نوٹ: کارے سنتوس ہسپانیہ (اسپین) کے شہر متارو میں 1970ء کو پیدا ہوئی۔ یہ ہسپانیہ کے شہر بارسلونا کے شمال میں واقع ہے۔ وہ آٹھ سال کی تھی،جب اس نے لکھنا شروع کیا، اور وہ سوائے لکھنے کے اور کسی چیز کی آرزو مند نہ تھی۔14 سال کی عمر میں اس نے  ادبی تحریروں کے  ایک مقابلے میں پہلا انعام جیت لیا اور 25 سال کی عمر میں اس کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ سامنے آگیا۔ تب سے ابتک اس کے چھے ناول، کہانیوں کے چھے مجموعے اور شاعری کی دو کتابیں چھپ چکی ہیں۔ اس نے بچوں کے لیے کافی مقبول کتابیں لکھی ہیں، اور بچوں کا ادب لکھنے والے مصنفوں میں وہ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ادیبہ ہے۔اس کی کتابوں کا ترجمہ فارسی جرمن، سویڈش،ڈچ،پولش، اطالوی،لتھوینی،کورین، پرتگیزی اور دیگر کئی زبان ہوا ہے۔ وہ ہسپانیہ کے کثیرالاشاعت قومی اخبار ال مانڈو میں ادبی نقاد کے طور پہ کام کرتی ہیں۔ ہسپانیہ کے نوجوان ادیبوں کی تنظیم کی وہ بانی ہیں۔ وہ اپنے وقت کا ایک بڑا حصّہ اپنے تین بچوں کی پرورش میں صرف کرتی ہیں۔ جو ان کے بقول ان کے فن کا عظیم نمونہ ہیں۔ 2011ء میں ان کا نیا ناول ‘ بند کمرے’ شایع ہوا ہے۔ جس کہانی کا اردو ترجمہ آپ پڑھنے جارہے ہیں، اسے انگریزی قالب میں عالمی شہرت یافتہ مترجم کرسٹینا میک سیوینی نے ڈھالا، جو ناروچ برطانیہ کی رہنے والی ہیں۔ یہ کہانی 2009ء میں کارے سنتوس کے ‘ وہ جو دھاڑتے ہیں’ کے عنوان سے چھپنے والی کہانیوں کی کتاب میں شامل ہے۔ اردو ترجمہ عامر حسینی نے کیا ہے ،جو ایسٹرن ٹائمز کے مدیر ہیں۔ آپ اس کا انگریزی ترجمہ ایسٹرن ٹائمز کی انگریزی ویب سائٹ پہ پڑھ سکتے ہیں۔

 

دنیا اپنے ناقابل دید شہری کے وجود سے باخبر ہوچکی ہے۔لیکن کوئی بھی نہیں جانتا کہ تم یہاں ہو۔ ایچ جی ویلز

میں نے اسے ہماری پہلی بار ہونے والی گفتگو میں ہی بتادیا تھا کہ میں نظر نہیں آتا۔

اگرچہ اس نے میری بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔

 نہیں ،میں نے اس کے شک کو دور نہیں کیا۔ سچ تو یہ ہے،میں عام طور پہ اس بارے بات ہی نہیں کرتا؛ لوگ کسی غیر معمولی بات کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اگر آپ اس چیز کا حصّہ ہوں جسے غیرمعمولی سمجھا جارہا ہوتا ہے تو یہ بات پریشان کن ہوسکتی ہے۔

میں گالا کے بارے میں قریب قریب سب جانتا تھا۔ میں کسی کے سامنے کبھی اعتراف نہ کی گئی خواہشات اور اس کی شادی کے بوریت پہ مبنی عرصے (کی زندگی) سے بھی آگاہ تھا۔ مجھے اچھے سے پتا تھا کہ (اس کی شادی) کے آخری سال کس قدر بے بسی کے تھے، جب اس نے بچے کی خواہش کی تھی اور اس کے شوہر نے سپاٹ طریقے سے صاف انکار کردیا تھا اور کسی طرح کے باہمی صلاح مشورے کی گنجائش بھی نہیں چھوڑی تھی۔

اس نے بتایا تھا،  “اسے لگتا تھا جسے وہ وقت کو جامد کرنا چاہتا ہو۔ ایسے گویا ہم مستقل طور پہ انسٹال کردہ اس ناقابل برداشت  صورت حال میں خوش  تھے۔”

اس رات گالہ نے دوسرے مواقع سے کہیں زیادہ اداسی کے ساتھ اپنی شادی سے جڑی مشکلات کے بارے میں بات کی تھی ۔ اس نے دو افراد کے درمیان اچانک پیدا ہونے والی خلیج اور چشمک بارے بات کی،جسے کبھی بھی ختم نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس نے  اپنی پریشانی، دست برداری اور خاموشی کے بارے میں بتایا تھا۔

ہمارے پاس اب ایک دوسرے کو کہنے کے لیے کچھ اور نہیں رہا تھا۔ روز،روز بس ایک جیسی باتیں ہوا کرتیں۔

مجھے یاد تھا، جوں ہی میں اسے چیٹ روم میں ملا تھا تو اس نے مجھے بتادیا تھا کہ وہ شادی شدہ ہے اور مجھ سے پوچھا تھا کہ اس سے اسے کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا؟

 ظاہر سی بات ہے،  مجھے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اس کی اور دوسری وجوہات میں سے ایک یہ تھی کہ اس وقت وہ میرے لیے یکسر اجنبی تھی، ایسی ہستی جس سے مجھے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ مجھے اس عین ٹھیک  اس لمحے میں ادا کیے گئے الفاظ بالکل یاد تھے جبکہ مجھے شدید غصّہ آرہا تھا۔ میں تو سمجھ ہی نہیں سکا تھا کہ گالا ایک ایسے آدمی کے ساتھ کیا کررہی تھی، جو اس کی قدر پہچاننے سے قاصر تھا۔ میں اس تصور کو برداشت ہی نہیں کرسکا تھا کہ وہ ایک دوسرے مرد کے ساتھ راتوں کو سوئے، جبکہ میں اس کی طلب میں مرا جارہا تھا۔ میں اس کی محبت میں گرفتار ہوچکا تھا۔

شاید یہ میرا طیش تھا جس نے مجھے بولنے پہ مجبور کردیا۔ یا یہ وہسکی کے چار جام کا اثر جو میں لنڈھا چکا  تھا۔

میں نے اسے چیٹ بار میں لکھا تھا کہ میں اس کے سامنے کچھ باتوں کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔ اسی لمحے، میں نے اسے اپنے نظر نہ آنے کے بارے میں بتادیا تھا۔

ردعمل میں وہ الجھن کا شکار لگتی تھی ۔ نارمل انداز میں وہ چند لمحوں میں جواب ٹائپ کردیا کرتی تھی ۔ لیکن اس موقعہ پہ، میں نے اندازہ لگایا جیسے وہ لفظوں کی چھان پھٹک کررہی ہو مگر جن کی اسے تلاش تھی،وہ مل نہ رہے ہوں۔ میں نے سوچا کہ بہتر ہوگا کہ میں اپنے مدعا کو مزید پھیلاؤں:

میں تمثیلی طور پہ اپنے ناقابل دید ہونے کی بات نہیں کررہا۔ میں واقعی نظر نہیں آتا۔ یہ ایک ایسا نایاب جنیاتی بدلاؤ ہے جو ہمارے خاندان کے مردوں میں پایا جاتا ہے۔ ایک تکلیف دہ، ناقابل علاج نقص۔

مجھے ایسا لگا کہ وہ متاثر ہوگئی ہے اور وہ اس کی تکنیکی تفصیلات جاننا چاہتی ہے؛ کیونکہ اس نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میں نے اپنی تعلیم کیسے مکمل کی، جاب کیسے تلاش کی، کیسے میں کپڑے پہنا کرتا تھا اور سیکس کیسے کرتا تھا؟ میں نے اسے بتایا تھا کہ کپڑے پہننا میرے لیے کبھی مسئلہ نہیں بنا۔ میرے جیسوں کے لیے خصوصی کپڑا بنا جاتا تھا، اور ایسے ہی (خصوصی اہتمام  کے ساتھ) میری تعلیم کا مرحلہ طے ہوا تھا/ میری طبّی تشخیص کا مطلب تھا میرے لیے فاصلاتی طرز تعلیم بہترین آپشن تھا۔ اور حقیقت یہ تھی کہ میرا تعلیمی ریکارڈ شاندار تھا۔ مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ میں اسے متاثر کرنے کی کوشش کررہا تھا،جب میں نے اسے بتایا تھا کہ میں بہت زبردست طالب علم تھا اور میں نے پرائمری سے لیکر پی ایچ ڈی تک پہلی پوزیشن لیتا رہا تھا۔ اور یہ پوزیشن میں نے بنا کسی مشکل سے حاصل کی تھی۔ یہ قدرتی بات تھی کہ میں ریسرچ کی طرف گیا،جیسا کہ یہ طے تھا کہ مجھے اپنے شعبے کا سب سے معزز ماہر طبعیات ہونا چاہیے۔

میں نے اسے بتایا کہ مجھے نوکری تلاش کرنے میں کبھی پریشان نہیں ہونا پڑا تھا۔ میرے جیسی حالت کے لوگ عمومی طور پہ جن مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں، ان کو ختم کرنا بھی میرے لیے زیادہ مشکل نہیں تھا۔ ایسی صورت حال میں یہ مشکلات کچھ زیادہ پیش آتی ہیں،جبکہ کوئی بھی ایک ایسے آدمی کو ملازم رکھنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا تھا،جس کے بارے میں یہ یقینی طور پہ بتایا نہ جاسکے کہ وہ کہاں موجود ہے۔ اگرچہ کچھ دوسری علامتوں سے یہ پتا چل سکتا تھا۔  مثال کے طور پہ بہت غور سے دیکھنے والا، جہاں میں بیٹھوں گا،وہاں ہلکا سا گڑھا پڑتا دیکھ لے گا، اگر نشست کا میٹریل بہت سخت ہے تو یہ مشکل سے نظر آئے گا، لیکن اگر نرم بھی ہو تو جو ایسے مظہر کا عادی نہ ہو تو اس کے لیے یہ تلاش کرنا مشکل ہوگا۔ میرے کام کی جگہ پہ یہ دیکھنا زیادہ مشکل نہیں ہے، کہ ٹیلی فون حرکت میں آتے ہیں، قلم اپنی خطاطی کا کمال کاغذ پہ دکھاتے ہیں اور کمپیوٹر کي بورڈ پہ ایک تیز رفتار سے اوپر نیچے ہوتی ہیں، اور سکرین پہ ٹائپوگراف علامات ابھرتی ہیں، گویا کہ ایک مافوق قدرت قوت کے وہ زیر اثر ہوں۔

لازمی طور پہ گالا بہت حیران ہوئی ہوگی۔میرے پاس اس سے ہٹ کر کسی اور طرح سوچنے کی کوئی دوسری وجہ نہیں ہے۔ مجھے یہ یقین رکھنا ہی تھا کہ وہ فون پہ تھی یا وہ محض چیٹ روم چھوڑ گئی ہوگی اور سبب کوئی فوری ضرورت ہوگی۔ آن سکرین بات چیت کے دوران موجودگی یا عدم موجودگی کے درمیان فرق بتانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

میں نے اسے یہ بتایا تھا کہ میری پیشہ وارانہ زندگی میں کبھی بھی روکاوٹوں کے پہاڑ نہیں کھڑے ہوئے تھے۔ یہ سب بتاتے ہوئے،میں نے اسے بتایا کہ مگر میں یہی بات محبت اور سیکس کو لیکر اپنی زندگی کے بارے میں نہیں کرسکتا تھا۔ ایسی بات چیت  کے آخر میں میری حالت بہت خراب ہوجاتی ہے اور بے تکلفی سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت میں بری طرح سے بکھرا ہوا ہوں۔

مجھے یہ بھی خیال آیا تھا کہ وہ جملہ ایک جال کا کام دے سکتا تھا۔ جلد ہی گالا کو (یہ سب جاننے میں ) بہت دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ مجھے کس قسم کی مشکلات کا سامنا رہا تھا۔ میں نے (گالا کا جسمانی قرب) پانے کے لیے یہ کھیل جان توڑ کر کھیلا اور ایسے ظاہر کیا جیسے میں اس پہ بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔(یہ بالکل سچ بھی تھا) لیکن جب اس نے اصرار جاری رکھا تو میں نے بھی ہتھیار ڈال دیے۔

میں معمول کی رفتار سے یہ فقرہ ٹائپ کیا،

‘ عورتوں کی اکثریت اس خیال کا بوجھ سہار نہیں پاتیں کہ ان کو ایسے آدمی کے ساتھ سونا ہے جو نظر نہیں آتا۔’

میں حیران ہوگیا کہ کتنی جلدی اس کا جواب آگیا تھا:

“میں (ان عورتوں میں) شامل نہیں ہوں”

“تم شاید محض اس لیے کہہ رہی ہو کیونکہ تم مجھے ملی نہیں ہو۔”

” نہیں، واقعی میں ان عورتوں کی طرح نہیں ہوں۔ میں اس لیے کہہ رہی ہوں کیونکہ میں تم سے بہت

عرصے سے ملنا چاہتی تھی اور میں نت نئی خبروں سے وحشت کا شکار نہیں ہوتی۔”

میرے تجربے میں،تم سے بہتر ایک عورت کی خواہشات کو قبول کرنے والا کوئی اور نہیں ہوسکتا۔

************************************************************************************

میں نے ہوٹل رٹز کا کمرہ نمبر 603 بک کیا۔ یہ نمبر اتفاقیہ منتخب نہیں کیا گیا تھا: میں جون کی تین تاریخ اور ہماری پہلی ڈیٹ سے چار مہینے قبل ملے تھے۔ چار مہینوں میں ہر دن ہم نے گھنٹوں چیٹ کی تھی۔ میں نے رٹز ہوٹل کا انتخاب نہ صرف اسے متاثر کرنے کے لیے کیا تھا،بلکہ اس کی وجہ میری میری کزن بھی تھی جو میرے معاون تھی، وہاں کام کرتی تھی۔ میں اپنی ڈیٹ کے وقت سے کچھ پہلے تمام انتظام کی تفصیل سے آگاہ ہونے وہاں پہنچ گیا تھا۔ میں نے اپنےکزن کو کہا کہ وہ اس کمرے کی دوسری چابی خاتون کو دے گی، جو اپنے آپ کو مسز ویلز سے متعارف کرائے گی۔ ویلز میرا چیٹ روم آئی ڈی تھی۔ جب میں اس کی آمد کا منتظر تھا، تو میں نے مناسب ماحول بنالیا تھا: روشنی مکمل غائب، ملیح موسیقی، فرنچ شمپئن جو روم سروس کی جانب سے تازہ فراہم کی جانی تھی اور نہ الٹنے والا بیڈ۔ میں اپنی بے صبری کو ظاہر ہونے دینا نہیں چاہتا تھا یا اس کے سامنے برا تاثر پیش نہیں کرنا چاہتا تھا۔

وہ وقت پہ پہنچ گئی۔ اپنے پاس چابی سے کمرہ کھولا، اور چھوٹی سی بنی راہداری کے درمیان ٹھہرگئی۔

ہیلو؟”  اس نے کہا

میں نے اسے آنکھیں بند کرنے کو کہا، اس نے فوری حکم مانا۔ میں سمجھ گیا  تھا کہ وہ مسکرارہی ہے اور جتنا میں سوچا تھا،اس سے کہیں زیادہ دلکش ہے۔

میں نے اپنے لبوں کو اس کے کندھوں تک لے گیا اور اس کے پرس کو کھسکادیا۔ میں نےاس کے ننگے بازؤں کو چوم لیا۔ پھر اس کی ہتھیلی کی پشت پہ بوسہ دیا۔ اس کی مخروطی انگلیوں کو ایک کے بعد ایک کو چوما۔ میں نے اس کی جلد کا ذائقہ چکھا، اپنے لبوں کو اس کی پیشانی پہ حرکت دیتا ہوا،اس کی کہنیوں پہ آکے روک دیا۔ جرآت کرتے ہوئے، میں نے سمت بدلی اور اس کی چھاتیوں کی طرف بڑھا۔ میری اس حرکت نے اس کو لرزا دیا۔ میں نے سوچا کہ وہ لمحہ آگیا ہے کہ میرا منہ اس کے منہ کو پالے۔ بوسے نے اسے لمبی الجھن میں ڈال دیا۔ اس کی انگلیوں نے میرے رخساروں کو ٹٹولا اور مجھے چھوا۔ آہستہ آہستہ اس نے ایک اندھے شخص  کی طرح اپنے بازو میرے گرد پھیلادیے۔ اس نے میرے سر کے بالوں کو سہلایا۔ نرمی سے میرے کاندھوں پہ ہاتھ پھیرے۔ میری پشت پہ مساج کیا، میری گردن کی پشت اور بھنوؤں پہ ہاتھ پھیرے۔

میں نے کہا،’تمہارے  نابینا پن نے مجھے قابل دید بنادیا ہے۔’

اس نے جواب دیا، ‘ تمہاری آواز۔۔۔۔۔۔”

میں نے اس کے بات کو مکمل کرنے کا انتظار کیا،لکین وہ اس سے آگے کچھ نہ بولی۔ میں اسے دھیرے سے بستر کی طرف لے گیا اور اسے لیٹ جانے دیا۔ ہم نے اوپر چادر نہیں لی تھی۔

مجھے یقین تھا کہ اگلے دو گھنٹے وہ بات نہیں کرے گی،جب اس نے یک دم یہ کہا،” میں چاہتی ہوں کہ میں پھر کبھی آنکھیں نہ کھولوں۔’

***

کئی ہفتوں تک،ہم ہر منگل کو ملتے رہے۔ اسی دن، اسی کمرے میں، اسی مینو کے ساتھ ، اسی طرح سے سہلانے اور اندھے پن  کی ریت کے ساتھ ۔ میں کمرے میں پرچھائیوں میں اس کا منتظر ہوتا تھا اور وہ مجھے تلاش کرلیتی، اور بہت زیادہ پیار اور جوش اس میں بھرا دکھائی دیتا۔ دوسری مرتبہ میں اس نے ایک ایسا نقاب ساتھ لاکر مجھے حیران کردیا، جو سوتے میں استعمال ہوتا تھا۔ اسے اس نے اپنے پرس میں رکھا ہوا تھا۔ جونہی وہ اندر داخل ہوئی تو اس نے پرس کو فرش پہ گرنے دیا اور نقاب آنکھوں پہ چڑھالیا، اور اعلان کیا: 

“میں تیار ہوں۔”

جب لذت وصال نے ہماری بھوک چمکادی تو ہم رنے روم سروس کو کال کی،میں اسے اپنے ہاتھوں سے کھلایا کرتا تھا۔ اس نے کھاتنے کے دوران بھی نقاب نہیں ہٹایا۔ میں اس کے منہ میں لقمہ ڈالتا،وہ میری انگلیوں کوچاٹ کر اس کا مکمل ذائقہ چکھا کرتی تھی۔ وہ نوکری کی جگہ اپنی مشکلات بارے بات کرتی، اپنی ازواجی زندگی بارے بتاتی،جو اس کے خیال میں اس کی بدترین غلطی تھی اور ان شوق کے بارے میں بتایا کرتی تھی، جن کو پورا کرنے کے لیے اس کے پاس وقت بہت کم تھا۔ بعض اوقات اس کے الفاظ میرے لیے اداسی کا کرب بن جاتے تھے۔ جیسے جب وہ کہتی تھی:

“جب میں اپنے شوہر کے ساتھ ہوتی ہوں ،میں تم جیسا محسوس کرتی ہوں۔”

“خوش قسمت؟” میں نے پوچھا۔

“نہیں، غیرموجود”

ان خوشگوار بات چیت کے ادوار میں سے ایک کے دوران، میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھے کچھ بتانا چاہتی ہے۔ اس طریقے سے وہ اپنی اپنی ناپسندیدگی، اپنی اضطراری حرکات،بولنے میں ہچکچاہٹ کا پتا دیا کرتی تھی۔ اس دن مجھے اس لیے بھی اس کا احساس ہوا کہ اس نے اپنی نوکری یا اپنے شوہر بارے کچھ بھی نہ کہا۔ اس نے سارا وقت اپنے گھر کی بالائی منزل بارے بات کرتے گزارا۔ کئی سالوں بعد، وہ ہاں اوپر گئی تھی اور اس نے پرانے کاٹھ کباڑ کا ایک خزانہ دریافت کیا۔اس نے اعتراف کیا، جب وہ بہت چھوٹی تھی، تو وہ وہاں گھنٹوں گزارا کرتی،اکیلے ہی بچوں والے کھیل اپنی سہیلوں کے بغیر کھیلا کرتی تھی۔ اس نے بتایا کہ جب سے اس کی شادی ہوئی تھی تو اس نے وہاں قدم نہیں رکھا تھا۔ اس کی جزوی وجہ تو وہاں پہ نہ جانے وہ کیا دیکھے کا خوف تھا، اور اس وجہ سے بھی تھا کہ اس کو خوف تھا کہ اسے وہاں پہ اس بچی سے سامنا ہوگا جو ہونا وہ کب کا چھوڑ چکی تھی۔ لیکن وہ دوبارہ اوپر جانے سے خوش تھی۔ مجھے ایسا لگا کہ اس کی دلچسپی اس کمرے میں دھری چیزوں سے زیادہ اس کمرے میں تھی۔ وہ اسے دوربارہ سے ٹھیک کرنے کا سوچ رہی تھی۔  

فالتو پرانی چیزیں اٹھاکر پھینک دینے، اس کی صفائی ستھرائی کرکے وہ اسے اسٹڈی روم میں بدلنا چاہتی تھی۔ یہ اس کی ساری عمر کی خواہش تھی۔ ایسی جگہ جہاں وہ خود کو ساری دنیا سے کٹ کر الگ کرسکے، وقت بے وقت وہاں جاکر سو سکے، آسمان پہ چمکتے ستاروں کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ سکے، ایک ایسی جگہ جہان خواب دیکھے جاسکیں اور ایک بالکل دوسری زندگی گزاری جاسکے۔

میں ابھی اس تجسس کا شکار تھا کہ وہ مجھے یہ سب کیوں بتارہی ہے،جب اس نے اچانک سے کہا:

” آؤ وہاں رہتے ہیں ۔ وہ ہمارے لیے ایک دم ٹھیک جگہ ہے۔”

میں کنفیوژ ہوگیا۔

“میں اسے تمہارے لیے سجاؤں گی۔ ہمیں ہفتے میں ایک بار اس طرح کی عفریت ملاقاتیں نہیں کرنا پڑیں گی۔”

یہ پاگل پن تھا۔ میں آج بھی اسے ایسا ہی سمجھتا ہوں،جیسا میں نے اس وقت سمجھا تھا۔ مطلق دیوانگی۔ لیکن کتنے سارے دیوانگی والے عمل ہیں جو انسانوں سے سرزد ہوئے؟ کیا یہ محبت نہں ہوتی، جو تمام تر ممکن وجوہات کے سبب کسی کو دیوانگی میں دھکیلے جانے  دیتی ہے اور جس کے سامنے مزاحمت نہ ہوسکے،یہ اس کی سب سے بہترین قسم ہے۔ اور کیا میرے لیے خود کو چھپانے، اور چند گھنٹوں کے لیے دور رکھنے کے لیے سنہری موقعہ نہیں تھا۔ اور میرے لیے بہتر ہوتا کہ میں پایا نہ جاؤں۔

وہ میرے بارے میں کچھ بھی نہیں جانت تھی۔ اصل میں تو میں اس کے ساتھ  جو بھی کررہا تھا،وہ بد دیانتی تھی: اس سے داؤ بیچ کھیل رہا تھا، اس کو لبھا رہا تھا، اس کی پیشکش قبول کرکے، اور اس کے سامنے اپنے آپ کو آخری امید بناکر دکھارہا تھا۔

اچانک سے میں نے یہ سب صاف صاف دیکھ لیا تھا: اس طرح غائب ہوجانا مجھے وہ عذر غیر موجودگی فراہم کردیتا جس کا میں اتنے عرصے سے آرزومند تھا۔ کیا کوئی میری طرح کبھی عذر غیر موجودگی کا ایسے ضرورت مند تھا جس کی داستان کا ایسے انجام ہوا ہو۔  

***

یہ سب کچھ یوں سیدھے سبھاؤ نہیں ہوا تھا۔ میں نے اسے بتایا تھا کہ وہاں آنے سے پہلے مجھے پہلے کچھ معاملات نمٹانا ہوں گے۔ اور یہ کہ ایک آدمی یوں اس طرح سے غائب نہیں ہوسکتا۔ میں نے پیشہ وارانہ تیز رفتاری سے اپنے معاملات کو درست کیا، ایسے ظاہر کیا جیسے میں دور دراز علاقوں کا سفر کررہا تھا اور غائب ہوگیا۔ ج یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک نظر نہ آنے والا شخص غائب نہیں ہوسکتا، وہ اس  داستان کے اس موڑ پہ حیران ہوسکتے ہیں۔ وہ غلطی پہ ہیں: اس دنیا میں،جس میں بہت دیر تک ہمیں رہنا ہوتا ہے، کوئی بھی مکمل طور پہ غائب نہیں ہوسکتا۔ یہاں تک کہ میں بھی نہیں۔

گالا کی تجویز کے پانچ ہفتوں بعد، میں بالائی منزل پہ منتقل ہوگیا تھا۔ یہ تازہ تازہ اسٹڈی روم میں بدلا گیا تھا۔ وارنش / فرنیچر پہ پالش کی بو تازہ تھی۔ اور ہر چیز تازگی کی فضا میں رچی بسی تھی اور امید سے بھری لگتی تھی۔ سب سے بہتریں چیز جو میں نے کسی لمحے بھی محسوس نہیں کی تھی وہ اجنبیت تھی۔ دنیا کا شوروغل وہاں شاذ و نادر ہی پہنچا کرتا تھا۔ کبھی کبھار  بعض اوقات شانتی اور سکون اس وقت برباد ہوجایا کرتا تھا جب دھماکے کی طرح ہارن بجتا تھا اور ایسے لگتا تھا کہ کسی اور سمت سے یہ آواز آتی ہو۔ اس کے برعکس جو بالکل صاف سنائی دیتی تھی وہ چھت پہ گھونسلے بنائے پرندوں کی آوازیں ہوا کرتی تھیں۔

میری میزبان نے ایک لمبا صوفہ وہاں رکھوادیا تھا، جہاں پہ میں راتیں پڑھنے میں گزارتا اور دن کے ابتدائی گھنٹوں میں اس عورت سے وصال محبت کا لطف اٹھایا کرتا تھا جو کبھی بھی بنا نقاب کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرتی جو اس کی آنکھوں پہ دھرا ہوتا تھا۔ وہ بچے کی طرح خوش دکھائی دیتی تھی۔ اس کا رنگ نکھر گیا تھا، وہ ہمیشہ ایک وحشی سی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے رکھتی اور اس کی آواز میں نغمگی ہوتی جو مجھے ان پرندوں کی یاد دلاتی جو گھر کی چھت پہ میرے ساتھ رہا کرتے تھے۔

” میرے شوہر کو زرا برابر بھی شک نہیں ہے۔ اسے تو اس میں بھی دلچسپی نہیں ہے وہ میرے نکھرنے کو دیکھے کہ کیسا بدلاؤ میرے اندر آیا ہے۔”

میں اسے یہ بتاکر الجھانا نہیں چاہتا تھا کہ وہ تو یہاں وتا تھا۔ خوش قسمتی سے، سیڑھیوں کے آخری سٹیپ اس قدر چرچر کرتے تھے کہ آپ کو کسی کے اوپر آنے سے پہلے اپنے آپ کو سنبھالنے اور سنورنے کا موقعہ مل جاتا تھا۔ پہلی بار جب یہ ہوا تو میں ابھی کمرے کے درمیان میں کھڑا تھا،یہ امید کررہا تھا کہ وہ ان انتہائی حساسیت کے حامل لوگوں میں سے نہیں ہوگا جو اپنے اردگرد ہورہی ہر شئے کا ادراک کرلیتے ہیں چاہے ان کے حواس اس کی تصدیق نہ بھی کرپائیں۔ واپس رخصت ہونے سے زرا پہلے، اس نے اپنے قدم واپس پلٹائے۔ اس نے اس کتاب کی طرف دیکھا جو میں پڑھ رہا تھا۔۔۔جوزے کیبالیرو بونالڈ کی لکھی ہوئی، جسے میں نے صوفے پہ چھوڑ دیا تھا۔ اس نے اس کا معائنہ کیا۔ اس کے درمیان کے صفحات کو کھولا، جیسے کوئی خاص پہلو جانچ رہا ہو اور پھر اسے اپنے ساتھ لیجانے  کا فیصلہ کرلیا۔

مجھے زرا اندازہ نہیں تھا کہ اسے شاعری میں کوئی دلچسپی رہی ہو۔

جب وہ گھر پہ ہوتے، ان کی گھریلو زندگی کی بھنبنھاہٹ مجھ تک ایسے پہنچتی جیسے کسی اور دنیا سے یہ سب آرہی ہوں: پلیٹوں کی کھڑکھڑاہٹ، الیکٹرک موٹروں کی دبی دبی آوازیں، تیزی سے چلتے ہوئے قدموں کی آوازیں، باہم گفتگو کے اچٹتے فقرے اور ٹیلی ويژن سے آتی ہلکی سی بچگانہ قلقاریاں، جو مستقل آن رہتا، جیسے ان میں سے کوئی بھی کبھی خاموشی کو برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا اور جب سب آلات بند ہوجائیں تو ان کی خاموشی ان کی زندگیوں کو خوف میں مبتلا کرتی ہوں۔ رات کو اس کا شوہر زرا جلدی سونے چلا جاتا اور وہ پڑھنے کے لیے بالائی منزل پہ آیا کرتی۔  

مکمل خاموشی میں وصل محبت سے ہمکنار ہونا بہت ہیجان خیز تھا، اس بات کو یقینی بنانا ہوتا تھا کہ ایک فلور نیچے ابھی ابھی سوئے بھاڑو شوہر کی نیند میں خلل نہ پڑے۔ وہ میرے لیے اوپر کھانا لیکر آتی اور دن ڈھلنے تک مجھ سے سرگوشیوں میں باتیں کیے جاتی۔

پانچ منٹ پہلے جب اس کے بیڈروم میں گھڑیال کا الارم بند ہونے والا ہوتا،وہ سیڑھیوں سے اتر کر نیچے چلے جایا کرتی تھی۔ بعض اوقات میں اسے معذرت سنتا:

” معاف کرنا،میری اوپر کمرے میں آنکھ لگ گئی تھی۔”

اس کا شوہر پہلے اسے گھورتا اور بڑبڑاتا،لیکن فورا ہی تیار ہونے کی جلدی میں اپنی سرزنش بارے بھول جاتا۔ 

***

مجھے کبھی کبھار ہی اپنی جائے روپوشی کو کچھ دیر کے لیے چھوڑ کر جانے کی خواہش اٹھا کرتی تھی۔ جب ان میں سے کوئی گھر پہ نہ ہوتا، میں کمروں میں گھومتا پھرتا تھا۔ میں وہاں چیزوں کی بے ترتیبی کو دیکھتا۔فریج میں کسی چیز کی تلاش میں جھانکتا اور باغ میں پھولوں کے مرجھائے سر دیکھتا۔ اولین دنوں میں تو یہ کام میں نے اکٹر کیا، جب میں نے ضرورت محسوس کہ ٹی وی پہ خبریں دیکھوں(کسی واقعے کی اہمیت اتنے قریب سے کوئی نہیں پیش کرتا جتنا ٹی وی خبروں میں نشر ہوتے دیکھ کر ہوتا ہے) بعد میں، میں بیرونی دنیا میں زیادہ دلچسپی لینے لگا۔ مجھے پتا تھا کہ چابیاں کہاں رکھی ہیں اور میں گالا کی اجازت سے ان کو اٹھالیتا۔میں اڑوس پڑوس کے علاقوں کا چکر لگاتا اور بہت سی عمارتوں میں آتا جاتا۔ اور دیری ہونے سے پہلے لوٹ آتا تھا۔  اس طرح کے مٹر گشتی کے دنوں میں سے ایک دن میں نے مریم کو دیکھا۔ یہ بالکل اتفاقی اور حیران کردینے والا واقعہ تھا۔ اس نے میری سمت دیکھا اور اس نے بغور دیکھا اور اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔اور میرے دل کی دھڑکن جتنی تیز تھی،اتنی پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔

جوں جوں میری مٹر گشتی بڑھتی گئی، میرے لیے گالا کے لیے اپنے جوش کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا چلا گیا۔ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا،بلکہ میرا تھا۔ وہ اب بھی اپنے آپ کو مکمل طور پہ میرے حوالے کردیا کرتی تھی۔جب اس کا شوہر کاروباری دوروں پہ باہر ہوتا، ہم بالائی کمرے میں خود کو چھپالیتے اور دنیا کو بھلا ڈالتے۔ لیکن اس میں پہلی جتنی گرم جوشی نہیں تھی، چند ہفتوں پہلے جب وہ اپنے آپ کو میرے بازؤں میں قید رکھنا چاہتی تھی تو شک کے اس دور میں، میں نے ظالمانہ حرکات کیں: اس کی ملاقات کے لیے آمد کا اعلان کرنے والی سیڑھیوں کی چرچراہٹ پہ ناراضگی میرے لیے نئی بات تھی۔ اپنے سانس کو روک کردیوار کے ساتھ لگتے ہوئے بنا کسی پٹھے کو حرکت دیس اور ایسا ظاہر کرتے ہوئے جیسے  میں وہاں تھا ہی نہیں۔ اس کی ناخوشی اور اس کی مبینہ تنہائی کا مشاہدہ کیا کرتا تھا۔ 

خاص طور پہ ان صبحوں میں سے ایک صبح مجھے  یاد ہے جب وہ آنکھوں پہ پٹی باندھے، اپنے چہرے پہ محبت بھری مسکراہٹ لیے اور اپنے ہاتھ آگے پھیلائے، مجھے تاریکی میں ڈھونڈتے ہوئے آئی تھی۔جب اس نے یہ جان لیا کہ میں اس کی ترغیب کا عمومی جوش سے جواب نہیں دے رہا تو وہ رک گئی اور اس نے اپنا نقاب اتارا۔ اور بظاہر خالی جگہ کو دیکھنا شروع کردیا۔اس نے آہستہ سے آواز دی اور کچھ دیر وہاں کھڑے ہوکر سوچتی رہی اور سورج کی سنہری کرنوں کو گرد کے زروں کی طرح اندر آتے دیکھتی رہی اور پھر وہ واپس سیڑھیوں سے نیچے چلی گئی۔

میں نے اسے فون کال کرکے ایک دوست سے کیفے میں ملنے کا انتظام کرتے ہوئے سنا۔ وہ واپس بالائی کمرے میں آگئی اس بات کا یقین کرنے کے لیے کہ میں واقعی وہاں نہیں ہوں۔میں نے اس امید پہ سانس روک لی تاکہ وہ میری موجودگی کا احساس نہ کرلے، اور یہ مان لے کہ میں باہر جاچکا ہوں۔ میں نے دیھا کہ وہ فرش، کرسیوں، پردوں کے گرد گھوم پھر کر میری موجودگی کا احساس کرنا چاہتی تھی۔ وہ کسی بات کو لیکر مشکوک ہوچلی تھی۔ اس نے یہ سمجھنا شروع کرڈالا تھا کہ فریب ہم دونوں کے درمیان مداخلت بے جا سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ثابت ہوسکتا تھا۔ 

اس وقت میں، میرے اندر گالا کے لیے ایک گہرے تشکر کے سوا کوئی جذبہ نہیں تھا۔اس حقیقت کے باوجود بالائی کمرہ اب بھی میرے لیے بہترین ممکنہ پناہ گاہ تھی،مجھے اپنے اپارٹمنٹ، اپنی گلی،اور ایسے مردوں سے بھرا پڑوس جو نا دکھائی دینے پہ راضی نہ تھے اور بدنامی کمانے کے خواہاں تھے۔ ایک طرح سے میرے جیسے،مگر زرا مختلف طریقے سے وہ بھی پیسہ ،مقام و مرتبہ،طاقت حاصل کرنے کے آرزومند تھے۔میں تو بس حقیقت میں کچھ خاص کرنا چاہتا تھا۔ کوئی بہت بڑا کارناممہ، جو خبروں کا موضوع بنے۔ میں جانتا ہوں،یہ جینے کا آدرشی طریقہ نہ ہوتا، لیکن یہ یہ میرا اپنا تو ہونا تھا، میں نے نہ پہلے اسے مسترد کیا تھا،نہ ہی میں اب تیار ہوں۔

***

میں (بنائے گئے) منصوبوں کے انجام پہ کافی غور و فکر کرتا ہوں ۔ انجام برا ہو یا بھلا، بعض اوقات تھکادینے والا ہوتا ہے؛میں نے رات پڑنے سے پہلے کئی بار اس سے وصل محبت کیا تھا۔ نرمی سے اس کے منہ کو دبادیا کرتا تھا جب وہ چلانے کی کوشش کرتی، تاکہ اس کا شوہر ہماری آوازیں نہ سن سکے۔ جب سورج ڈھل جاتا، وہ اپنا سر میری طرف موڑ کر کہتی:

” ہر شئے جو اس تاریکی سے پرے واقع ہوتی ہے اوریہ جو خاموشی ہے،ان سے میری دلچسپی ختم ہوگئی ہے۔”

مجھے خوف کا خنجر اپنے سامنے ابھرتا دکھائی دیا، لیکن میں نے اپنے منصوبے پہ عمل جاری رکھا۔ میں  نے جیسے ہی پانچ منٹ پہلے الارم کے بجنے سے پہلے جو چیر دینے والے مطالبات کرتا تھا، اسے جاتے  دیکھا تو میں جانتا تھا کہ اس سے بہتر وقت پھر کبھی نہیں ملے گا۔

***

میں واپس گھر لوٹ آیا۔ میرے غیاب  کے دوران، کسی کو بھی کوئی شک نہیں ہوا تھا۔ چوکیدار نے میرا پولیس کو نہیں بتایا تھا،جب وہ علاقے میں تھے۔ انہوں نے مردہ عورت کے اپارٹمنٹ کو ڈی سیل کردیا تھا۔ اب وہاں پلمبر اور رنگ ساز ہی رہ گئے تھے۔ ڈھل جاؤ یا فنا ہوجاؤ، ہمارا فراموشی کی طرف یہی روش کا یہی رویہ رہا ہے۔

مجھے چند لمحے کے لیے یہ اعتراف کرنا ہے،کہ آخری بار، میرا دماغ گالا کو مار ڈالنے کے خیال سے بھی کھیلتا رہا تھا۔ حتمی قبضہ، فیصلہ کن لمحہ۔ مجھے یقین ہے، اس نے تو شکر گزار ہونا تھا۔ ایک تیز دھار چاقو اور ننگی سفید دودھیا گردن: زبردست جوڑ بنتا۔ پھر (بھل بھل کرتا سرخ) لہو۔ اس میں احتیاط لازم تھی۔ انگلیوں کے نشان مجھے بھاگنے پہ مجبور کرسکتے تھے۔ جیسے میرے پڑوسی کے ساتھ ہوا۔ اگرچہ میں اپنے کام میں استاد ہوں اور مجھے بس اپنے آپ کو انجام پہ دھیان دینے میں مصروف رکھنا تھا، پھر بھی مجھے تفصیلات پہ غور کرنا ہے تاکہ جو پہلے ہوا اس جیسا نہ ہو۔

میں نے گالا کو نہیں مارا۔ میں نے سوچا کہ بہتر ہے اسے اس کے کرب میں مبتلا رہنے کے لیے چھوڑ دوں، اس کی تصوراتی موت، اور بعد ازاں اس کی راکھ سے اس کا شاندار دوبارہ جی اٹھنا۔آخری لمحے میں، مجھے اعتراف ہے، میں محض اس کے بارے میں نہیں سوچ رہا تھا۔ میں نے اس کے شوہر کی ناخوشی اور باقی کی ساری زندگی شک کے بوجھ کو ڈھونے والی تنہائی کے بارے میں سوچا تھا۔ وہ اس طرح کے نصیب کا حقدار نہیں بنتا تھا۔ ہائے، وہ بیچارا آدمی مجھے اچھا لگا تھا۔

شاید میں نے خود اپنے بارے میں بھی سوچا تھا۔ گالا کے مرنے کے بعد بے خواب راتوں کے بارے میں بھی۔ ہر انتخاب لازمی طور پہ عمل انانیت ہی ہوتا ہے۔

میں نے گالا کو کبھی مریم کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ ایسا اس لیے کیا کہ اسے اس درد سے بچایا جائے جو برداشت کرنے کے وہ قابل نہ ہوتی۔ وہ جاننا چاہتی کہ مریم کے پاس کیا تھا جو وہ مجھ دے نہ پائی۔ اصل میں، جو بات اصل میں میرے لیے اہم ہے،وہ یہ ہے کہ دونوں اتنی مختلف نہ تھیں۔ دونوں پرجوش، خوبصورت اور عقل مند تھیں۔ ان میں سے کوئی بھی بے جا سوالات نہیں کرتی تھی۔تاہم مریم کے اندر ایک بہت نایاب قسم کلر بلائنڈ کی تھی، جس کی وجہ سے دوسرے جو نہ دیکھ پاتے،وہ دیکھ لیا کرتی تھی۔

مثال کے طور پہ، مجھے۔

اگرچہ، اب یہ سب بے کار ہے۔ اہم بات ہے،بس انجام۔ میرے ہمسائے کا خاتمہ، جو پرجوش تو تھا،لیکن عقل مند نہیں تھا۔ میری کہانی کا گالا؛مریم کے خاتمے کے ساتھ ہی انجام کو پہنچنا۔۔۔۔ جس کے بارے میں سوچنا شروع کررہا ہوں،وہ وقت جو ہر اچھی کہانی کی ضرورت ہوتا ہے۔

یہ  جاننا بہت خوبصورت  ہے یا ایسا مجھے لگتا ہے، ہر شئے کے انجام پہ ہمیشہ (بہت کچھ) ان دیکھا رہ جاتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here