا-

میں کہتا ہوں کہ بھٹو ایک شخص نہیں رہ گیا تھا بلکہ اب یہاں ایک اسطور اور ایک متھ کی تشکیل ہورہی تھی-اور یہ متھ عوام بنارہے تھے-

ٹپکتی چھت کے نیچے بھٹو رہتا ہے-ایک کسان کو اپنی زمین میں بھٹو چلتا نظر آتا تھا-ایک کچی ابادی کے مکینوں کو رجسٹریوں میں لکھی عبارتوں کے پس پردہ بھٹو کی شبیہ نظر آتی تھی-مڈل ایسٹ میں بیٹھے لاکھوں محنت کشوں کو ریالوں،درھموں اور دیناروں میں بھٹو نظر آتا تھا اور گاؤں،قصبوں کو ملانے والی سڑکیں اور پلوں سے گزرنے والوں کو بھٹو نظر آتا تھا-یہ عوام کی متھ ہے جو کبھی مرنے والی نہیں ہے۔

عوام نے اپنی مزاحمت اور لڑائی کے لیے بھٹو کو ایک متھ اور اسطور کے طور پر ہی نہیں چنا تھا بلکہ انہوں نے بھٹو فوبیا میں مبتلا ضیاء اور اس کے حامیوں کی تصویر نو بھی کی تھی-دجال،یزید،ابلیس ،کانادجال اور نہ جانے کیا کیا القاب ملے تھے ہوا میں پھٹ جانے والے کو-

مارشل لاء آج بھی ایک بھیانک خواب لگتا ہے عوام کو اور بھٹو مائتھالوجی اب بھٹوز مائتھالوجی میں بدل گئی ہے کیونکہ گڑھی خدا بخش میں بھٹو،بیگم نصرت بھٹو،بے نظیر ،شاہ نواز اور مرتضی بھٹو کی قبروں کے ساتھ ساتھ درجنوں حواریوں کی قبور بھی ہیں اور ان کی یاد میں شہید مینار بھی ہے-

اور یہ سب اب گوشت پوست سے زیادہ ایک اساطیری کہانی میں بدل گئے ہیں-

عوام نے اپنے خوابوں کے رنگ بھٹوز کی قبروں پر کرڈالے ہیں-اب شاہ نواز کا بیٹا اور مرتضی کا پوتا ذلفی تو ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا مگر آپ کو کسان کا بھٹو،غریب کا بھٹو،طالب علم کا بھٹو،شاعر کا،ادیب کا،دانشور کا،عورتوں،اقلیتوں کا بھٹو ہر جگہ ملے گا-

متھ کبھی مرا نہیں کرتی زندہ رہتی ہے-اور مائیتھالوجی میں جو رام بن جائے وہ رام ہی رہتا ہے اور جو راکھشش ہوجائے وہ راکھشش ہی رہتا ہے-

عوام نے اپنی مائتھالوجی میں راکھشش ضیاء کو قرار دیا –اس راکھشش کے اپنے چیلے اس سے تعلق پر شرمندگی کا اظہار کرتے پھرتے ہیں-اور راکھشش کا بیٹا اسمبلی میں بھٹو کو آمر آمر کہہ کہہ کر اپنا گلا بٹھاتا ہے مگر عوام اس کی بدتمیزی کو جلن کا نتیجہ سمجھنے میں دیر نہیں لگاتے۔

بھٹو مائتھالوجی اس قدر طاقت ور تھی کہ اس کو زیڈ اے سلہری،آئی ایچ برنی  جیسوں کی ایول ذھانت مار نہ سکی تو آج کے لونڈے کیا مار سکیں گے۔

جو سولی چڑھتے ہیں

پھول بھی ان کی قبروں پر چڑھتے ہیں

جن کے لاشوں سے کربل سرخ ہوتی ہے

وہی لاشیں متھ بنکر ذھنوں کو تسخیر کرتی ہیں

جن کو رات کی تاریکی میں

چپکے سے دفنادیا جاتا ہے

وہ مدفن صبح آفتاب بن جاتے ہیں

اک زمانہ روشنی پاتا ہے

تیرگی کا نشان مٹ جاتا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here